1. ہوم
  2. افسانہ
  3. محمد شہزاد
  4. پیر، پِلّا اور خنزیر
Mohammad Shehzad

پیر، پِلّا اور خنزیر

"کیا زبردست پیس آیا ہے ڈاکٹر صاحب۔ اس کی بڑی بڑی چھاتیاں فوکس کریں۔ یہ اپنی گاڑی سے اترتے وقت ذرا سا جھکے گی۔ سارا سامان سمٹ کر باہر آ جائے گا۔ پھر دیکھیے گا نظارہ۔ حضور جلوہ طور بھول جائیں گے آپ!"

شاہ نے ڈاکٹر بدر کو آنکھ مارتے کہا اور پھر دیدے پھاڑ پھاڑ کر ذکیہ کو تاڑنے لگا جو ادارے میں سینئر لیول پر کام کیا کرتی تھی۔ اس کے ساتھ فرقان اور فرید کی نظریں بھی ذکیہ پر مرکوز ہوگئیں جو ابھی ابھی دفتر پہنچی تھی۔ اس کا ڈرائیور گاڑی دفتر کے سامنے روک چکا تھا۔ اب وہ گاڑی سے باہر نکل رہی تھی۔ اس کے فرشتوں تک کو علم نہ تھا کہ یہ منظر شاہ اور اسکے چمچے اپنی غلیظ نگاہوں سے ریکارڈ کر رہے ہونگے۔

بدر اور حیدر نے شاہ کی باتوں کو کوئی اہمیت نہ دی۔ وہ اسی طرح بیٹھے رہے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ دونوں میں سے کسی نے بھی مڑ کر ذکیہ کی جانب دیکھنے کی زحمت نہ کی۔

"شاہ جی واقعی درست فرمایا آپ نے۔ بہت مست ہے اور چالو بھی"۔ فرقان نےکہا۔

"کیا سینہ تان کر چلتی ہے۔ ایسا لگتا ہے پریڈ کر رہی ہو"۔ اس بار فرید بولا۔ وہ اس معاملے میں کیوں پیچھے رہے فرقان سے؟

"اب ذرا پیچھے سے دیکھنا۔ توجہ! کیا کولہے مٹکاتےگھماتے جائے گی گول گول۔ اتنی ٹائٹ جینز پہنتی ہے۔ خواہ مخواہ ہمارا دین ایمان خراب کرتی ہے صبح صبح۔ ایسی عورتیں ہی صالح سے صالح مرد کو شیطان بنا دیتی ہیں۔ جہنم میں آگ کے کنووں میں ان جیسی بے حیا عورتیں اپنے پستانوں سے الٹی لٹکائی جائیں گی۔ ڈاکٹر صاحب جب آپ اس ادارے کے سربراہ بن جائیں تو ان گشتیوں کو لگام ڈالنے کے لئے کم از کم ایک عدد ڈریس کوڈ تو لازمی قرار دیجئے گا"۔ شاہ نے چہرے پر مصنوعی تقویٰ اور سنجیدگی طاری کرتے ہوئے بدر سے کہا۔ فرقان اور فرید نے جھٹ سے اس کی ہاں میں ہاں ملائی۔ بدر نے کوئی جواب نہ دیا۔

"شاہ جی آخر کیا خاص بات ہے اس لڑکی میں؟ سلم سمارٹ تو ہے نہیں۔ بال بھی اتنے لمبے نہیں۔ اس سے کہیں بہتر تو راشدہ ہے۔ ٹھیک ہے چھاتیاں ذرا چھوٹی ہیں راشدہ کی، مگر سخت تو بے تحاشہ ہیں۔ گھنی کالی زلفیں ہیں۔ بھئی راشدہ ہی ہے اصلی جنت کی سوغات آپکے دفتر میں"۔ ڈھابے کا مالک شیدا بولا جو ابھی ابھی بدر کے لئے دودھ پتی لے کر آیا تھا۔

شیدا کچھ عرصے قبل اس قسم کے مشاغل سے دور ہوا کرتا تھا۔ لیکن شاہ کی صحبت میں اسے بھی "تاڑنے" کی لت پڑ چکی تھی اور اس چکر میں وہ کئی بار کھولتی ہوئی دودھ پتی اپنے ہاتھوں پر گرا بھی چکا تھا۔

شاہ نے شیدے کو فوراً کوئی جواب نہ دیا۔ وہ اپنا مزا خراب کرنا نہیں چاہتا تھا۔ اس وقت تک ذکیہ کو گھورتا رہا جب تک وہ آنکھوں سے اوجھل نہ ہوگئی۔ اسکے بعد اس نے شیدے کے علاوہ اوروں کو بھی باری باری گھورا اور پھر کہا:

"آپ لوگوں کا علم عورت کے بارے میں کچھ بھی نہیں۔ جتنا عورت کو میں جانتا ہوں کوئی اور نہیں جانتا۔ عورت کے جسم پر جتنا گوشت ہو، چھاتیاں اور کولہے جتنے بھاری ہوں، وہ اتنی ہی گرم لگتی ہے اور ایسی شے پر سواری کا مزہ ہی کچھ اور ہے۔ لیکن ڈاکٹر صاحب ڈریس کوڈ ہونا چاہیے۔ دیکھیں نا یہ دو ٹکے کا شیدا بھی اب ہماری کولیگ پر فقرے کس رہا ہے!"

"ایسا ممکن نہیں۔ یہ پرسنل فریڈم کے زمرے میں آتا ہے۔ آپ لوگوں کو تو معلوم ہے کہ ہم جینڈر سینسیٹو آرگنائزیشن ہیں۔ ہمارا تو کام ہی عورتوں کے حقوق کے لئے آواز اٹھانا ہے۔ اگر ہم نے اس قسم کا کوڈ لاگو کر دیا تو سب سے پہلے ہماری اور آپکی چھٹی ہو جائے گی"۔ بدر بولا۔

"وہ کیسے؟" سب نے حیرت سے پوچھا۔

"یار ڈونر ہمیں شدت پسند قرار دیکر گرانٹ بند کر دیگا اور دفتر پر تالہ پڑ جائے گا"۔ بدر بولا۔

"ہوں۔۔ بات میں وزن ہے۔ چلو اچھا ہی ہے ایک طرح سے۔ مفت کے نظارے تو مل رہے ہیں۔ دفع کرو ڈریس کوڈ کو۔ ویسے ڈاکٹر صاحب نہا دھو کر آئی ہے۔ بالوں سے ابھی تک ٹپ ٹپ پانی گر رہا ہے۔ قمیض گیلی ہو کر اسکی سفید برا سے چپکی ہوئی ہے۔ لگتا ہے رات کے علاوہ دن کو بھی اوور ٹائم لگاتی ہے۔ تب ہی تو روز اتنا لیٹ آتی ہے۔ ایسے ہی تو زلزلے نہیں آتے"۔ شاہ نے کہا۔ سب بندروں کی طرح کھی کھی کرنے لگے مگر بدر اور حیدر کے چہرے تاثرات سے خالی رہے۔

"شاہ جی آپ بہت پہنچی ہوئی چیز ہیں۔ واقعی غیب کا حال جانتے ہیں"۔ فرقان بولا جو خوشامد کے نت نئے مواقع ڈھونڈتا رہتا تھا۔

"ابے چوتیے یہ تو کچھ بھی نہیں۔ میں تو عورت کا پیٹ، ننگا یا ڈھکا، دونوں دیکھ کر بتا سکتا ہوں کہ لڑکا ہے یا لڑکی اور اسکا اپنا ہے یا یار کا۔ چال دیکھ کر بتا سکتا ہوں کہاں سے آ رہی ہے۔۔ کچھ کرکے آ رہی ہے یا کچھ کئے بغیر! چہرہ دیکھ کر بتا سکتا ہوں راستہ کھلا ہے یا بند"۔ اب کے شاہ چوڑا ہو کر بولا۔ ایک اور قہقہہ بلند ہوا۔ ایک بار پھر بدر اور حیدر خاموش رہے۔

"شاہ جی گوہر کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟" فرید نے پوچھا۔

"او یار وہ تو گرم گرم انگیٹھی ہے کوئلوں کی۔ سیخ کباب اوپر رکھو اور فوراً اٹھا لو۔ ورنہ کباب جل جائے گا!" شاہ نے جیسے ہی بات ختم کی ایک بار پھر قہقے بلند ہوئے۔ بدر اور حیدر اس بار بھی کچھ نہ بولے۔

"یار شیدے کہاں مر گیا ہے تو؟ گھنٹہ ہوگیا۔ میرا برگر آیا نہ میری دودھ پتی"۔ شاہ ڈھابے کے بنچ پر بیٹھے بیٹھے شیدے پر چلایا جو اس وقت تندور گرم کر رہا تھا۔

