کالج کے پروفیسر مسٹر وحید کلاس میں لیکچر دے رہے ہیں۔ تقریباً بیس طالب علم ہیں۔ ان میں ایک محمود ہے۔ سن 1980 ہے۔ مارشل لا کا دور ہے۔ لیکچر اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے۔
"اچھا، آج کا سبق یہیں ختم کرتے ہیں۔ مگر جاتے جاتے ایک بات یاد رکھنا۔ ایسی بات جو شاید کتابوں میں نہ ملے۔ ایک ہندو کبھی تمہارا دوست نہیں ہو سکتا۔ کسی بھی مذہب کا آدمی تمہارا دوست بن سکتا ہے، حتیٰ کہ کوئی دھریہ بھی۔ مگر ہندو۔۔ کبھی نہیں!"
"سر۔۔ یہ تو بیالوجی کی کلاس ہے!" محمود بولا جو کلاس میں ذہین ترین ہے۔
"زندگی کے کچھ سبق نصاب سے باہر بھی ہوتے ہیں"۔
"ہو سکتے ہیں سر۔ مگر ہر سبق کی کوئی وجہ بھی ہوگی"۔
"وجہ وقت سکھا دیتا ہے"۔
"پھر بھی جاننے میں کیا حرج ہے؟ آخر ہندو مسلمان کا دوست کیوں نہیں ہو سکتا؟"
"کیونکہ یہی حقیقت ہے"۔
"حقیقت یا آپ کا یقین ہے؟"
"کلاس ختم ہونے کے بعد تم مجھ سے میرے کمرے میں ملنا!"
***
"تم جو پوچھ رہے تھے۔۔ اس کا جواب آسان نہیں"۔ پروفیسر وحید نے محمود سے کہا۔
"میں سمجھنے کی کوشش کرونگا سر"۔
"میں نے جو کہا، وہ کسی کتاب سے نہیں سیکھا۔ زندگی نے سکھایا ہے"۔
"پھر بھی انسان کو سوال کرنے کا حق تو ہونا چاہیے"۔
"ہر سوال جواب کا مستحق نہیں ہوتا"۔
"اور ہر جواب سچ نہیں ہوتا!" محمود نے ترکی بہ ترکی جواب دیا۔
کچھ دیر کی خاموشی کے بعد پروفیسر وحید دوبارہ شروع ہوئے: "تمہاری عمر کتنی ہے؟"
"بیس برس"۔
"بیس برس میں آدمی کتابیں پڑھ سکتا ہے، انسان نہیں پڑھ سکتا"۔
"اسی لیے میں انسانوں کے بارے میں پوچھ رہا ہوں!"
"ہندو اور مسلمان دو الگ قومیں ہیں۔ اسی بنیاد پر پاکستان بنا"۔
"قوم الگ ہو سکتی ہے سر۔ مگر دو انسان دوست کیوں نہیں ہو سکتے؟"
"کیونکہ تاریخ دونوں کے درمیان کھڑی ہے"۔
"تاریخ دیوار بنتی ہے یا پل
"جب دیوار خون سے بنی ہو تو پل نہیں بنتی۔ تم نے اپنے باپ کی لاش نہیں دیکھی۔ تم نے اپنی ماں کو بیوہ ہوتے نہیں دیکھا۔ تم نے ایک ہی دن میں اپنے گھر کے گیارہ جنازے نہیں اٹھائے۔ میں نے اٹھائے ہیں۔ اسی لیے میں یہ کہہ سکتا ہوں جو تم ماننے کو تیار نہیں"۔ پروفیسر وحید نے جذباتی لہجے میں کہا۔
"اگر چند ہندو قاتل تھے تو کیا ہر ہندو قاتل ہے؟"
"جب زخم گہرا ہو تو چہرے الگ الگ نہیں پہچانے جاتے"۔
"پھر یہی بات دوسری طرف بھی سچ ہوگی۔ مسلمانوں نے بھی تو قتل کیے تھے!"
