جاتے ہوئے چمن کی فضا ساتھ لے گئے
صحرا نورد آب و ہوا ساتھ لے گئے
زادِ سفر کے طور پہ ہم سے بچھڑ کے وہ
اچھا ہوا ہماریِ دعا ساتھ لے گئے
ویران کرکے چشمِ تمنا کو وہ مری
ہر لطف و کرم ناز و ادا ساتھ لے گئے
اترا ہے قہرِ حبس قیامت کا شہر پر
رہزن وہ دلربا سے، صبا ساتھ لے گئے
آزر سے بت خرید کے رکھے قباؤں میں
اور لوگ اپنا اپنا خدا ساتھ لے گئے
جیسے ہی باسیوں کو ملا ہجرتوں کا اذن
پھر ان کے ہاتھ جو بھی لگا ساتھ لے گئے
پہلے کھرل انہوں نے کیا دان دردِ دل
پھر دل کے عارضے کی دوا ساتھ لے گئے