"آ رہا ہوں سرکار۔ انڈے ختم ہو گئے تھے۔ بچہ گیا ہے لینے موٹر سائیکل پر بڑے بازار۔ آتا ہی ہوگا"۔ شیدے نے بھی گلا پھاڑ کر وہیں سے کہا۔

شیدے کا یہ ڈھابہ شہر کے ایک خاص اور مہنگے ترین علاقے میں واقع تھا۔ اس علاقے میں بڑے ممالک کے سفارت خانے اور بڑی بڑی ملکی و غیر ملکی کمپنیوں اور این جی اوز کے دفاتر تھے۔ دفتر سے تھوڑی دور مہنگے ریستوران، کافی شاپس اور فائیو سٹار ہوٹل تھے۔ ان دفاتر میں کام کرنے والے بڑے افسران تو چائے اور کھانے کے لئے وہیں جایا کرتے اور کثیر تعداد میں عام ملازمین کا ڈیرہ شیدے کا یہ ڈھابہ تھا جسکی چائے اور دودھ پتی کی دور دور تک شہرت تھی۔

بہت سے بڑے افسران کھانا تو نہیں البتہ چائے یا دودھ پتی کے لیے اس ڈھابے پر ضرور آتے۔ جن کی گردن میں سریا تھا وہ نہ آتے۔ اپنا تھرماس ماتحت کے ہاتھ بھجوا دیا کرتے۔ شیدا ہدایات کے مطابق چائے یا دودھ پتی بنا کر اس میں بھر دیتا۔ لیکن سریے والے افسران بہت کم تعداد میں تھے۔ زیادہ تر بڑے افسران اپنے ماتحتوں کے ساتھ ڈھابے پر آ کر چائے یا دودھ پتی سے لطف اندوز ہوتے، سگرٹ پیتے، آتی جاتی خواتین کو تاڑتے، آپس میں فقرے بازی کرتے اور گپ شپ لگا کر دوبارہ تازہ دم ہو کر کام کی طرف لوٹ جاتے۔ کوئی خاتون افسر یا اسکی ماتحت اس ڈھابے پر شاذونادر ہی آتی۔ شاید یوں کہ سب مرد ایک نمبر کے ٹھرک باز تھے۔

سفارت خانوں میں جو لوگ ویزے کے لئے آتے، ان میں خواتین بھی ہوتیں۔ یہ زیادہ تر اپنے گھر کے مردوں کے ہمراہ ہوتیں۔ انکے مرد چائے یا کچھ اور چیزیں ڈھابے سے خرید لیتے۔ سفارت خانوں کے سامنے پارکنگ کے احاطے میں بنچ موجود تھے جہاں انکی مستورات اور بچے بیٹھے ہوتے۔ یہ وہ چیزیں وہاں لے جاتے اور انکے ساتھ بیٹھ کر کھا پی لیتے۔ ڈھابے پر بیٹھ کر چائے نوشی کرنے والے یا کھانا کھانے والے دفاتر میں کام کرنے والے ہی ہوتے اور ان میں اکثریت انکی ہوتی جو مہنگے ریستوران میں جا کر کھانے کے متحمل نہ تھے۔

دفاتر کے سامنے ایک وسیع اور طویل سڑک تھی۔ دائیں بائیں لمبے گھنے دور دور تک پھیلے سایہ دار درخت تھے جو شدید گرمی میں بھی ٹھنڈک کا احساس دلاتے۔ پھر دفاتر کے اپنے اپنے لان تھے جس میں قسم قسم کے پھول فضا کو ہر وقت معطر کیے رہتے۔ سڑک کے اطراف بہت سارے ٹائپسٹ بیٹھے ہوتے جو لوگوں کو ویزا فارم پر کر دیا کرتے۔ کچھ نہیں تو پچاس ساٹھ خاندان یہ سڑک پال ہی رہی تھی۔ دفاتر میں کام کرنے والے اس گنتی میں شامل نہیں۔ بات صرف اس طبقے کی ہو رہی ہے جو سڑک پر ہی اپنی خدمات فراہم کرکے شام کو اپنے اپنے گھر روانہ ہو جایا کرتے تھے۔ ان حالات میں شیدے کا ڈھابہ خوب چلتا۔

شاہ کا اصلی نام پیراں دتہ قادری تھا۔ اسے اس نام سے شدید چڑ تھی۔ اس کی وجہ سمجھنا کوئی مشکل نہیں۔ پینڈو نام تھا۔ اصل میں وہ پیروں کی "کرامات" کے نتیجے میں پیدا ہوا۔ اسکے والدین مزاروں، تکیوں اور درگاہوں پر اولاد کے لیے بھٹکتے پھرتے تھے۔ قسم قسم کی منتیں مانا کرتے۔ کون آستانہ ہوگا جہاں انہوں نے ماتھا نہ ٹیکا۔ کون پیر ہوگا جسے سجدہ نہ کیا۔ ان ہی میں سے ایک پیر کو شاہ کے والدین اپنے گھر لے آئے۔ وہ مسلسل چھ برس ان ہی کے پاس رہا۔ اس عرصے میں شاہ کی ماں پانچ بار حاملہ ہوئی۔ سب سے پہلے شاہ پیدا ہوا۔ اس کی پیدائش کو دونوں نے پیر کا معجزہ قرار دیا اور اسے "پیراں دتہ" کہنا شروع کر دیا۔ بعد میں یہ ہی نام اس کی پیدائش کے کاغذات میں لکھوا دیا گیا۔ شاہ کے بعد اس کی ماں نے لگا تار چار بیٹیاں جنیں۔ آخری بیٹی کی پیدائش کے بعد وہ پیر ہمیشہ کے لئے کہیں غائب ہوگیا۔ خدا معلوم زمین کھا گئی یا آسمان نگل گیا؟

شاہ کے خاندان میں بہت سوں کا کہنا یہ تھا شاہ کا باپ تو نامرد تھا۔ پانچوں بچے پیر سے تھے جسے شاہ کے باپ نے قتل کرکے لاش کہیں دفنا دی تھی۔ ان میں سے کسی حاسد نے یہ بات پولیس تک بھی پہنچائی۔ شاہ کا باپ دو دن پولیس کا مہمان بھی رہا۔ بعد میں اسے چھوڑ دیا گیا۔ جب لاش ہی نہیں تو قتل کیسا؟

اب شاہ نے تو پیراں دتہ اپنے لئے تجویز کیا نہیں تھا۔ اس کا حل اس نے دو طرح سے نکالا۔ خود کو پی ڈی قادری لکھنے لگا اور اپنے آپ کو بطور "شاہ جی" متعارف کرانے پر جت گیا۔ وہ اس پوش علاقے میں واقع ایک بہت بڑی ملکی این جی او کا ایڈمن مینیجر تھا جس کا نام تھا، "خالص ترقی"۔

یہ تنظیم خالصتاً بڑے ممالک کی خیرات پر زندہ تھی۔ یہ اپنے دستور پر کم اور ادارے کی خاتون سربراہ کے ذاتی منشور پر زیادہ عمل پیرا تھی۔ اس خاتوں کا کہا حتمی مانا جاتا جسے ڈونر کے علاوہ دنیا کی کوئی اور طاقت لکار نہ سکتی تھی۔

درجہ بندی کے لحاظ سے شاہ ادارے میں اکا دکا بھی نہ تھا۔ مگر اس کے پاس کچھ ایسا ضرور تھا جس کی وجہ سے سب ہی اس کے "مرید" تھے۔ اس ادارے میں پچاس کے قریب لوگ کام کیا کرتے تھے۔ ادارے کی پالیسی کچھ ایسی تھی کہ کم سے کم مردوں کو نوکری دی جائے۔ اب ڈرائیورز، مالی اور آفس بوائے کی حد تک تو مردوں کو ملازمت دینا ادارے کی مجبوری ٹہری مگر اسکے باوجود کئی آسامیاں ایسی بھی تھیں جہاں اس تنظیم کو مطلب کی خواتین نہ مل سکیں۔ ایسی تمام جگہوں کو مردوں نے ہی پر کیا۔ پھر بھی وہ اقلیت میں ہی رہے۔ انکی موجودگی کا تناسب بیس فیصد سے زیادہ کبھی نہیں بڑھا۔ اوپر کے لیول پر زیادہ تر خواتین چھائی ہوئی تھیں۔

ادارے کی باس ڈاکٹر گوہر تھی۔ یہاں ڈاکٹروں کی بھرمار تھی۔ یہ ایم بی بی ایس یا ہومیوپیتھک والے نہیں بلکہ پی ایچ ڈی ڈاکٹر تھے۔ شرارتی عناصر انہیں "پھرا ہوا دماغ" کہتے۔ سب کے سب فارن کوالیفائیڈ تھے۔ سب ہی ایلیٹ کلاس سے تھے۔ عام لوگ مڈل یا جونئیر لیول پر کام کیا کرتے تھے۔

