کسی بھی معاشرے کی تباہی ہمیشہ اس کی عمارتوں کے گرنے سے شروع نہیں ہوتی، بعض اوقات اس کا آغاز انسانوں کے اندر سے ہوتا ہے، جب سوچنے کی صلاحیت کمزور پڑنے لگے، جذبات پر گرفت ڈھیلی ہونے لگے اور انسان اپنے ہی وجود سے بے خبر ہو جائے۔ آج ہماری نوجوان نسل بھی کچھ ایسی ہی صورتِ حال سے دوچار دکھائی دیتی ہے۔ بظاہر ترقی کے بے شمار راستے کھل رہے ہیں، معلومات تک رسائی پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہو چکی ہے، لیکن اس کے باوجود ایک اہم سوال اپنی جگہ موجود ہے: آخر ہماری نوجوان نسل ذہنی اور جذباتی طور پر اس قدر غیر محفوظ کیوں ہوتی جا رہی ہے؟
میں نے ہمیشہ معاشرتی، اخلاقی اور نفسیاتی پہلوؤں پر بات کی ہے۔ اگرچہ ہمارے معاشرے میں سیاسی رجحانات اور وابستگیاں بھی اہمیت رکھتی ہیں، لیکن میری دلچسپی ہمیشہ انسانی نفسیات، معاشرتی رویّوں اور ان محرکات کو سمجھنے میں رہی ہے جو کسی فرد کی شخصیت کی تشکیل کرتے ہیں۔ میرے نزدیک نفسیات کی ڈگری حاصل کر لینا ہی اصل مہارت نہیں، بلکہ انسانی رویّوں کا گہرا مشاہدہ، ان کے پسِ پردہ عوامل کی شناخت اور معاشرتی مسائل کا نفسیاتی تناظر میں تجزیہ کرنا حقیقی مہارت ہے۔
آج کالجوں اور تعلیمی اداروں میں زیرِ تعلیم نوجوان لڑکے اور لڑکیاں ذہنی دباؤ، بے چینی، احساسِ کمتری اور جذباتی الجھنوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ نوجوانوں میں مسائل کیوں پیدا ہو رہے ہیں، بلکہ سوال یہ ہے کہ ہم ان مسائل کی وجوہات جاننے کے لیے کتنی سنجیدگی سے کوشش کر رہے ہیں؟
سوشل میڈیا نے انسانی زندگی کو سہولتوں کے ساتھ ساتھ ایک ایسے مسلسل موازنے میں بھی مبتلا کر دیا ہے جہاں ہر شخص دوسروں کی کامیابی، خوب صورتی، طرزِ زندگی اور آسائشوں کو دیکھ کر اپنی ذات کا جائزہ لینے لگتا ہے۔ نتیجتاً، بعض نوجوان اپنی حقیقی صلاحیتوں کو پہچاننے کے بجائے دوسروں کے قائم کردہ معیار پر پورا اترنے کی کوشش میں اپنی خود اعتمادی کھونے لگتے ہیں۔ دوسری طرف، غیر صحت مند معاشرتی ماحول، تعلیمی دباؤ اور جذباتی تنہائی اس کیفیت کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔
ایک اور پہلو جس پر سنجیدہ گفتگو ضروری ہے، وہ مصنوعی ذہانت (AI) کا بڑھتا ہوا استعمال ہے۔ آج تعلیم سے لے کر کاروبار تک اور روزمرہ مسائل سے لے کر معلومات کے حصول تک، انسان چند لمحوں میں اپنی ضرورت کے مطابق جواب حاصل کر سکتا ہے۔ بلاشبہ، یہ جدید ٹیکنالوجی انسانی زندگی میں سہولت پیدا کر رہی ہے، لیکن کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ سہولتوں کے اس پھیلاؤ کے ساتھ انسانی تعلقات اور باہمی مکالمے کی اہمیت کہیں پسِ پشت تو نہیں جا رہی؟
آج نوجوان کے پاس سوالات کے جواب تلاش کرنے کے بے شمار ذرائع موجود ہیں، لیکن کیا اس کے پاس ایسا دوست، استاد یا قابلِ اعتماد فرد بھی ہے جو اس کی بات سن سکے، اس کے احساسات کو سمجھے اور مشکل وقت میں اس کی رہنمائی کرے؟ ٹیکنالوجی معلومات فراہم کر سکتی ہے، مگر انسانی تعلقات میں موجود جذباتی وابستگی، اعتماد اور باہمی احساس کی جگہ مکمل طور پر نہیں لے سکتی۔ مسئلہ AI کا وجود نہیں، بلکہ اس کا غیر متوازن استعمال اور انسانی رابطوں سے بڑھتا ہوا فاصلہ ہے۔