"بالکل کیے تھے لیکن بہت کم اور پھر ہندو بھی تو اپنے بچوں کو یہ ہی سکھاتے ہیں کہ ایک مسلمان ہرگز ہندو کا دوست نہیں ہو سکتا۔ ہر مذہب سے تعلق رکھنے والا ہو سکتا ہے۔ مگر مسلمان نہیں۔۔ لگتا ہے تم کورس کی کتابوں کے علاوہ بھی بہت کچھ پڑھتے ہو!"
"جی۔ میرے والد برٹش کونسل اور امریکن سنٹر کی لائبریری سے کتابیں لاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں صرف اپنی تاریخ پڑھنے والا آدھی تاریخ جانتا ہے"۔
"اور مغربی مؤرخ پوری تاریخ جانتے ہیں؟" پروفیسر وحید نے طنزیہ لہجے میں کہا۔
"کم از کم وہ ہماری کتابوں سے مختلف بات ضرور کہتے ہیں۔ مثلاً پینسٹھ کی جنگ لیجئے۔
ہمیں بتایا جاتا ہے کہ بھارت نے حملہ کیا۔ سب مغربی مؤرخ لکھتے ہیں کہ آغاز ہمارے آپریشن جبرالٹر سے ہوا۔ اسی طرح اکہتر کو لیجئے۔ ہم نے بنگالیوں کی نسل کشی کی۔ انہوں نے بھارت سے مدد مانگی۔ ہمیں فتح کی خبریں ملتی رہیں، مگر اگلی صبح ہماری فوج نے ہتھیار ڈال دیے اور اس طرح مشرقی پاکستان ہم سے علیحدہ ہوگیا۔ ہم آج تک جسٹس حمود الرحمان کمیشن رپورٹ کو منظر عام پر نہ لا سکے۔ کیوں؟"
"یہ ایک علیحدہ بحث ہے۔ تم کتابوں پر یقین کرتے ہو۔ میں قبروں پر!"
"میرے والد تقسیم کے وقت دلی کے پہاڑ گنج میں تھے۔ ان کے ایک ہندو دوست نے رات ہونے سے پہلے ہمارے پورے خاندان کو اپنے گھر بلا لیا۔ کہا آج تمہارے محلے پر حملہ ہوگا۔ اگر وہ نہ بلاتے تو شاید آج میں بھی نہ ہوتا۔ صبح جب دروازہ کھلا۔۔ گلی لاشوں سے بھری ہوئی تھی۔ ایک کشمیری مسلمان کی پانچ جوان خوبصورت لڑکیاں تھیں۔ ان سب کی برہنہ لاشیں گلی میں پڑی تھیں۔ اس دن میرے والد نے ایک بات سیکھی۔ قاتل کا کوئی مذہب نہیں ہوتا اور نجات دینے والے کا بھی نہیں!"
"ایسے واقعات ہوتے ہیں۔ مگر وہ استثنا ہوتے ہیں۔ میرا ایمان پھر بھی یہی ہے۔۔ ایک ہندو کبھی بھی مسلمان کا دوست نہیں ہو سکتا"۔ پروفیسر وحید ہار ماننے کے موڈ میں نہ تھے۔
"اور میرا ایمان یہ ہے، ہر انسان کو اس کے مذہب سے پہلے اس کے کردار سے پہچاننا چاہیے"۔ محمود بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہ تھا۔
"زندگی میں ایک دن تم کسی ہندو سے ضرور ملو گے۔ پہلے وہ تمہیں اچھا لگے گا۔ پھر تم اس پر اعتماد کرو گے۔ شاید اسے اپنا سب سے قریبی دوست بھی سمجھنے لگو اور پھر ایک دن وہ تمہیں ایسا دھوکہ دے گا کہ تمہیں میری آج کی ہر بات لفظ بہ لفظ یاد آئے گی۔ اس دن میرے پاس آنا اور صرف اتنا کہنا کہ سر میں دیر سے سمجھا۔ آپ غلط نہیں تھے۔ بس اتنا کہہ دینا۔ میں مزید کچھ نہیں پوچھوں گا"۔ پروفیسر وحید اس بحث میں مزید الجھنا نہیں چاہتے تھے۔
"اگر ایسا کچھ ہوا تو میں ضرور حاضر ہونگا!" محمود نے پراعتماد لہجے میں کہا۔
***
بیس برس گزر چکے تھے۔ انڈین ایئرلائن کی پرواز آسمان میں تھی۔ محمود کھڑکی سے باہر بادلوں کو دیکھ رہا تھا۔ اس کے چہرے پر ایک خاموش سنجیدگی تھی، جیسے وہ صرف دہلی نہیں، کسی پرانی یاد کی طرف جا رہا ہو۔ اتنے میں ائیر ہوسٹس شیلا اس کے قریب سے گزری۔ وہ ایک خوبصورت، باوقار، خود اعتماد اور پرسکون شخصیت کی مالک تھی۔
"معاف کیجیے گا۔ کیا کوئی اخبار مل سکتا ہے؟"
"جی ضرور"۔
وہ کچھ اخبارات لا کر پیش کرتی ہے۔
"یہ لیجیے!"