شاہ یہاں کئی برسوں سے ملازم تھا۔ عمر چالیس ہو چکی تھی۔ قد ناٹا، گھنے بال، درمیانی داڑھی جو آدھی سے زیادہ سفید ہو چکی تھی۔ آنکھیں گول گول الو کی طرح اور اس پر گول فریم کی عینک۔ کسی نام نہاد ڈبہ پیر کا مرید تھا اور اپنے ماتحتوں کو زبردستی اپنا مرید بنائے رکھے ہوا تھا۔ ڈھابے سے انکو مفت چائے پلا دیتا۔ سگرٹ خرید دیتا۔ کبھی کبھار کھانا بھی کھلا دیتا۔ اس کے عوض ماتحت اٹھتے بیٹھتے اسے شاہ جی، شاہ جی کہتے رہتے۔ دفتر میں اس بات کا پرچار کرتے پھرتے کہ شاہ جی بہت پہنچے ہوئے پیر ہیں۔ کئی لاعلاج بیماریوں کا علاج انکے وظیفوں اور تعویذو ں میں پوشیدہ ہے۔ فلانے دم سے فلانا سو فیصد ٹھیک ہوگیا جسے کینسر تھا۔ فلاں کو ڈاکٹر نے ہارٹ سرجری کا مشورہ دیا تھا۔ وہ شاہ جی کے پاس گیا۔ انہوں نے تعویذ دیا تو سب شریانوں کی خود بخود بھل صفائی ہوگئی۔ پھر وہ ڈاکٹر کے پاس چیک آپ کرانے گیا تو سارا ہسپتال حیران و پریشان رہ گیا کہ ایسا ممکن کیسے ہوا۔ اس قسم کے جھوٹ وہ اٹھتے بیٹھتے گھڑتے رہتے لیکن اندر اندر ہر چمچہ شاہ کو شدید ناپسند کرتا۔

"لو شاہ جی آپکا برگر اور دودھ پتی ریڈی ہے"۔ شیدے نے دونوں چیزیں شاہ کے آگے رکھی میز پر دھرتے کہا۔ اس میز کے چاروں پائے برابر نہیں تھے۔ اسی لئے شیدے نے "دھیان سے!" کا اضافہ بھی کر دیا۔

"شیدے شاہ جی کی خدمت کیا کر۔ ان کی دعا لیا کر۔ میری پروموشن ان ہی کی کرامات کا نتیجہ ہے"۔ یہ فرید تھا۔ شاہ کا اسسٹنٹ۔ کمال کا چاپلوس۔ پیروں فقیروں پر یقین نہ رکھتا تھا۔ پر مجبوری تھی۔ شاہ کی خوشامد نہ کرے تو نوکری میں کیسے رہے گا؟ اسے اچھی طرح معلوم تھا کہ شاہ ایک نمبر کا منافق، جھوٹا اور بذات خود ایک بہت بڑا چاپلوس تھا۔ جس عہدے پر تھا اس پر صرف اور صرف خوشامد کرکے پہنچا تھا۔ مگر مصلحت کے تحت سچ نہیں بول سکتا تھا۔ شیدے کو شاہ کے اثر میں لانے والا فرید ہی تھا۔

"سر جی میں نے تو کبھی پیسے بھی نہیں مانگے شاہ جی سے۔ وہ زبردستی دے دیتے ہیں۔ بلکہ ہمیشہ زیادہ ہی دیتے ہیں"۔ شیدا بولا۔

"چل ٹھیک ہے۔ لیکن سپلائی ایڈوانس میں رکھا کر شیدے۔ شاہ جی کی چاشت کی نماز کا وقت ہونے والا ہے"۔ اس بار فرقان بولا۔ یہ بھی شاہ کا ایک ماتحت تھا۔ فرید سے جلتا تھا کیونکہ اس کے مقابلے کی چاپلوسی نہیں کر سکتا تھا۔ کوشش کرتا تھا لیکن فرید کا دماغ بہت ہی چالو تھا چاپلوسی میں۔

"اچھا شیدے سن۔ یہ ڈاکٹر صاحب کی دودھ پتی میرے کھاتے میں ڈالا کر۔ انکے نہیں"۔ شاہ نے بدر کی طرف دیکھتے اس انداز میں کہا جیسے وہ اس پر بہت بڑا احسان کر رہا ہو۔ اس سے پہلے کہ بدر کچھ کہتا، حیدر بول پڑا: "اوئے نہیں شیدے۔ ڈاکٹر صاحب کا بل میرے کھاتے میں ڈالا کر"۔

حیدر شاہ کا ماتحت نہ تھا۔ بدر کی چاپلوسی بہرحال اس پر فرض تھی کیونکہ وہ ادارے کا نائب سربراہ تھا اور سب کو معلوم تھا کہ گوہر کے بعد وہ ہی باس ہوگا اگر بورڈ نے کوئی نیا گل نہ کھلایا! حیدر کی نوکری عارضی تھی۔ اس کا مقصد نوکری پکی کرنا تھا۔ قابل تھا مگر یہ بات سمجھتا تھا کہ نوکری کے لئے قابلیت کے علاوہ سب سے بڑی ڈگری خوشامد یا نسوانی حسن تھا۔ خوشامد والا خمیر اس میں بدرجہ اتم موجود تھا لہذا معاملات ایک طرح سے اس کے ہاتھ ہی میں تھے۔

"ڈاکٹر صاحب کا سخت آرڈر ہے کہ ان کا بل کسی اور کے کھاتے میں نہ ڈالا جائے۔ اگر ایسا ہوا تو وہ ڈھابے پر تالا لگوا دیں گے۔ کیوں ڈاکٹر صاحب میں غلط تو نہیں کہہ رہا؟" شیدے نے یہ کہہ کر بدر کی طرف دیکھا جیسے اس بات کی تصدیق چاہتا ہو۔ اس پر بدر نے کہا: "شاباش شیدے شاباش۔ سب کو اپنا اپنا بل خود چکانا چاہیے۔ میرا بل صرف میں ہی چکاؤں گا۔ کوئی اور نہیں!" آخری جملہ اس نے قدرے سختی سے کہا اور یہ کہتے اس نے شاہ کی جانب دیکھا۔

اس کے بعد بدر نے ایک اور جملہ بولا: "ذکیہ ہماری کنسلٹنٹ ہے، ملازم نہیں۔ وہ اگر دفتر نہ بھی آئے تو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ جو ٹاسک اس کو دیا جاتا ہے، ڈلیور کر دیتی ہے"۔

"آپ بالکل درست فرما رہے ہیں ڈاکٹر صاحب۔ کنسلٹنٹ کوئی کلرک ہے جو نائن ٹو فائیو مزدوری کرے؟" حیدر نے کہا اور شاہ کی جانب دیکھا۔ شاہ اس کا طنز سمجھ گیا اور جھٹ سے بولا: "سولہ آنے کھری بات کی آپ نے ڈاکٹر صاحب۔ لیکن ہمارا دل توڑ دیا آپ نے۔ کبھی ہماری طرف سے بھی دودھ پتی پی لیا کریں۔ آپ تو خدمت کا موقع ہی نہیں دیتے"۔

بدر نے اسے نظرانداز کیا تو شاہ نے پرانا داؤ آزماتے کہا: "چلو بھئی اٹھو ورنہ میری نماز چاشت قضا ہو جائے گی۔ ڈاکٹر صاحب جب سے میں نے ہوش سنبھالا ہے آج تک چاشت کی نماز قضا نہیں کی۔ اس کے علاوہ ایک ہی وضو سے پانچوں نمازیں ادا کرتا ہوں۔ یہ سلسلہ پچھلے پچیس برس سے جاری ہے۔ سات بار حج کر چکا ہوں۔ سال میں تین عمرے ادا کرتا ہوں۔ محلے کی زکواۃ کمیٹی کا پچھلے دس سال سے بلامقابلہ چئیرمین ہوں"۔

بدر نے پھر بھی کوئی توجہ نہ دی۔ اب سب کھڑے ہو گئے۔ بدر اور حیدر بیٹھے رہے۔ جب یہ لوگ کچھ دور چلے گئے تو حیدر نے بدر سے کہا: "ایک نمبر کا حرامی ہے یہ شاہ ڈاکٹر صاحب۔ بیٹا کوئی نہیں اسکا۔ دو بیٹیاں ہیں۔ انتہائی پیاری اور خوبصورت۔ گڑیا کی طرح۔ جڑواں ہیں۔ کوئی چھ برس کی ہیں۔ ایک دفعہ آفس میں دیکھا تھا۔ انہیں دیکھ کر میرے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ اللہ مجھے بھی ایسی ہی بیٹیاں دے۔ لیکن اسکی حرکتیں دیکھیے۔ کیسی بیہودہ بکواس کرتا پھرتا ہے دفتر کی لڑکیوں کے بارے میں۔ اسے پوچھنے والا کوئی نہیں؟ کیوں گوہر بےبس ہے اس کے آگے؟

