آنکھوں کا وہ پیغام قضا ایک طرف ہے
حسن ایک طرف اور ادا ایک طرف ہے
آیا نہیں مقتل سے سلامت کبھی کوئی
لب پر جو رواں ہے وہ دعا ایک طرف ہے
پلڑے میں ترازو کے برابر یہ تُلے ہیں
بت ایک طرف اور خدا ایک طرف ہے
عارض کی ہے سرخی کہ ہے پیغام اجل کا
پلکوں میں چھپی ہے جو حیا ایک طرف ہے
امید کے خاموش چراغوں کے مقابل
اب ظلم کی سفاک ہوا ایک طرف ہے
وہ گُنگ زبانوں کو میسر ہی نہیں ہے
پتھر کو جو توڑے وہ صدا ایک طرف ہے