محمود ایک اخبار دیکھ کر ہلکا سا مسکراتا ہے
"سنگم ٹائمز! آپ کے پاس کچھ اور نہیں؟"
"آپ کو یہ پسند نہیں آیا؟"
"نہیں ایسی بات نہیں۔ اگر ہو سکے تو دی ہندو یا انڈین ایکسپریس مل سکتا ہے؟"
"وہ تو نہیں ہے۔ آپ انہیں پر گذارہ کیجئے۔ پہلی بار انڈیا آ رہے ہیں؟" شیلا نے دلچسپی سے محمود کو دیکھتے کہا۔
"جی"۔
"اور آپ کو ہمارے اخباروں کے نام بھی یاد ہیں؟ یہ عام سی بات نہیں ہے"۔
"پڑوسی ملک کو سمجھنے کے لیے کبھی کبھی اس کے اخبار بھی پڑھنے پڑتے ہیں۔ ورنہ آدمی صرف نقشے دیکھ کر فیصلے کرتا ہے"۔
"آپ کیا کرتے ہیں؟"
"لکھتا ہوں"۔
"صحافی ہیں؟"
"جی"۔
"آپکا شبھ نام کیا ہے؟"
"محمود خان"۔
"آپ وہی تو نہیں جن کے کشمیر، افغانستان اور سیاست پر کالمز دی ہندو اور ہندوستان ٹائمز میں چھپتے ہیں؟" شیلا نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔
"اگر آپ نے واقعی وہ پڑھے ہیں تو پھر آپ صرف ائر ہوسٹس نہیں ہیں"۔ محمود نے مسکراتے کہا۔
"اور اگر آپ واقعی وہی ہیں تو آپ صرف مسافر بھی نہیں ہیں"۔
"دہلی پہلی بار آ رہے ہیں؟"
"ہاں۔ دل تو بہت پہلے آ چکا تھا۔ اب صرف جسم کو اجازت ملی ہے"۔
"دل اور جسم میں یہ فاصلہ کیوں ہوتا ہے؟" شیلا نے پوچھا۔
"سرحدیں صرف زمین پر نہیں ہوتیں جی۔ کبھی کبھی انسان کے اندر بھی بن جاتی ہیں۔
"اور آپ ان سرحدوں کو مانتے ہیں یا توڑتے ہیں؟"
"میں صرف لکھتا ہوں۔ میرے قلم میں اتنی کاٹ نہیں کہ سرحدیں توڑ سکوں"۔
"بہت کاٹ ہے۔ میں نے آپ کے سب مضامین پڑھ رکھے ہیں۔ آپ ہمیشہ دو ملکوں کے درمیان پیار اور محبت کے رشتے کی بات کرتے ہیں۔ آپ جیسے جرنلسٹ بہت کم ہیں پاکستان میں"۔
"نام بہت خوب ہے آپ کا۔ یہ نام سنتے ہی ذہن میں کسی خوبصورت دیوی کا تصور ابھرنے لگتا ہے"۔ محمود نے اسکی آنکھوں کی جانب دیکھتے کہا۔
"اور آپ کا نام سنتے ہی ذہن میں سوال آ جاتے ہیں!" شیلا نے مسکرا کر کہا۔
"آپ کہاں ٹھہر رہے ہیں دہلی میں؟"
"جم خانے میں"۔
"میں ممبر ہوں جم خانے کی۔ بہت اچھے کمرے اور سروس ہے انکی۔ اگر آپ کو کوئی مسئلہ ہو دہلی میں تو مجھے بتائیے گا۔ شاید میں آپ کے کسی کام آ جاؤں۔ یہ میرا نمبر ہے۔ میں انتظار کروں گی"۔
یہ کہہ کر شیلا آگے بڑھ کر مسافروں کی طرف چلی گئی۔ محمود کھڑکی سے باہر دیکھ رہا تھا۔ اس کے چہرے پر ایک ہلکی سی الجھن اور دلچسپی دونوں تھیں۔
***
محمود جم خانے کے آرام دہ کمرے میں بیٹھا اپنے لیپ ٹاپ پر ای میلز چیک کر رہا تھا کہ اچانک فون کی گھنٹی بجی۔ اس نے فون اٹھایا:
"ہیلو!"