اتنی واضح اور سخت سیکسچول ہراسمنٹ پالیسی ہے ہمارے ادارے کی۔ اسے اللہ ہی سیدھا کرے گا اور اب یہ حرامزادہ دفتر کے ٹائم میں چاشت کی نماز پڑھے گا۔ اپنے ماتحتوں کو تو یہ فرض نماز پڑھنے کے لئے پانچ منٹ بھی نہیں بخشتا! چاشت پڑھ کر یہ اپنی معشوقہ سے گھنٹوں فون پر سیکسی باتیں کرے گا۔ پھر اسکے بعد پورنوگرافک ویب سائٹس دیکھے گا۔ آپ بے شک آئی ٹی والوں سے کنفرم کروا لیں۔ ویسے آئی ٹی تو آپ ہی کے انڈر ہے۔ اس حرامی کو صرف اور صرف آپ ہی پٹہ ڈال سکتے ہیں"۔

یہ سب باتیں کرنے کے بعد وہ بدر کے چہرے کی طرف دیکھ رہا تھا۔ جیسے کسی جواب کا منتظر ہو۔ "یار میں چلتا ہوں۔ ایک ارجنٹ رپورٹ آج ہی ختم کرنی ہے"۔ بدر نے کہا۔ حیدر اس کا منہ تکتا رہ گیا۔

***

"آپ کو شاہ کے خلاف ایکشن لینا چاہیے۔ اسکی حرکتیں ناقابل برداشت حد تک بڑھتی جا رہی ہیں۔ اب تو اس کی جرات اتنی بڑھ چکی ہے کہ میرے سامنے ذکیہ اور آپکے خلاف بھی انتہائی رکیک اور فحش جنسی جملے کستا ہے اور اسکے تمام ماتحت چسکے لیتے ہیں"۔ بدر اپنی باس اور خالص ترقی کی سربراہ ڈاکٹر گوہر سے مخاطب تھا۔

"آپ جانتے ہیں ادارہ سختی سے سیکسچول ہراسمنٹ پالیسی پر عمل کرتا ہے۔ ایک کمیٹی بھی بنی ہوئی ہے جو آزادانہ کام کرتی ہے۔ اگر ادارے کا سربراہ بھی قصوروار ہو تو اسے نکال باہر کر سکتی ہے۔ لیکن کوئی مدعی ہونا چاہیے۔ ذکیہ نے تو کوئی ذکر نہیں کیا اور میں نے اپنے بارے میں ایسی کوئی بات سوائے آپ کے کسی اور سے سنی نہیں"۔ گوہر بولی۔

"حیدر، فرقان، فرید اور شیدا چشم دید گواہ ہیں۔ میں بھی ہوں"۔

"ایک منٹ۔۔ " گوہر نے ہاتھ کے اشارے سے بدر کو روکا اور انٹرکام پر اپنی سیکریڑی سے کہا کہ کمیٹی کی سربراہ ڈاکٹر ریٹا کو اسکے کمرے میں آنے کا کہے۔

"تم سمجھنے کی کوشش کرو۔۔ شیدے کی گواہی کی کوئی اہمیت نہیں۔ وہ ہمارا ملازم نہیں۔ وہ باہر کا آدمی ہے۔ دو ٹکے کا ڈھابہ چلانے والا!" گوہر نے بدر سے دوبارہ مخاطب ہوتے کہا۔

" گواہ تو کوئی بھی ہو سکتا ہے۔ شیدے کی گواہی تو سب سے زیادہ معتبر ہوگی بطور آوٹ سائیڈر اور ہم تو انسانی حقوق کے چیمپین ہیں۔ کیسے کسی کو دو ٹکے کا کہہ سکتے ہیں؟" بدر نے کہا۔ وہ گوہر کو "آپ" سے مخاطب کرتا۔ گوہر اسے کبھی "آپ" کبھی "تم" کہا کرتی۔

اس دوران ڈاکٹر ریٹا گوہر کے کمرے میں پہنچ چکی تھی۔

"آئیے۔۔ ایک قانونی نکتہ ہے۔ کیا کوئی بھی تھرڈ پارٹی متاثرہ پارٹی کی جگہ ہراسمنٹ کی شکایت کر سکتی ہے؟" گوہر نے پوری رام کہانی ریٹا کو سنائی جس پر ریٹا بولی:

"صرف متاثرہ فریق ہی شکایت کر سکتا ہے۔ لیکن ادارے میں اگر کوئی بھی یہ محسوس کرے کہ دفتر کا ماحول پالیسی کے مطابق نہیں تو ایسا ممکن ہے مگر ٹھوس ثبوت ہونا چاہیے۔ ورنہ بدر صاحب نوکری سے جائینگے"۔

"بہت بہت شکریہ اب آپ جا سکتی ہیں"۔ گوہر نے ریٹا سے کہا۔ پھر بدر کی طرف دیکھتے بولی: "اور کچھ؟"

بدر کو اب مکمل یقین ہو چکا تھا کہ شاہ کا بال بھی بیکا نہیں کیا جا سکتا۔ کم از کم اس وقت تک جب تک گوہر سربراہ ہے۔ اسکے عہدے کی معیاد پوری ہونے میں کئی سال باقی تھے۔ حیدر شاہ کا ماتحت نہ تھا۔ وہ گواہی دے سکتا تھا جسے فرید اور فرقان جھٹلا سکتے تھے۔ وہ چاہتا تو ڈونر کو مطلع کر سکتا تھا۔ اس صورت میں اپنی ہی بےعزتی ہوتی۔ ڈونر کہتا اپنے ہی ادارے کے کلرک کو تو سنبھال نہیں سکتے۔ ملک کیا خاک سنبھالو گے؟ کبھی کبھی اسے شک ہوتا کہ گوہر اور ریٹا کا شاہ سے کوئی راڑا ہے۔ اگلے لمحے اسے اپنی سوچ پر شرمندگی ہوتی۔

"تھینک یو۔ میں چلتا ہوں!" بدر نے گوہر سے کہا۔ اس نے مسکراہٹ کیساتھ بدر کو رخصت کیا پھر انٹر کام پر تین ہندسوں پر مشتمل ایک نمبر ڈائل کیا۔ یہ شاہ کی ایکس ٹینشن تھی۔۔ چار سو بیس!

***

ڈاکٹر گوہر اپنے اپارٹمنٹ میں تھی جو شہر کے مہنگے اور محفوظ ترین علاقے میں واقع تھا۔ یہاں چڑیا بھی پر نہ مار سکتی تھی۔ داخلے کے لیے سیکیورٹی کے کئی مراحل سے گزرنا پڑتا۔ مکینوں کے لئے لازم تھا کہ سیکیورٹی والوں کو اپنے ملاقاتیوں کے مکمل کوائف پہلے سے جمع کرائیں۔ مثلاً شناختی کارڈ نمبر، گاڑی کی لائسنس پلیٹ، گاڑی کا رنگ، ماڈل وغیرہ تا کہ کوئی غیر متعلقہ یا مشکوک شخص علاقے میں گھس نہ پائے۔ چیک پوسٹ کے بعد کوئی چار کلومیڑ لمبی گرین بیلٹ تھی۔ سڑک پر دائیں بائیں گھنے درخت تھے۔ اسکے بعد رہائشی اپارٹمنٹس شروع ہوتے۔ امیر گوروں کا اک چھوٹا سا شہر تھا۔ مگر پیسے والے "کالے" بطور سٹیٹس سمبل یہاں رہا کرتے تھے۔

اس جگہ کا نام قلوپطرہ اپارٹمنٹس تھا۔ کوئی دو ہزار مربع فٹ اپارٹمنٹ کا کرایہ لاکھوں میں ہوگا۔ کوئی کسی محفل میں اگر بتلا دے کہ وہ یہاں رہتا ہے تو سننے والے غش کھا جاتے۔ وہ تصدیق کے لئے دوبارہ پوچھے بنا نہ رہتے کہ کیا آپ واقعی قلوپطرہ اپارٹمنٹ میں رہتے ہیں؟ اچھا وہاں کے لوگ کیا عام انسانوں کی طرح ہی ہوتے ہیں یا سر پر سینگ ہوتے ہیں؟

گوہر کا وسیع و عریض اپارٹمنٹ اپنی نوعیت کا پینٹ ہاؤس تھا۔ وہ تن تنہا یہاں رہتی تھی۔ طلاق یافتہ تھی۔ اولاد نہ تھی۔ چالیس برس کی تھی۔ عمر سے کوئی دس برس کم دکھتی تھی۔ خاصی خوش شکل تھی۔ درمیانہ قد۔ گوری رنگت۔ سلم سمارٹ۔ امیر کبیر گھرانہ۔ بہت گم کو۔ ایک سمندر کی مانند تھی۔ کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا تھا کہ کیا گہرائی ہے اور تہہ میں کیا کچھ ہے۔