یہاں ایک سوال اور بھی اہم ہے: اگر آج ڈپریشن اور اینگزائٹی جیسے نفسیاتی مسائل زیادہ زیرِ بحث آ رہے ہیں تو کیا ماضی میں لوگ ان سے محفوظ تھے؟ حقیقت یہ ہے کہ ذہنی مسائل ماضی میں بھی موجود تھے، لیکن ان کے بارے میں آگاہی، تشخیص اور اظہار کے مواقع مختلف تھے۔ اس لیے موجودہ صورتِ حال کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم محض ماضی سے موازنہ کرنے کے بجائے ان عوامل کا جائزہ لیں جو آج کے انسان کی ذہنی صحت کو متاثر کر رہے ہیں۔
ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ نوجوانوں کی نفسیاتی صحت صرف انفرادی مسئلہ نہیں۔ خاندان، تعلیمی ادارے اور معاشرتی اقدار سب اس کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر ایک نوجوان کو ہر وقت دوسروں سے بہتر ہونے، ہر حال میں کامیاب دکھائی دینے اور اپنی ناکامیوں کو چھپانے کا دباؤ محسوس ہو تو اس کے لیے اپنی حقیقی جذباتی ضروریات کو سمجھنا مشکل ہو سکتا ہے۔ اسی لیے نوجوانوں کو صرف تعلیمی کامیابی کے معیار پر پرکھنے کے بجائے ان کی ذہنی کیفیت، جذباتی ضروریات اور انفرادی صلاحیتوں کو بھی اہمیت دینا ضروری ہے۔
ذہنی صحت سے متعلق آگاہی، تعلیمی اداروں میں نفسیاتی رہنمائی، والدین کی جانب سے غیر مشروط جذباتی تعاون اور ٹیکنالوجی کا متوازن استعمال اس صورتِ حال میں مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اسی طرح، جب ذہنی پریشانی مسلسل برقرار رہے اور روزمرہ زندگی متاثر ہونے لگے تو مستند ماہرِ نفسیات یا متعلقہ طبی ماہر سے مدد حاصل کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرنی چاہیے۔ لیکن میرے نزدیک اصل سوال ان تمام تجاویز سے بھی آگے ہے۔
ہم ایک ایسی نسل کی بات کر رہے ہیں جسے مستقبل کی قیادت کرنی ہے، معاشرے کو سنبھالنا ہے اور آنے والی نسلوں کی تربیت کرنی ہے۔ اگر آج ہم اس کی ذہنی کیفیت، جذباتی ضروریات اور فکری صلاحیتوں کو نظرانداز کر دیں گے تو کل اس کے نتائج محض چند افراد تک محدود نہیں رہیں گے، بلکہ پورا معاشرہ ان سے متاثر ہو سکتا ہے۔
ذرا سوچیے! ہم اپنے بچوں کو بہترین تعلیم دینے، جدید سہولتیں فراہم کرنے اور کامیاب مستقبل کی ضمانت دینے کے لیے تو بے شمار کوششیں کرتے ہیں، لیکن انہیں ذہنی طور پر مضبوط بنانے، ناکامی برداشت کرنا سکھانے اور اپنے احساسات کو سمجھنے کے قابل بنانے کے لیے کیا کر رہے ہیں؟
شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم نوجوان نسل کے رویّوں پر فیصلے صادر کرنے کے بجائے اپنے معاشرتی رویّوں کا احتساب کریں۔ کیونکہ جس معاشرے میں انسان کی کامیابی کو اس کی ذہنی صحت سے زیادہ اہمیت دی جائے، جہاں احساسات کا اظہار کمزوری اور مدد طلب کرنا بے بسی سمجھا جائے، وہاں مسائل صرف نوجوانوں کے اندر تلاش کرنا ناانصافی ہے۔
نسلوں کو تباہ کرنے کے لیے ہمیشہ بڑے سانحات ضروری نہیں ہوتے، کبھی کبھی مسلسل نظرانداز کیے جانے والے احساسات، غیر محسوس دباؤ اور خاموش ذہنی اذیت بھی انسان کی شخصیت کو اندر سے کمزور کر دیتی ہے۔
سوال یہ نہیں کہ ہماری نوجوان نسل بدل کیوں رہی ہے، سوال یہ ہے کہ ہم نے اسے کن حالات میں پروان چڑھنے دیا ہے؟