1. ہوم
  2. کالمز
  3. محمد نسیم رنزوریار
  4. روشنیوں کے شہر میں بجھے ہوئے چراغ
Muhammad Naseem

روشنیوں کے شہر میں بجھے ہوئے چراغ

پاکستان میں ترقی کی بات ہوتی ہے، موٹرویز، ہائی رائز، ڈیجیٹل پاکستان اور جدید دور کی چکاچوند کا ذکر ہوتا ہے، مگر اسی ملک کے کونے کونے میں ایک ایسی مخلوق بھی بستی ہے جو انسان کہلاتی ہے مگر انسانی سہولیات سے کوسوں دور ہے۔ یہ وہ طبقہ ہے جو زندہ ہے مگر زندگی کی خوشیوں سے محروم ہے، جو سانس لیتا ہے مگر صاف ہوا، صاف پانی اور صحت جیسی بنیادی نعمتوں کو ترستا ہے۔ ان کی زندگی کا ہر دن ایک جنگ ہے، روٹی کی جنگ، پانی کی جنگ، علاج کی جنگ اور عزت بچانے کی جنگ۔

صبح سویرے جب اسلام آباد اور لاہور کے پوش علاقوں میں بچے یونیفارم پہن کر اے سی بسوں میں اسکول جاتے ہیں، اسی وقت تھر کے ریگستان میں، چمن کے سرحدی علاقوں میں، ڈیرہ بگٹی کے سنگلاخ پہاڑوں میں اور کراچی کے کچی آبادیوں میں ایک بچہ ننگے پاؤں، خالی پیٹ، میلی کچیلی کتابوں کے تھیلے کے ساتھ کئی کلومیٹر پیدل اسکول کی طرف جاتا ہے، اگر اسکول ہے بھی تو وہاں استاد نہیں، استاد ہے تو کرسی نہیں، کرسی ہے تو چھت نہیں۔ تعلیم جو روشنی ہے، ان کے لیے وہ روشنی خواب بن چکی ہے۔ ان کے لیے اسکول کی دیوار پر لکھا لفظ "تعلیم سب کا حق ہے" ایک مذاق سے زیادہ کچھ نہیں۔

پانی، جسے زندگی کہا جاتا ہے، اس طبقے کے لیے موت کا پیغام بن چکا ہے۔ آج بھی پاکستان کے ہزاروں دیہاتوں میں مائیں اور بہنیں سروں پر مٹکے رکھ کر میلوں دور سے جوہڑ کا گدلا پانی لاتی ہیں۔ یہی پانی پینے کے لیے، یہی کھانا پکانے کے لیے اور یہی بچوں کو پلانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ نتیجہ ہیضہ، ٹائیفائیڈ، گردوں کی بیماریاں اور ہر سال ہزاروں بچوں کی اموات۔ صاف پانی کا نل ان کے لیے ایسا ہی ہے جیسے چاند پر جانا۔

تحقیق بتاتی ہے کہ ملک کی تقریباً چالیس فیصد آبادی آج بھی صاف پینے کے پانی سے محروم ہے، یہ اعداد و شمار نہیں، یہ زندہ لاشوں کی کہانی ہے۔ صحت کا نظام تو ان کے لیے ایک حیران کن اور عجیب دنیا ہے۔ شہروں میں پرائیویٹ ہسپتالوں میں لاکھوں روپے کے ٹیسٹ ہوتے ہیں، مگر گاؤں میں ایک ڈسپنسری تک نہیں۔ ایک غریب مزدور جب بیمار ہوتا ہے تو وہ ڈاکٹر کے پاس نہیں، کسی عطائی یا دم درود والے کے پاس جاتا ہے کیونکہ اس کی جیب میں دو سو روپے فیس بھی نہیں۔ ماں زچگی کے دوران تڑپ تڑپ کر جان دے دیتی ہے کیونکہ قریب کوئی لیڈی ڈاکٹر نہیں، ایمبولینس نہیں، سڑک نہیں۔

یہ کیسی جدید دنیا ہے جہاں انسان ایٹم بم بنا سکتا ہے مگر ایک غریب کی ماں کو بچانے کے لیے ایک گولی تک نہیں پہنچا سکتا۔ خوشی تو ان کی زندگی سے جیسے روٹھ گئی ہے۔ ان کے بچوں نے کبھی برگر نہیں دیکھا، کبھی برتھ ڈے کیک نہیں کاٹا، کبھی پارک کا جھولا نہیں جھولا۔ ان کی خوشی صرف اتنی ہے کہ آج چولہا جل گیا، آج بچے بھوکے نہیں سوئے، آج بارش میں چھت نہیں ٹپکی۔ ان کی زندگی میں عید بھی تب آتی ہے جب کسی صاحب ثروت نے پرانے کپڑے خیرات میں دے دیے۔

یہ غربت صرف جیب کی نہیں، یہ غربت سوچ پر مسلط کر دی گئی ہے۔ اس طبقے کو یہ یقین دلا دیا گیا ہے کہ تم اسی حال کے لیے پیدا ہوئے ہو، تمہارا مقصد صرف امیروں کی خدمت کرنا ہے۔ اس دردناک حقیقت کا سب سے تلخ پہلو یہ ہے کہ یہ محرومی قدرتی نہیں، مصنوعی ہے۔ وسائل کی کمی نہیں، تقسیم میں بددیانتی ہے۔ اربوں روپے کی کرپشن، تعلیم اور صحت کے بجٹ میں خورد برد، پانی کے منصوبوں میں کمیشن اور غریب کے نام پر آنے والے فنڈز کا امیروں کے محلوں میں جانا، یہی وہ ناسور ہے جو اس طبقے کو غریب سے غریب تر بنا رہا ہے۔

جب تک تعلیم کو فوجی بجٹ جتنی اہمیت نہیں ملے گی، جب تک صاف پانی کو ہر گھر کا بنیادی حق نہیں سمجھا جائے گا، جب تک صحت کو کاروبار کے بجائے عبادت نہیں سمجھا جائے گا، تب تک یہ طبقہ اسی مایوسی، اسی بے بسی اور اسی اندھیرے میں زندہ دفن رہے گا۔ یہ وقت ہے کہ ریاست ماں کا کردار ادا کرے، سوتیلی ماں کا نہیں، ورنہ یہ بجھے ہوئے چراغ کسی دن پورے ملک کو اندھیرے میں لے ڈوبیں گے۔