شام کے آٹھ بج چکے تھے۔ شدید گرمی اور حبس تھا۔ مگر اپارٹمنٹ سنٹرلی ائیر کنڈیشنڈ تھا۔ اندر بیٹھ کر انسان گرمی کی شدت کا اندازہ نہ کر سکتا تھا۔ اس نے سفید رنگ کی ٹی شرٹ اور باریک سا خاکی سکرٹ پہنا ہوا تھا۔ وہ اپارٹمنٹ کے کشادہ لاؤنج میں مدہم روشنی میں صوفے پر آنکھیں موندھے پڑی تھی۔ پس منظر میں موزارٹ کی موسیقی دھیمی آواز میں چل رہی تھی۔ اپارٹمنٹ کی گھنٹی بجی۔ اس نے دروازہ کھولا۔ ریٹا تھی۔

"دیر تو نہیں ہوئی آنے میں؟"

"نہیں۔۔ "

"موزارٹ ہے نا؟"

"یس۔۔ "

"بیٹھو۔ کیا لو گی؟"

"تمہیں معلوم تو ہے۔۔ میں کیا لیتی ہوں۔۔ " ریٹا نے کہا۔

"جو تم شوق سے لیتی ہو وہ اس وقت موجود نہیں۔۔ لیکن تھوڑی دیر بعد ہوگا!" اس نے شرارت بھرے انداز میں کہا۔ ریٹا ہنس دی۔

"میرا مطلب ڈرنک سے تھا"۔

"آئی نو۔۔ " یہ کہہ کر گوہر کچن کی جانب بڑھ گئی۔

ریٹا گوہر کی ہم عمر تھی۔ جاذب نظر تھی۔۔ غیر شادی شدہ۔۔ کتوں کی شوقین جو اسکے نزدیک مردوں سے زیادہ وفادار تھے۔ قد میں گوہر سے ذرا لمبی۔ جسامت دبلی پتلی۔ گھنے لمبے بال اور گندمی رنگ۔

دونوں دوست ایک ہی صوفے پر تھیں۔ رسم نبھانے کے لئے دونوں نے ایک دوسرے کو چیرز کہا۔ پھر حسب معمول ادھر ادھر کی باتیں شروع ہوگئیں۔ عورتیں عورتیں ہی رہتی ہیں۔ تنہا ہوں اور غیبت کا دور نہ چلے۔۔ یہ ممکن نہیں! گھنٹوں گھر کے اندر فضول گپ شپ کریں گی۔ پھر کہیں گی کہ دیر ہو رہی ہے، اب چلتی ہوں بہن۔ اس کے باوجود کم از کم ایک گھنٹہ مزید کھڑے کھڑے وقت رخصت دروازے یا گیٹ پر مزید گفتگو کرینگی۔ بندہ پوچھے بیبیوں کیا یہ ایک گھنٹے والی آخری گپ شپ آرام سے گھر کے اندر نہ ہو سکتی تھی پہلے والی چار گھنٹے کی سیر حاصل گفتگو کی طرح؟

"کیا ٹائم دیا تھا حرامی کو؟"ریٹا نےپوچھا۔

"آنے والا ہوگا۔۔ لو آ گیا۔۔ " گوہر نے کہا جب عین اسی لمحے اپارٹمنٹ کی گھنٹی بجی۔ وہی تھا۔۔ شاہ!

"ہائے باسٹرڈ۔۔ " گوہر نے کہا۔ اس قسم کی نجی محفل میں شاہ مختلف ناموں سے جانا جاتا تھا۔۔ باسٹرڈ، ڈاگ، پپی، پگ، کتا، حرامی، حرامزادہ۔۔ وغیرہ وغیرہ۔ یہ القابات شاہ کے لئے ویاگرا کا اثر رکھتے تھے۔ پھر گوہر کو شاہ کے پس منظر کا مکمل علم تھا۔ اس کے گاؤں میں سب ہی اسکو "حرامی حرامی" کہا کرتے تھے۔ اسی لئے وہ بھاگ کر شہر آ گیا تھا اور اپنے گاؤں سے لاتعلقی اختیار کر چکا تھا۔

"میرا پیارا پپی!" ریٹا کے منہ سے یہ نکلنے کی دیر تھی کی شاہ فوراً دونوں خواتین کے قدموں میں لوٹنے لگا۔ وہ کسی بھی وفادار کتے سے بڑھ کر انکے پاؤں چاٹ رہا تھا۔

"ویری گڈ، ویری گڈ۔۔ " دونوں خواتین باری باری کہہ رہی تھیں اور شاہ باری باری ان کے پیر چاٹ رہا تھا۔ وہ لاونج میں بچوں کی طرح بھاگتیں۔ شاہ انکا پلے کی طرح تعاقب کرتا۔۔ ہاتھوں اور گھٹنوں کے بل۔ دونوں نے اسے اتنا دوڑایا کہ کچھ دیر بعد وہ ہانپنے لگا۔ وہ "پانی پانی" کر رہا تھا۔

"تھوڑا اور دوڑ۔ پھر ہم تجھے چشمے سے ابلتا تازہ پانی پلائیں گے"۔ ریٹا بولی۔ اس پر گوہر نے کھل کر قہقہہ بلند کیا۔

شاہ کو ذلیل کرکے دونوں مستورات کو ایک انوکھی مسرت محسوس ہوتی۔ وہ ان دونوں کا کھلونا تھا جس پر ان ہی کی مرضی چلتی۔ وہ شاہ کو ننگی ننگی گالیاں دیتیں۔ ایسی گالیاں جن کا مزہ شرفاء کو صرف کسی چکلے کی ڈیرے دارنی، بیسوا یا کسبی سے ہی میسر تھا۔ لیکن یہ دونوں خواتین مغرب کی اعلی ترین جامعات سے پی ایچ ڈی تھیں۔ ان کے منہ سے ایسی "چنیدہ" اور "نپی تلی" گفتگو اگر خالص ترقی کا سٹاف سن لیتا تو پہلا شک ان کی سند پر ہی کرتا۔ لیکن یہ ان کا ذاتی آستانہ تھا جہاں بڑے بڑے گدی نشینوں کی مرشد و پیر و مربی یہ دونوں دوشیزائیں ہی تھیں۔ اس آستانے کا فلسفہ حیات سو فیصد عملی تھا۔۔ کھلا کھاؤ ننگا نہاؤ! بس یہ ہی اک محاورہ ایسی گفتگو کے حق میں بطور دلیل استعمال کیا جا سکتا تھا۔

شاہ پیاس سے جاں بلب تھا۔ وہ نیم مردہ حالت میں قالین پر پڑا تھا۔ گوہر اسکے سر ہانے اور ریٹا پتیانے تھی۔ جیسے دونوں جھک کر اس زندہ لاش کو قبر میں دھکیل دیں گی۔ لیکن وہ ابھی مرا نہیں تھا۔ پانی پانی کر رہا تھا۔ دونوں خواتین کو اس پر ترس آ گیا۔ پھر ایک معجزہ ہوا۔ دونوں اس کے سرہانے آ گئیں اور پانی کے دو فوارے پھوٹے۔ دو چشموں کے پانی نے شاہ کو سیراب کر دیا۔ وہ پل بھر میں بھلا چنگا ہوگیا۔ "تو صرف پپی کی ہی اداکاری کر سکتا ہے۔۔ پیر کی نہیں!" گوہر نے سکرٹ درست کرتے کہا۔

"حرام کا پلا!" ریٹا نے کہا اور شاہ چاؤں چاؤں کرنے لگ گیا۔

***

"شاہ تمہیں جنسی طور پر ہراس کر رہا تھا مگر کس لئے؟ اور تم آج نہیں تو کل اسکے بستر میں ہوتیں۔ ملتا کیا؟ چند ہزار روپے کی نوکری چھوٹنے سے بچ جاتی! لیکن یہی کام کرکے تم لاکھوں نہیں کروڑوں کما سکتی ہو۔۔ صرف چند برسوں میں۔ بس تم نے میرے مشوروں پر عمل کرنا ہے اور اس کی اوقات کسی کتے سے زیادہ نہیں۔ ہم تینوں کتا بنائیں گے اسے اور یہ بھاؤں بھاؤں چاؤں چاؤں کرے گا۔ گوہر نے گاڑی کو تیزی سے موڑتے کہا۔ وہ بلقیس سے مخاطب تھی جو حال ہی میں ادارے میں آئی تھی اور شاہ کے نیچے کام کرتی تھی۔

پچھلی سیٹ پر ریٹا بیٹھی تھی۔ یہ تینوں شاہ کے اپارٹمنٹ جا رہے تھے۔ اس نے آج ان تینوں کے اعزاز میں ایک پارٹی رکھی ہوئی تھی۔ یہ جگہ شاہ کی رہائش نہ تھی۔ عیاشی کا اک اڈا تھا۔۔ پوش ہاوسنگ سوسائٹی میں۔۔ شہر سے چند میل دور۔ یہ ذاتی نہیں کرائے کا فلیٹ تھا۔ کرایہ وہ اپنی جیب سے نہیں دیتا تھا۔ ایک مرید پھنسایا ہوا تھا۔۔ سادح لوح۔ پوری بلڈنگ اسی کی تھی۔ اپنے پیر کو خوش کرنے کے لئے اس نے یہ اپارٹمنٹ خوبصورتی سے آراستہ کرکے اسے بخشا ہوا تھا۔

