جب نقش تمہارا رخِ مہتاب سے ابھرے
پھر میرا جنوں سینہِ گرداب سے ابھرے
آ تجھ کو وہاں لے کے چلوں جانِ تمنا
دھڑکن بھی جہاں قطرۂِ سیماب سے ابھرے
وحشی کو ترے اذن ٹھہرنے کا نہیں ہے
دریا بھی کوئی موجۂِ سیلاب سے ابھرے
آئینہ صفت لوگ ہوں پھر اپنے مقابل
اور عکسِ تمنا دلِ بیتاب سے ابھرے
اب اُس کی ضرورت نہیں مجھ کو مرے واعظ
جنت جو درِ سجدہِ تواب سے ابھرے
اس شہر میں کیا رہ کے کھرل نام کمانا
جس شہر میں حرمت نئے القاب سے ابھرے