"ہاؤ آر یو؟ پہچانا؟"
محمود شیلا کی آواز باآسانی پہچان گیا۔ "کمال ہے۔ آپ کو کیسے پتہ چلا میرا کمرہ نمبر؟"
"یہ میرا دیش ہے اور مجھے اس کے بارے میں سب کچھ پتا ہے"۔
"ارے واہ!"
"میں مذاق کر رہی تھی۔ میں نے جم خانہ کا نمبر ڈائل کیا۔ آپ کا نام بتایا اور انہوں نے میری کال ٹرانسفر کر دی"۔
"آپ بہت ذہین ہیں!"
"میں آپ کو کل ڈنر پر انوائیٹ کرنا چاہتی ہوں۔ آپ کی کوئی انگیج منٹ تو نہیں؟"
"نہیں کوئی نہیں ہے"۔
"میں آپکو جم خانے سے پک کر لونگی"۔
"ہم کہاں جائیں گے؟"
"یہ ابھی نہیں بتاؤنگی۔ کل پتہ لگ جائیگا"۔
"بہت پراسرار خاتون ہیں آپ!"
"اور آپ ایک کھلی کتاب!"
"آپ کو کیسے معلوم؟ ویسے میرا سٹار لی یو ہے اور لی یو لوگ کھلی کتاب کی طرح ہوتے ہیں"۔
"میں نے آپ کو آپکے کالمز اور آپ کے چہرے سے ہی پہچان لیا تھا کہ آپ لی یو ہیں"۔
"اور آپ ورگو ہیں"۔
"آپ کو کیسے پتہ چلا؟"
"آپکی گریس فل پرسنیلیٹی اور کانفیڈنس سے صاف پتہ چل جاتا ہے کہ آپ کا سٹار کیا ہے"۔
"تھینک یو!"
"ایک بات کہنا چاہتا ہوں۔ ہوپ یو وانٹ مائینڈ۔۔ "
"اتنا فارمل ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔ آپ جو چاہے کہہ سکتے ہیں"۔
"آپ بہت خوبصورت ہیں اور انٹیلی جینٹ بھی"۔
"تھینک یو"۔
"ایک اور بات کہنا چاہتا ہوں"۔
"جی!"
"بٹ پرامس یو وونٹ مائینڈ۔۔ "
"میں نے تو آپ کو پہلے ہی کہہ دیا ہے کہ آپ کچھ بھی کہہ سکتے ہیں۔ آئی ول نیور مائنڈ"۔
"ہو سکے تو ساڑھی پہن کر آئیے گا۔ بلیک ساڑی۔۔ "
"کیوں؟"
"بس ویسے ہی کہہ دیا۔ اگر ممکن نہیں تو کوئی بات نہیں"۔
"اپنی جانکاری کے لیے پوچھ رہی ہوں"۔
"اصل میں عورت کا حسن ساڑھی میں خوب نکھر کر آتا ہے اور بلیک میرا فیورٹ کلر ہے"۔
"یہ تو ہے۔ اچھا دیکھتے ہیں۔ پھر کل ملتے ہیں۔ میں شام سات بجے آپ کو پک کر لوں گی"۔
"ٹھیک ہے"۔
"سی یو ڈئیر۔ گڈ نائٹ!"