شاہ نے ہر چیز کا اہتمام کیا ہوا تھا۔ رنگ برنگی مدہم لائٹس نے ماحول کو رومانوی بنا رکھا تھا۔ لاونج میں چاروں طرف صوفے اور بیچ میں ہاتھ کابنا ہوا خوبصورت قالین تھا۔

گھنٹی بجی۔

"لو آ گئے!" شاہ نے دروازے کی طرف لپکتے اپنے آپ سے کہا۔ وہی لوگ تھے جن کا اسے انتظار تھا۔ سب مہمان لاونج میں اپنی اپنی نشستوں پر براجمان تھے۔ شاہ نے ان سے پوچھا کہ کون کیا پینا پسند کریگا۔

"میرے لئے وہسکی"۔ ریٹا نے کہا۔

"میرے لئے بھی"۔ گوہر بولی۔

"اور تم کیا لوگی بلقیس؟" شاہ نے پوچھا۔

"جو میڈم کہیں گی!" بلقیس نے کہا۔

"پہلے کبھی اتفاق ہوا پینے کا؟" گوہر نے پوچھا۔

"نہیں!"

"تو پھر اسے اورنج جوس یا کوئی بھی سوفٹ ڈرنک دے دو"۔ گوہر نے کہا۔

"نہیں میڈم۔ روم میں رومن کی طرح کرنا چاہیے!" بلقیس نے کہا اور سب نے بیک وقت اس نوآموز دوشیزہ کے حوصلے اور "سیکھنے" کے جذبے کی داد دی۔

"تو پھر تینوں کے لئے وہسکی"۔ گوہر نے کہا اور شاہ جھٹ پٹ ڈرنکس لے آیا۔

"بلقیس کیا تمہیں معلوم ہے اپنے شاہ جی "کتا" بہت اچھا بنتے ہیں! شاہ ہمیں ذرا بتاؤ کہ بھوکا کتا کس طرح بھونکتا ہے۔ اس سے زیادہ بھوکا کیسے اور جو بہت ہی بھوکا ہو وہ کیسے بھونکتا ہے؟ چھوٹا کتا اور بڑا کتا کیسے بھونکتے ہیں؟ پرس پپی کیسے بھونکتا ہے؟ جس کتے کا پیٹ بھرا ہوا ہو وہ کیسے بھونکتا ہے اور جو کتا رج کے حلوہ کھانے کا شوقین ہو، وہ کیسے بھونکتا ہے۔۔ حلوہ کھانے کے بعد؟" گوہر نےکہا اور غور سے شاہ کی طرف دیکھا۔ اسکے چہرے پر کئی رنگ آئے اور گئے مگر بےشرم اور بےغیرت بننے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہ تھا۔ ویسے بھی اسکے خمیر میں غیرت اور شرم کا نام ونشان تک نہ تھا۔ وہ قالین پر بیٹھ گیا اور مختلف انداز میں بھونکنے لگا۔ تینوں خواتین نے دل کھول کر تالیاں بجائیں اور قہقہہے لگائے۔

"شاہ پپی کیسے اپنی مالکن کے پیر اور جوتے چاٹتا ہے۔۔ کرکے دکھا!" گوہر بولی۔ شاہ کو کرکے دکھانا پڑا۔

"چل آج پٹہ پہن۔ نکال اسے اور وہ کالا والا ہنٹر بھی نکال!" گوہر نے نیا حکم جاری کیا۔ شاہ گھٹنوں اور ہاتھوں کے بل چلتا ایک کمرے میں گیا۔ تھوڑی ہی دیر بعد وہ ڈاگ بانڈیج سیٹ پہنے ہنٹر دانتوں میں دبائے کسی ننگ دھڑنگ کتے کی طرح کمرے سے باہر نکلا۔۔ گوہر کے پیروں میں لوٹا اور ہنٹر اسکے ہاتھوں میں چھوڑ دیا۔

تینوں حسیناؤں نے باری باری اس پر ہنٹر برسائے۔ اسے ہنٹر کھانے کے پرانی عادت تھی۔ کھال گینڈے کی طرح سخت ہو چکی تھی۔ ہلکی سی آہ بھی اس کے منہ سے نہ نکلی۔ ہر ہنٹر پر وہ بھونکنا شروع ہو جاتا۔

"باتھ روم کہاں ہے؟" اچانک بلقیس نے پوچھ لیا۔

"تمہارے سامنے ہے۔ مجھے بھی ضرورت محسوس ہو رہی ہے!" گوہر نے شاہ کی طرف اشارہ کر تے کہا۔ "مجھے بھی!" ریٹا بولی۔ شاہ اور قالین دونوں بھیگ چکے تھے!

 

***

"تمہاری شکایات بڑھتی جا رہی ہیں۔ یہ دیکھو!" گوہر نے شاہ کے ہاتھ میں ایک خط تھماتے کہا جو اسے ڈونر نے لکھا تھا۔

"اور ذرا یہ بھی دیکھو!" اس بار گوہر نے اس کے ہاتھوں میں کاغذوں کا ایک پلندہ تھما دیا۔ یہ ان ویب سائیٹس کے لنک تھے جو شاہ دفتر میں بیٹھ کر دیکھا کرتا تھا۔ سب پورنوگرافک ویب سائیٹس تھیں۔

"یہ آپ کو کس نے دیں؟"

"آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ نے۔۔ " گوہر نے کہا۔

"آپ نے آرڈر دیا ہوگا تو انہوں نے میری ہسٹری نکالی۔۔ "

"میں نے نہیں بدر نے۔ یہ مت بھولا کرو کہ وہ ڈپٹی ہیڈ ہے اس ادارے کا اور آئی ٹی براہ راست اسکے نیچے کام کرتی ہے۔ چلو یہ تو میں سنبھال لوں گی۔ لیکن ڈونر کا خط تشویش ناک ہے۔ کسی نے نامعلوم ای میل لکھی ہے ڈونر کو۔ اس ای میل کے ساتھ اس نے درجنوں فائلز اٹیچ کی ہے جس میں تماری ڈھابے پر کئی گئی بے ہودہ تقاریر اور فرمودات ہیں عورتوں کے بارے میں جس میں میرا، ریٹا، بلقیس اور بہت ساروں کا ذکر ہے۔

تم میری سوچ سے کہیں زیادہ گھٹیا انسان ہو!" گوہر نے شاہ کو افسوسناک لہجے میں کہا۔

"وہ تو میں ہوں۔ ایک گھٹیا انسان ہی کتا بن کے تمہارے آگے دم ہلا سکتا ہے۔ ایک گھٹیا انسان پر ہی تو موتا جا سکتا ہے! اس وقت سوال یہ ہے کہ اس مصیبت سے کیسے نمٹا جائے"۔ شاہ نے پوچھا۔

"بیسٹ آپشن یہ ہے کہ تم استعفی دے دو۔ اس طرح عزت سے چلے جاؤ گے۔ گریجویٹی، انشورنس اور پراویڈنٹ فنڈ ملا کر ایک بہت بڑی رقم تمہیں یک مشت مل جائے گی۔ اس رقم کا پرافٹ ہی تمہارے لیے کافی ہوگا اگر تم رنڈی بازی چھوڑ دو تو! اسکے علاوہ تمہیں عمدہ سی فئیر ویل پارٹی بھی دے دینگے۔ عزت اور وقار سے چلے جاؤ گے جو تمیں سوٹ نہیں کرتا!" گوہر نے کہا۔

"پھر تو بھی استعفی دے دے اور ساتھ میں ریٹا اور بلقیس کو بھی یہ ہی آپشن دے دے!" شاہ اب بدتمیزی پر اتر چکا تھا۔

"تمیز سے بات کرو! تمہارا مطلب کیا ہے؟" گوہر نے پوچھا۔

"شاہ کبھی کچی گولیاں نہیں کھیلتا۔ جس طرح کسی نامعلوم کے پاس میری آڈیوز ہیں اسطرح میرے پاس تمہاری وڈیوز ہیں۔ مجھے نکالا تو وہ سب ڈونرز کو بھیج دونگا۔ شاہ اکیلے نہیں سب کے ساتھ ڈوبے گا!" شاہ نے کہا۔ گوہر کے چہرے کا رنگ پیلا پڑ چکا تھا۔

