1. ہوم
  2. غزل
  3. عمران کھرل
  4. آنکھوں کا وہ پیغام قضا ایک طرف ہے
Imran Kharal

آنکھوں کا وہ پیغام قضا ایک طرف ہے

آنکھوں کا وہ پیغام قضا ایک طرف ہے
حسن ایک طرف اور ادا ایک طرف ہے

آیا نہیں مقتل سے سلامت کبھی کوئی
لب پر جو رواں ہے وہ دعا ایک طرف ہے

پلڑے میں ترازو کے برابر یہ تُلے ہیں
بت ایک طرف اور خدا ایک طرف ہے

عارض کی ہے سرخی کہ ہے پیغام اجل کا
پلکوں میں چھپی ہے جو حیا ایک طرف ہے

امید کے خاموش چراغوں کے مقابل
اب ظلم کی سفاک ہوا ایک طرف ہے

وہ گُنگ زبانوں کو میسر ہی نہیں ہے
پتھر کو جو توڑے وہ صدا ایک طرف ہے