"گڈ نائیٹ!" محمود گہری سوچ میں تھا۔
***
محمود جم خانے کی لابی میں بڑی بےتابی سے انتظار کر رہا تھا۔ وہ بار بار گھڑی کی جانب دیکھ رہا تھا۔ اتنے میں شیلا آ ہی گئی۔
"ہیلو۔ سوری کچھ دیر ہوگئی۔ ٹریفک بہت تھی"۔
"ہیلو۔ تھینک یو ویری مچ!"
"کس بات کا؟"
"تم میری فرمائش پر کالی ساڑھی پہن کر آئی ہو"۔
"یہ میری موسٹ فیورٹ ساڑھی ہے۔ کیسی لگ رہی ہے"۔
کیا؟ تم یا ساڑھی؟
"دونوں"۔
"بہت ہی سندر لگ رہی ہو اور ساڑھی بھی بہت خوبصورت ہے"۔
"تھینک یو۔ چلو اب چلتے ہیں۔ دیر ہو رہی ہے"۔
"یس!"
"آپکی گاڑی وینٹاج ہے اور بہت اعلی کنڈیشن میں ہے۔ مجھے آج کل کی گاڑیاں پسند نہیں۔ میں نے بھی ٹویوٹا کراون رکھی ہوئی ہے"۔ محمود نے شیلا کی گاڑی میں بیٹھتے کہا۔
"یہ اچانک آپ، "تم" سے "آپ" پر کیوں آ گئے؟"
"یہ تو میں بھی پوچھ سکتا ہوں کہ تم اچانک آپ سے تم پر کیوں آ گئی ہو!" اس بات پر دونوں ہنس دیے۔
"یہ میرے شوہر کی گاڑی ہے۔ یہ کراؤن 1982 ماڈل ہے"۔
"میرے پاس بھی 82 ماڈل ہی ہے مگر تمہاری گاڑی تو زبردست کینڈیشن میں ہے۔ تم شادی شدہ ہو؟"
"ظاہر ہے شادی شدہ ہوں۔ ابھی ابھی ذکر کیا نا اپنے پتی کا!"
"ہووں۔ بچے بھی ہیں؟"
"ہاں دو بیٹے ہیں۔ ایک اٹھارہ برس کا ہے اور دوسرا سترہ برس کا"۔
"عمر سے تو تم 30 سال سے زیادہ نہیں لگتی ہو"۔
"میری عمر 40 برس سے تھوڑا اوپر ہے"۔
"شادی جلدی ہوگئی ہوگی"۔
"کچھ ایسا ہی ہے"۔
"لو میرج؟"
"یس!"
"تمہارے پتی کیا کرتے ہیں؟"
"وہ رئیل سٹیٹ ڈیویلپر ہیں۔ تم شادی شدہ ہو؟"
"نہیں!"
"ابھی تک بھی نہیں کیوں؟ میرے اندازے کے مطابق تمہاری عمر بھی چالیس کے قریب ہی ہے"۔
"ایسا ہی ہے"۔
"اب تک تو شادی ہو جانی چاہیے تھی"۔
"ہونے کو تو بہت کچھ ہو جانا چاہیے تھا!"
"فلسفہ نہیں چاہیے۔ سیدھی بھاشا میں بات کرو"۔
"بس اپنے خوابوں کی ملکہ ابھی تک نہیں ملی"۔
"اس دوران ایک ہوٹل کی پارکنگ میں گاڑی داخل کرتی ہے جو میریٹ ہے۔ گاڑی پارکنگ میں لگانے کے بعد دونوں ہوٹل کے داخلی دروازے کی جانب بڑھتے ہیں"۔
"تو کیا امیج ہے تمہارے ذہن میں اپنے خوابوں کی ملکہ کا؟"
"ڈنر ٹیبل پر بتاؤنگا!"