"میں کب چاہتی ہوں تمہیں نکالنا۔ لیکن بات اوپر تک پہنچ چکی ہے"۔ گوہر بولی۔

"بات تمہارے کنٹرول میں ہے۔ آئی ٹی والا مسئلہ تو تم چٹکی بجاتے حل کر لوگی۔ رہی بات ڈونر کی تو اس نے کونسا یہاں آ کر سب کی آواز کا ٹیسٹ لینا ہے۔ تم کہہ دینا کہ کسی دل جلے کی حرکت ہے۔ یہ شہباز نے ہی کیا ہوگا۔ بتا دینا کہ اصلی مجرم وہ تھا۔ تم نے اسے نکال دیا اور وہ اس طرح ادارے کے خلاف ہوگیا اور ڈونر بھی تو تمہاری مٹھی میں ہے۔ بلقیس کس دن کام آئے گی؟ ایک رات سلا دو اسے ڈونر کیساتھ یا تم اور ریٹا دونوں سو جاؤ۔ سب ٹھیک ہو جائے گا!" شاہ نے ہوشیاری سے حل پیش کر دیا۔

"یہ اتنا آسان نہیں! لیکن تم نے ہماری وڈیوز کیوں بنائیں؟" گوہر کو غصہ تو بہت آیا لیکن یہ وقت جذبات پر قابو پانے کا تھا۔

"اسی دن کے لئے کہ اگر کبھی تم میں سے کوئی بھی مجھے بلیک میل کرنے کی کوشش کرے تو میرے پاس اس چال کا توڑ پہلے سے ہی موجود ہو"۔ شاہ نے کہا۔ "لیکن فکر نہ کرو۔ میرے سوا کسی کو بھی ان وڈیوز کا علم نہیں"۔

"تم جھوٹ بول رہے ہو!" گوہر نے کہا۔

"اچھا تو پھر تم تینوں آج ہی آ جاؤ میرے اپارٹمنٹ پر اور خود دیکھ لینا اپنی آنکھوں سے ہم سب کے کرتوت۔ حمام میں سب ہی ننگے ہیں۔ بہتر ہوگا سب مل کر ایک دوسرے کا پردہ رکھیں۔ میں تو مرونگا ہی تم بھی نہیں بچو گے۔ اب بال تمہاری کورٹ میں ہے۔ شام آٹھ بجے میں تم تینوں کا انتظار کرونگا۔ کھانا میرے ساتھ ہی کھانا۔ پھر کچھ کھیل کود کرینگے!" شاہ شیطانی مسکراہٹ چہرے پر سجائے گوہر کے کمرے سے باہر نکل گیا۔

***

غصے میں بھری ہوئی گوہر، ریٹا اور بلقیس بے حد پریشان تھیں۔ انکی منزل شاہ کا اپارٹمنٹ تھی۔ کسی کو بھی شاہ کی بات کا یقین نہ تھا۔ سب یہ ہی سمجھ رہے تھے کہ وہ بکواس کر رہا تھا۔ سب سے زیادہ فکر بلقیس کو تھی۔ پتہ چلنے کی صورت میں بلقیس کے باپ نے اسے قتل کرکے گھر کے کچے فرش میں دفن کر دینا تھا۔ ریٹا اور گوہر اپنی پریشانی سے لڑنے کے علاوہ بلقیس کو تسلی بھی دے رہی تھیں۔

کچھ دیر میں وہ سب شاہ کے دروازے پر تھیں۔

"آئیے ائیے تشریف لائیے۔ بیٹھیے!" بیل بجانے پر شاہ نے دروازہ کھولا اور انہیں اندر آنے کا اشارہ کیا۔

"کیا چلے گا؟"

"کچھ نہیں۔ پہلے وہ دکھاؤ"۔ گوہر نے کہا۔

"شاہ نے اپنا لیپ ٹاپ کھولا۔ وہ تینوں ایک ہی صوفے پر تھیں۔ لیپ ٹاپ کو ان کے سامنے پڑی میز پر رکھا اور ایک فائل اوپن کی۔ تینوں کی حیرت قابل دیدنی تھی۔ شاہ یہ دیکھ کر لطف اندوز ہو رہا تھا۔

"بند کر دو اسے!" گوہر نے کہا۔

"یقین آ گیا؟" شاہ نے سب کی طرف دیکھتے کہا۔ کسی نے کوئی جواب نہیں دیا۔

"تمہاری نوکری کو کچھ نہیں ہوگا اگر تم یہ فائلز مجھے دے دو اس یقین دہانی کیساتھ کہ اسکی کوئی اور کاپی تمہارے پاس نہیں"۔ گوہر نے کہا۔

"میں نے تم سے کبھی جھوٹ نہیں بولا۔ یہ اوریجنل فائل تھی۔ اس کے علاوہ ایک کاپی ہے۔ کہاں ہے۔۔ یہ نہیں بتا سکتا۔ بس اتنا یقین دلاتا ہوں کہ میرے علاوہ دنیا میں کسی اور شخص کو اس بات کا علم نہیں"۔ شاہ نے کہا۔

"مان لیتے ہیں۔ تو پھر ہمیں یہ لیپ ٹاپ اور وہ کاپی دے دو۔۔ " ریٹا نے کہا۔

"کیا مجھے بدھو سمجھ رکھا ہے؟" یہ دے دوں تو میرے پاس کیا رہ جاتا ہے؟ تم تو مجھے ایسے باہر نکال کر پھینک دوگی جیسے دودھ میں سے مکھی۔ لیکن کوئی بھی قسم لے لو، کچھ نہیں ہوگا۔ بس تم میرا مسئلہ حل کر دو!" شاہ مسکراتے ہوئے بولا۔

"ٹھیک ہے۔ تمہیں کچھ نہیں ہوگا۔ اب ہم چلتے ہیں"۔ گوہر نے کہا۔

"ارے میں نے تو کھانے کا بندوبست کیا ہوا ہے۔ کچھ دیر بیٹھو تو سہی"۔

"ضرور بیٹھتے لیکن ابھی ہم سب آپ سیٹ ہیں۔ جلد ملیں گے۔۔ قلوپطرہ اپارٹمنٹ میں۔۔ ہم تینوں!" گوہر نے کہا۔

"میں سمجھ سکتا ہوں۔ لیکن یقین کرو میں ایسا آدمی نہیں۔ بس اپنی سیفٹی کے لئے کیا جو کچھ کر سکا"۔ شاہ نے پھر یقین دہائی کرائی۔ تینوں عورتیں وہاں سے نکل آئیں۔

"یہ سچ کہہ رہا ہے یا جھوٹ؟" ریٹا نے پوچھا۔

"سچ بھی ہو سکتا ہے اور جھوٹ بھی۔ ابھی مشکل ہے پتہ چلانا۔ پر جلد پتہ چل جائےگا"۔ گوہر نے کہا۔

"کیسے؟"

"صبر!" گوہر نے جواب دیا۔ اس کے بعد سب خاموش رہے۔ لیکن گوہر کا ذہن بہت تیزی سے چل رہا تھا۔ وہ ایک خطرناک کھیل کھیلنے جا رہی تھی۔ کامیابی کی صورت میں سب کچھ بچ جاتا۔ ناکامی مکمل تباہی لے کر آتی۔ پر اب پیچھے رہ ہی کیا گیا تھا۔ زندگی میں جہاں اتنے جوئے کھیلے اور ہر ایک جیتا، ایک اور سہی۔ شاید یہ پہلی شکست ہو؟ لیکن اس شکست کو بھی فتح میں تبدیل کرنے کا پلان اس کے دماغ میں تھا اور بہت ہی واضح۔

***

"تم فکر نہ کرو بیٹی۔ کام ایسا ہوگا کہ کسی کے فرشتوں کو بھی علم نہیں ہو سکے گا"۔ خان گل نے گوہر کو اطمینان دلاتے کہا۔

وہ قابل بھروسہ نوکر تھا۔ ہر فن مولا۔ گاؤں میں گوہر کی زمینوں کی دیکھ بھال کیا کرتا تھا۔ آج وہ کافی عرصے بعد گاؤں آئی تھی۔ حالانکہ یہ اسکے دفتر سے بذریعہ موٹر کار دو گھنٹے کی مسافت پر تھا۔ بہت خوش تھی یہ دیکھ کر کہ خان گل ہر شے کی بہت اچھی دیکھ بھال کر رہا تھا۔ سوا چھ فٹ کا خان گل۔ عمر پچپن کے لگ بھگ۔ جسم کسی پہلوان جیسا۔ اس عمر میں بھی چار جوانوں پر بھاری۔ دو قتل کر چکا تھا۔ عدم ثبوت کی بنا پر عدالت کو اسے بری کرنا پڑا۔ خان گل زبان کا پکا تھا۔ آج تک کسی کو خبر نہ ہونے دی کہ دونوں قتل اس نے گوہر کے لئے کیے۔ زمین کا تنازعہ تھا۔ عدالت کے چکر میں پڑتی تو ساری عمر انصاف نہ ملتا۔ اس نے خان گل سے ذکر کیا اور مسئلہ منٹوں میں حل ہوگیا۔

