دلِ صد چاک میں اک حسرتِ امکاں لے کر
تو بھی آیا ہے کہاں چاک گریباں لے کر
شہر میں اب بھی کوئی سر ہے سلامت شاید
حاکمِ شہر پھرے نیزہِ عریاں لے کر
دلِ صد پارہ سے برسے گی یہ بارش کب تک
کب صبا آئے گی پیغامِ بہاراں لے کر
مرے بچوں کے کھلونوں کے چرا کر پیسے
اڑتے پھرتے ہیں وہ اپنا رخِ تاباں لے کر
مجھ سے پورے نہیں ہوتے مرے گھر کے خرچے
کیسے جاؤں میں وہاں دیدہِ گریاں لے کر
چھوڑ کر روزے، ہے مزدوری کمائی میں نے
تاکہ گھر جاؤں میں کچھ عید کے ساماں لے کر
تو نے گر بول دیا سچ سرِ بازار کھرل
کوئی آئے گا یہاں مژدۂ زنداں لے کر