"کیا لو گے؟" شیلا نے ٹیبل پر بیٹھتے ہی محمود سے پوچھا۔
"جو بھی تم آرڈر کرو!"
"میں تو ویجی ٹیرین ہوں"۔
"بھئی ہم اگر گوشت نہ کھائیں تو بے سرے ہو جائیں"۔
"تو تم گاتے بھی ہو؟"
"ہاں اور وہ بھی کلاسیکل"۔
"ارے واہ پھر تو تم سے گانا بھی سنیں گے"۔
"ضرور!"
"اچھا تو کیا آرڈر کروں تمہارے لیے؟"
"تم میرے لئے مٹن کڑاہی اور روغنی نان آرڈر کر دو"۔
"ایپے ٹائزر نہیں لو گے؟"
"ایپے ٹائزر بھی عجیب چیز ہے۔ یہ بھوک بڑھانے کے بجائے بھوک گھٹا دیتا ہے۔ مجھے پسند نہیں۔ میں سیدھا مین کورس پر جاتا ہوں"۔
"جیسے تمہاری مرضی۔ ڈرنکس میں کیا لو گے"۔
"فریش اورینج جوس اور تم کیا لو گی؟"
"میں سادہ کھانا کھاتی ہوں۔ ویجی ٹیبل سوپ اور دال چاول"۔
"تم گوشت کیا اپنے مذہب کی وجہ سے نہیں کھاتی ہو؟"
"نہیں ایسا نہیں ہے۔ سبزیاں اور پھل مجھے اپنی عمر سے کم دکھنے میں مدد کرتے ہیں۔ دھرم رکاوٹ نہیں ہے"۔ یہ کہہ کر شیلا آرڈر نے آرڈر دے دیا۔
"تم ڈرنک کرتی ہو؟"
"بالکل نہیں اور تم"۔
"کبھی کبھار۔ میں سوشل ڈرنکر ہوں"۔
"پھر میں تمہارے لیے بئیر آرڈر کرتی ہوں"۔
"نہیں ابھی نہیں۔ پھر کسی وقت"۔
ویٹر کھانا لگا رہا تھا۔ دونوں خاموش تھے۔
"تو تمہاری خوابوں کی راج کماری کیسی ہے"۔ شیلا نے ویٹر کے جانے کے بعد پوچھا۔
"سچ کہوں تو بالکل تمہارے جیسی!"
"ایسا کیا ہے میرے میں؟"
"نہ جانے کیوں میری یہ خواہش رہی کہ ایسی عورت میری زندگی میں آئے جو ہندو ہو۔ سلیو لیس اور مختصر سا بلاؤز پہنے۔ بہت حسین اور ذہین ہو۔ بہت پڑھی لکھی ہو۔ ہسٹری، فلاسفی، لٹریچر پڑھی ہو اور بہت پرکشش ہو اور میں مجھ سے بہت گہرا پیار کرے!"
"لگتا ہے تم انڈین فلمیں بہت دیکھتے ہو۔ ایسی باتیں یا تو خوابوں میں ہوتی ہیں یا فلموں میں!" شیلا نے قہقہہ بلند کرتے کہا۔
"کبھی کبھی خواب حقیقت میں بھی بدل جاتے ہیں۔ تمہیں میری بات بری تو نہیں لگی؟"
"میں نے تمہیں پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ تم مجھ سے کوئی بھی بات کر سکتے ہو"۔
"تم بے حد خوبصورت ہو!"
"تم پہلے مرد نہیں جو یہ کہہ رہا ہو"۔
"کیا تمہارے پتی تم سے پیار کرتے ہیں"۔
"بہت پریم کرتے ہیں!"
"کیا تم بھی ان سے اتنا ہی پیار کرتی ہو؟"
"ہاں!"