"تم اکیلے کر لو گے خان گل؟"

"بیٹی پہلے بھی یہ کام اکیلے ہی کیا تھا۔ اب بھی اکیلے ہی کرونگا۔ خان گل اپنے علاوہ کسی دوسرے پر بھروسہ نہیں کرتا"۔

"ٹھیک ہے یہ رکھو!" گوہر نے پرس سے پانچ ہزار کے نوٹوں کی ایک نئی گڈی خان گل کی طرف بڑھاتے کہا۔

"خان گل بکاؤ مال نہیں۔ یہ واپس رکھ لو۔ نہیں رکھ سکتیں تو کوئی اور آدمی ڈھونڈ لو اس کام کے لئے۔ کوئی باپ اپنی بیٹی سے پیسہ نہیں لیتا"۔

گوہر نے بھیگی آنکھوں کیساتھ نوٹ دوبارہ پرس میں رکھ لئے۔ خان گل نے اسکے سر پر ایسے ہاتھ رکھا جیسے وہ اسی کی اپنی بیٹی ہو۔

***

"میرا کام ہوا یا نہیں؟" شاہ گوہر کے دفتر میں تھا۔

"لگتا ہے ای میل نہیں دیکھی تم نے۔۔ جاؤ پہلے اسے پڑھو۔ پھر آنا مگر گرما گرم دودھ پتی کے ساتھ!" گوہر بولی۔

دو ای میل تھیں۔ ایک گوہر نے لکھی تھی ڈونر کو۔ اس میں لکھا تھا کہ آڈیوز جعلی تھیں۔ دوسری ڈونر کا جواب تھا جس میں اسنے اظہار اطمینان کیا تھا۔ کچھ دیر بعد وہ دودھ پتی سمیت گوہر کے کمرے میں تھا۔

"بہت عمدہ بھئی! بہت نام سنا تھا شیدے کی دودھ پتی کا۔ میں پہلی بار ٹرائی کر رہی ہوں۔ سب ہی لوگ اس دودھ پتی کی تعریف کرتے تھے۔ آج پتہ لگ گیا کیوں کیا کرتے تھے"۔ گوہر نے پہلی چسکی لیتے ہی کہا۔

"آج شام ملیں لو سپاٹ پر؟" گوہر نے شاہ سے پوچھا۔

یہ ایک خاص جگہ تھی پہاڑوں کے بیچ۔ ویران سنسان۔ چھپ کر پیار کرنے والوں کے لئے آئیڈیل! یہاں کئی ایسے مقامات تھے جہاں دو انسان دنیا والوں کی نظروں سے دور اپنا ایک جہاں کافی دیر کے لئے کامیابی سے بنا سکتے تھے۔ گوہر، ریٹا اور شاہ کئی بار یہاں آ چکے تھے اور تینوں میں سے کوئی بھی مایوس نہیں لوٹا۔ دفتر سے بہت زیادہ دور بھی نہ تھی۔ شاہ کی خوشی کا تو ٹھکانہ نہ تھا۔

"کیوں نہیں۔۔ وہاں کتا بننے کا مزا ہی کچھ اور ہے!" شاہ بولا۔

"سات بجے! میں انتظار کرونگی۔ لیٹ نہیں ہونا"۔ گوہر بولی

"فکر نہ کرو ڈارلنگ میں پندرہ منٹ پہلے پہنچ جاؤنگا"۔ شاہ نے کہا۔

***

شاہ وعدے کے مطابق پندرہ منٹ پہلے ہی لو سپاٹ پہنچ چکا تھا۔ وہ ایک بڑے سے پتھر پر آنکھیں بند کئے لیٹا تھا۔ وہ ان تمام لمحات کو ایک ایک کرکے ذہن میں لانے کی کوشش کر رہا تھا جو اس نے یہاں ریٹا، گوہر اور دیگر کئی دلرباؤں کے ساتھ گذارے تھے۔ یہ اس کی زندگی کے حسین ترین لمحات تھے۔ ان کا تصور ہی اس پر نشہ طاری کر رہا تھا۔ ایک ایک منظر اس کی آنکھوں میں جیتی جاگتی تصویر کی طرح اتر رہا تھا۔ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا اور اسکی خوشبو ان مناظر کا حسن دوبالا کر رہی تھی۔ اچانک ایک بھاری بھر کم پتھر اسکے سر پر گرا۔ لمحے بھر میں وہ خون میں نہا گیا۔ شاید یہ پتھر پہاڑوں سے لڑھکتا آ گیا ہو اپنی اصلی جگہ سے ہل کر؟ ایسا یہاں ہوتا رہتا تھا۔ اس سے پہلے کہ وہ پلٹ کر دیکھتا ایک اور پتھر اس کے سر پر گرا۔ پل بھر میں اسکا بھیجہ کھوپڑی سے جدا تھا۔

"حرامی، خنزیر!" خان گل نے اپنے آپ سے کہا۔ اطمینان سے ایک چاقو جیب سے نکالا۔ شاہ کی پتلون کے بٹن کھولے۔ اس کا عضو تناسل کاٹ کر اسکے منہ میں ٹھونس دیا جیسے کسی کا منہ بند کرنے لئے کپڑا ٹھونس دیا جاتا ہے۔ اب سورج غروب ہو چکا تھا اور ہوا تیز ہو رہی تھی۔ یہ وقت تھا گھر لوٹنے کا۔ پرندے بھی قطار در قطار گھر جا رہے تھے۔ خان گل نے جیب سے نسوار کی ڈبیا نکالی۔ ایک گولی بنائی۔ منہ میں رکھی اور گاڑی کی طرف بڑھ دیا۔

"میں نے کہا تھا نہ میں اکیلا ہی کافی ہوں؟ خان گل اللہ کے بعد صرف اپنے آپ پر بھروسہ کرتا ہے بیٹی!" گوہر کے آنکھوں میں ایک بار پھر آنسو آ گئے۔ ایسا صرف ایک سگا اور انتہائی پیار کرنے والا باپ ہی کر سکتا تھا۔

"اپنی بیٹی کی ایک اور فرمائش پوری کر دو۔ انکار نہیں کرنا۔ ورنہ میرا دل ٹوٹ جائے گا۔ اسے قبول کر لو!" گوہر نے نوٹوں کی وہی گڈی خان گل کی طرف بڑھا دی جو وہ اسے چند روز قبل واپس کر چکا تھا۔ خان گل کے پاس اسے قبول کرنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہ تھا۔ اپنی بیٹی کو کون ناراض کر سکتا تھا؟

***

شاہ کی مسخ شدہ لاش تین دن بعد ملی۔ جنگلی جانور اسکے جسم سے سارا گوشت نوچ کر کھا چکے تھے۔ اسکے بٹوے میں موجود شناختی کارڈ سے لاش کی شناخت کی ہوئی۔

"آپ نے یہ خبر دیکھی؟" ساجد نے اخبار گوہر کے سامنے رکھتے کہا۔

"ہاں دیکھی۔ ویری سیڈ!" گوہر نے کہا۔

I am not sad at all. The pig deserved it!

(مجھے کوئی افسوس نہیں۔ اس سور کے ساتھ ایسا ہی ہونا چاہیے تھا!)

ساجد نے کہا۔ پھر ایک اور جملے کہہ کر باہر نکل گیا۔

"گڈ جاب گوہر!"

گوہر اس جملے غور کرتی رہی۔ پھر خود ہی ہنس دی۔ ساجد کا مطلب تھا کہ اس سور کے بچے کے ساتھ جس نے بھی یہ کیا بہت اچھا کیا!

"فرید اور فرقان کو کہو مجھ سے ملیں"۔ گوہر نے انٹر کام پر بلقیس سے کہا۔ دونوں چند لمحوں میں حاضر ہو گئے۔ ان کے چہرے کا رنگ فق تھا۔

"اپنے اپنے استعفی لکھو اور مجھے ای میل کرو۔ وجہ میں لکھو "ذاتی وجوہات"۔ ایک مہینے کا نوٹس دو۔ یہ کام اگلے پندرہ منٹ میں ہو جانا چاہیے!" گوہر نے ان دونوں سے کہا۔

"جی میڈم جی میڈم۔۔ " اس سے زیادہ کہنے کی انہیں ہمت نہ ہوئی۔ دل ہی دل میں شاہ کو گالیاں دیں اور اللہ کا شکر ادا کیا کہ برطرفی کا پروانہ ہاتھ میں نہیں تھما دیا گوہر نے!

اس کام سے فارغ ہونے کے بعد گوہر نے ایک ای میل لکھی۔ ٹو والے خانے میں اس نے ریٹا، بلقیس، ساجد، ذکیہ، حیدر اور ڈاکٹر صاحب کا نام لکھا۔ سبجیکٹ میں:

"اگر دودھ پتی کا موڈ ہو تو دس منٹ بعد ڈھابے پر پہنچ جائیں!"