دورِ جنوں سے عہدِ محبت کشید کر
عشقِ مجاز سے بھی حقیقت کشید کر
اب ختم کر یہ سلسلہءِ بحرِ وصل و ہجر
اور قلزمِ خیال سے وسعت کشید کر
جس میں تجھے ملیں نہ ترے ہم مزاج لوگ
اُس بے کراں ہجوم سے خلوت کشید کر
کر دے جلا کے راکھ جو خورشید کا غرور
اپنے لہو سے ایسی حرارت کشید کر
واعظ کی داستان کا تو حرف حرف سن
پھر حرفِ آگہی سے بصیرت کشید کر
حاکم کے در پہ سر کو جھکانے سے پیش تر
عبرت سرائے دہر سے عبرت کشید کر
خوفِ عذاب سے جو مبرا کرے تجھے
عقلِ سلیم سے وہ شریعت کشید کر
روٹی جو دے سکے تجھے دو وقت کی کھرل
زر کے نظام سے وہ معیشت کشید کر