"وہ اس وقت کہاں ہیں؟"
"گھر پر ہی ہیں"۔
"انہوں نے پوچھا نہیں تم کہاں جا رہی ہو؟"
"میں نے انہیں پہلے ہی بتا دیا تھا کہ میں تمہیں ڈنر پر لے جا رہی ہوں"۔
"انہوں نے اجازت دے دی؟"
"اس میں اجازت کی کیا بات ہے؟"
"میرے لیے ہے۔ ہمارے معاشرے میں ایسا سوچنا کچھ ممکن نہیں"۔ محمود نے حیرت زدہ لہجے میں کہا۔
"ہمارے یہاں بھی ایسا ہی ہے۔ مرد بہت پوزیسسو ہوتا ہے اپنی پتنی کے لئے مگر میرے پتی مختلف انسان ہیں۔ انہوں نے مجھے مکمل فریڈم دے رکھی ہے"۔
"اگر تم ساری رات بھی کسی کے ساتھ باہر رہو تب بھی؟
"ابھی تک ایسی کوئی سچویشن بنی نہیں لیکن اگر بن گئی تو وہ منع نہیں کرینگے۔ وہ سمجھ جائیں گے کہ کوئی مضبوط کارن ہوگا"۔
"تعجب ہے"۔
"مجھے تو اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں لگتی۔ اچھا اس سے پہلے کہ میں بتانا بھول جاؤں۔ میری اگلی ڈیوٹی دھلی سے پیرس والی فلائٹ پر ہے۔ ہماری ملاقات دو دن بعد ہوگی۔ تم یہ سم رکھ لو۔ آتے ہوئے یہ میں نے تمہارے لیے خرید لی تھی۔ ہو سکتا ہے تم دوبارہ انڈیا آؤ۔ یہ سم کام آئے گی۔ اس کی ایکسپائری پانچ برس کے لئے ہے"۔
"واہ۔ تم بہت تھاٹ فل ہو۔ تھینک یو!"
کچھ دیر کی خاموشی کے بعد دونوں کھانے میں مصروف ہو گئے مگر ذہن میں بہت سے سوالات چل رہے تھے۔ دونوں نے ڈھیر ساری باتیں کیں۔ وقت گزرنے کا پتہ ہی نہ چلا۔
***
جم خانے کے کمرے میں محمود بستر میں تھا۔ بخار سے تپ رہا تھا۔ فون کی گھنٹی بجی۔
"ہیلو!"
"کیسے ہو؟"
"تم آ گئیں؟"
"ہاں!"
"کیسا رہا تمہار ٹور؟"
"اچھا تھا۔ تم بتاؤ تم کیسے ہو؟"
"میں بہت بیمار ہوں۔ شدید بخار ہے۔ اٹھنے کی ہمت بھی نہیں ہو رہی"۔
"تم فکر نہ کرو۔ میں پندرہ منٹ میں پہنچ رہی ہوں"۔
پندرہ منٹ بعد شیلا محمود کے کمرے میں تھی۔ اس کے ہاتھ میں ایک بیگ تھا جس میں کچھ دوایاں اور پھل تھے۔
"یہ کیا حال بنا رکھا ہے اپنا؟ لگتا ہے پانی بھی نہیں پیا تم نے؟"
"بس اٹھ نہ سکا۔ بہت کمزوری محسوس ہو رہی ہے!"
"فکر نہ کرو۔ میں آ گئی ہوں۔ اب سب ٹھیک ہو جائے گا!"
شیلا نے کہا اور اسکی تیمارداری میں مصروف ہوگئی۔ اسنے اسے دوائی دی۔ بخار اتارنے کے لیے ٹھنڈے پانی کی پٹیاں اس کے ماتھے پر رکھیں۔ رات بھر پٹیاں بدلتی رہی۔ صبح تک بخار اتر چکا تھا۔ جب محمود کی آنکھ کھلی تو اس نے دیکھا کہ شیلا صوفے سے ٹیک لگائے آنکھیں بند کیے بیٹھی تھی۔ اس لمحے اسے شیلا پر بےاختیار پیار آیا۔ اس پیار میں جذبات کی شدت بھی تھی۔
تم پوری رات نہیں سوئیں؟ میرے لیے اتنا کچھ کیا!"
