کیا ہم واقعی ایک تعلیم یافتہ معاشرہ بن رہے ہیں، یا صرف ڈگریاں حاصل کرنے والوں کی تعداد بڑھا رہے ہیں؟ کیا ہماری تعلیم بچوں کو زندگی جینے کا شعور دے رہی ہے، یا انہیں نمبروں، حاضریوں، امتحانات اور گریڈز کا اس قدر پابند بنا رہی ہے کہ بعض بچے ناکامی کے تصور ہی سے اتنے خوف زدہ ہو جاتے ہیں کہ اپنی زندگی ختم کر لیتے ہیں۔ ایسی خبریں دل دہلا دیتی ہیں۔ کہیں کم حاضری، کہیں امتحان میں کم نمبر اور کہیں فیس یا پیسوں کے ضیاع کا دباؤ۔ راولپنڈی میں ایک طالبہ کی جان لینے کے واقعے نے ہمارے تعلیمی نظام پر کئی سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں۔
یہ تحریر اس واقعے کی تفصیلات یا اسباب کا تعین کرنے کے بجائے اس بنیادی سوال پر غور کی دعوت ہے کہ آخر ہمارے تعلیمی ماحول میں ناکامی کا خوف اتنا شدید کیوں ہو جاتا ہے کہ بعض بچوں کو زندگی کے دوسرے راستے دکھائی ہی نہیں دیتے؟ یہ سوال میرے ذہن میں اس لیے بھی شدت سے اٹھتا ہے کہ تعلیمی اداروں میں کام کرتے ہوئے ایسے مشاہدات سامنے آتے ہیں جو ہمارے نظامِ تعلیم کے مقاصد اور طریق کار پر نظرثانی کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ داخلہ فارم پُر کرتے ہوئے ایک طالبہ نے پوچھا کہ طالب علم پر نشان لگانا ہے یا طالبہ پر۔ بظاہر یہ معمولی سوال ہے لیکن یہ سوچنے کی دعوت ضرور دیتا ہے کہ ہم بچوں کی زبان، بنیادی فہم اور عملی صلاحیتوں کو کس طرح پروان چڑھا رہے ہیں۔
اسی طرح بی ایس کی بعض طالبات امتحانی پرچے میں بنیادی اصطلاحات سے متعلق سوالات پوچھتی ہیں، مثلاً شعر کس طرف کو مکمل ہوتا ہے۔ مسئلہ کسی ایک لفظ یا اصطلاح سے ناواقفیت نہیں، بلکہ یہ ہے کہ برسوں تعلیم حاصل کرنے کے باوجود اگر طالب علم بنیادی تصورات سمجھنے اور اپنے علم کا اظہار کرنے میں دشواری محسوس کرے تو اس کے تعلیمی سفر میں کیا کمی رہ گئی ہے؟ کیا ہم نے صرف نصاب مکمل کروایا ہے، یا سمجھنے، سوال کرنے اور علم کو استعمال کرنے کی صلاحیت بھی پیدا کی ہے؟ ایک کالج کی سربراہِ شعبہ نے شکایت کی کہ امتحانی پرچہ بہت مشکل بنایا گیا ہے۔ کیونکہ ان سے پوچھا گیا تھا کہ منٹو کے کن افسانوں پر مقدمہ ہوا تھا۔
یہ سوال مطالعے اور تحقیق سے حل کیا جا سکتا ہے۔ مگر اس کے لیے طالب علم کو سوال کے اہم الفاظ سمجھنے، متعلقہ معلومات تلاش کرنے اور جواب کی تصدیق کرنے کا شعور ہونا چاہیے۔ آج گوگل، ڈیجیٹل لائبریریوں اور مصنوعی ذہانت نے معلومات تک رسائی آسان بنا دی ہے۔ بعض اکیڈمیاں چیٹ جی پی ٹی سے مؤثر سوال کرنا بھی سکھا رہی ہیں۔ یہ ایک مفید مہارت ہے۔ لیکن بنیادی سوال اب بھی یہی ہے کہ کیا ہمارے طلبہ اپنی ضرورت پہچاننے، مسئلہ واضح کرنے اور اس کا حل تلاش کرنے کی تربیت حاصل کر رہے ہیں؟ اگر طالب علم کو یہ معلوم ہی نہ ہو کہ وہ کیا جاننا چاہتا ہے تو بہترین ٹیکنالوجی بھی اس کی فکری تربیت کا متبادل نہیں بن سکتی۔
ہر طالب علم کو ہر لفظ کا مطلب معلوم ہونا یا ہر سوال کا جواب یاد ہونا ضروری نہیں۔ انسان سیکھتا ہی اسلئے ہے کہ اسے بہت سی چیزیں معلوم نہیں ہوتیں۔ مسئلہ لاعلمی نہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم سوال کرنے، اپنی مشکل تسلیم کرنے اور خود سیکھنے کے عمل کو کتنا فروغ دیتے ہیں اگر طالب علم اپنی مشکل بیان نہ کر سکے، معلومات تلاش نہ کر سکے اور اپنی غلطی سے نہ سیکھ سکے تو ہمیں اپنے تعلیمی طریقوں کا جائزہ لینا ہوگا۔ ہمارے ہاں ڈگری کو قابلیت کا معیار سمجھ لیا گیا ہے۔ حالانکہ ڈگری تنقیدی سوچ، عملی فہم، مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت یا علمی خودمختاری کی ضمانت نہیں۔ سب سے بڑھ کر، تعلیم طالب علم کو یہ شعور بھی دے کہ زندگی میں ناکامی اس کی پوری شخصیت کی ناکامی نہیں۔
ہمیں اپنے تعلیمی اداروں میں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ کیا طلبہ اپنی مشکلات بیان کر سکتے ہیں؟ کیا اساتذہ ذہنی دباؤ کی علامات پہچاننے کی تربیت رکھتے ہیں؟ کیا طلبہ جانتے ہیں کہ شدید پریشانی یا مایوسی کی صورت میں مدد کہاں سے مل سکتی ہے؟ اور کیا والدین سمجھتے ہیں کہ بچے کی عزتِ نفس اور ذہنی صحت بھی اس کے مستقبل کا حصہ ہیں؟
اصلاح اور تذلیل میں فرق ہے۔ طالب علم کو غلطی کا احساس دلانا اور اسے یہ یقین دلا دینا کہ وہ خود ایک غلطی ہے۔ دو مختلف رویے ہیں۔ ایسی تربیت صرف نصاب میں ایک باب شامل کرنے سے ممکن نہیں۔ اس کیلئے کلاس روم کے ماحول، اساتذہ کے رویے، امتحانی طریق کار، والدین کی توقعات اور تعلیمی اداروں کی ترجیحات، سب پر نظرثانی کرنا ہوگی۔ آخر میں سوال وہی ہے۔ اگر ایک بچہ برسوں تعلیم حاصل کرنے کے باوجود اپنی بات واضح کرنے، درست سوال کرنے، معلومات تلاش کرنے، مسائل حل کرنے اور ناکامی کا سامنا کرنے میں بے بس محسوس کرتا ہے تو ہم نے اسے کیا سکھایا؟ اگر تعلیم اسے یہ یقین نہیں دے سکتی کہ ایک ناکامی کے بعد بھی زندگی میں امکانات باقی رہتے ہیں تو ہمیں صرف بچوں کی کارکردگی نہیں، اپنے نظامِ تعلیم کے مقاصد کا بھی احتساب کرنا ہوگا۔