نہ محفل نہ بازار و زر ڈھونڈتا ہے
جنوں اب کے یاں بال و پر ڈھونڈتا ہے
مقدر میں تیرے نہیں جب ہے منزل
ستاروں میں پھر کیوں سفر ڈھونڈتا ہے
جہالت سے اپنی تُو واقف اگر ہے
کہاں رازِ شام و سحر ڈھونڈتا ہے
مجھے رب نے بخشی ہے صحرا نوردی
ذرا دل کو دیکھو کہ گھر ڈھونڈتا ہے
نظر سے محبت کی دیکھے جو تجھکو
کہاں اب تُو وہ کوزہ گر ڈھونڈتا ہے
کھرل ہے یہ تیرے ارادوں کی لرزش
بغاوت سے تو جو مفر ڈھونڈتا ہے