"اس میں کیا بڑی بات ہے۔ تم مجھے اچھے لگتے ہو۔ اس لئے میں یہاں رک گئی"۔
"تمہیں ڈر نہیں لگا؟"
"کس سے؟"
"رات بھر ایک اجنبی کے ساتھ تنہا ایک ہی کمرے میں رہنا۔ "
"تم میرے لیے اجنبی نہیں"۔
"کیسے نہیں؟"
"میں تم سے پیار کرتی ہوں۔ پہلے میں تمہاری لکھی ہوئی چیزوں سے پیار کرتی تھی۔ پھر تم مجھے مل گئے تو میرا پیار کئی گناہ بڑھ گیا"۔
"کیا تم سچ کہہ رہی ہو؟" محمود شیلا کی بات پر یقین نہیں کر پا رہا تھا۔
"میں جھوٹ نہیں بولتی۔ اگر تم سے پیار نہ کرتی تو تمہیں اپنا نمبر کبھی نہ دیتی"۔
یہ سن کر محمود جذبات کی رو میں بہہ گیا۔ شیلا اس کی بانہوں میں تھی۔ دونوں ایک دوسرے میں ضم ہو چکے تھے۔
"کوئی پروٹیکشن استعمال مت کرنا۔ مجھے تمہارا ایک بچہ چاہیے۔ مجھے تمہاری ایک نشانی چاہیے ہمیشہ کے لئے!"
"لیکن یہ کیسے ممکن ہے۔ تمہارا شوہر کیا کہے گا؟" شیلا کی یہ بات سن کر محمود ہکا بکا رہ گیا۔
"تم بھی بدھو ہو! میں کونسا اسے بتاؤں گی کہ یہ بچہ تم سے ہے!"
اچھا۔۔ " محمود کی سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا۔ وہ گم سم سا تھا۔
"کیا سوچ رہے ہو؟ اس میں پریشان ہونے کی کوئی بات نہیں"۔
نہ چاہتے ہوئے بھی محمود کو وہ عمل شروع کرنا پڑے جو ایک عورت کے ساتھ کرنے سے دنیا میں ایک نئی زندگی کو جنم دیتا ہے مگر عین وقت پر اس کی سوئی ہوئی عقل جاگ اٹھی۔ اس نے اس عمل کو بروقت روک دیا۔ شیلا کے چہرے کے تاثرات خوشی سے مایوسی میں تبدیل ہو گئے۔
"یہ کیا کیا تم نے؟"
"مجھ سے نہیں ہو سکے گا!"
"شاید تم بچے کے مستقبل کے بارے میں سوچ رہے ہو"۔
"یہ بھی ایک وجہ ہو سکتی ہے"۔
"فکر نہ کرو۔ میں تمہارے بچے کو بہت اچھے طریقے سے پالوں گی۔ اسکی بہترین تربیت کرونگی"۔
"میرا دل نہیں مانتا۔ نہ ہی دماغ مان رہا ہے"۔
"لگتا ہے تم ابھی تیار نہیں ہو۔ کوئی بات نہیں۔ ہم یہ کام پھر کر لینگے۔ ویسے بھی تمہاری طبعیت ٹھیک نہیں۔ تم آرام کرو۔ میں چلتی ہوں۔ کسی چیز کی ضرورت ہو تو مجھے فون کر دینا"۔ شیلا نے اپنے کپڑے پہنے اور مزید کچھ کہے بغیر کمرے سے نکل باہر نکل گئی۔
محمود خاموش تھا مگر اندر ہی اندر بہت کچھ سوچ رہا تھا۔ اس نے شیلا کی دی ہوئی سم توڑ کر ڈسٹ بن میں پھینک دی۔ پھر انٹر کام اٹھایا اور ریسیپشنسٹ سے اپنا بل بنانے کو کہا۔ وہ فوراً کمرہ چھوڑنا چاہتا تھا۔
اپنا سامان پیک کرتے ہوئے پروفیسر وحید کی باتیں اس کے ذہن میں گونجنے لگیں۔ ایک ہندو سے اس کی ملاقات تو ہوگئی تھی، مگر آخر کون کس کا دوست تھا اور کون کس کا نہیں، اس سوال کا جواب وہ خود بھی نہ دے سکا۔۔ یا شاید اب وہ اس سوال کا جواب ڈھونڈنا ہی نہیں چاہتا تھا۔