1. ہوم
  2. افسانہ
  3. محمد شہزاد
  4. گرانٹ نامہ
Mohammad Shehzad

گرانٹ نامہ

ایک امیر گھرانے کے ڈرائینگ روم میں چند خواتین بیٹھی ہوئی ہیں۔ سورج ڈھلنے والا ہے۔ وہسکی سکاچ، حشیش اور بئیر کا دور چل رہا ہے۔ دھیمی آواز میں انگریزی انسٹرومینٹل میوزک ماحول میں دل موہ لینے والے سر بکھیر رہا ہے۔ حالات حاضرہ، سوشل میڈیا اور اسی قسم کے موضوعات پر گفتگو ہو رہی ہے۔

رخسانہ حشیش کا کش لگاتے بولی، "کیا خیال ہے، اس ایشو پر کچھ کیا جائے؟"

"کون سا ایشو؟" ریحانہ نے لاپروئی سے پوچھا۔

"وہی جو کل ہوا تھا!" ریحانہ بولی۔

"کیا ہوا تھا کل؟" فرزانہ نے وہسکی گلاس میں انڈیلتے ہوئے کہا۔

"تم دونوں چوبیس گھنٹے ٹُن رہتی ہوں۔ شراب اور چرس سے فرصت ملے اور ہوش میں آؤ تو پتہ چلے کہ دنیا میں کیا ہو رہا ہے!" رخسانہ نے تنک کر کہا۔ "لعنت ہے تمہارے ایکٹی وزم پر!"

"اتنا غصہ کیوں کرتی ہو؟ سوشل میڈیا پر ہزاروں ایشوز ایک ساتھ چل رہے ہوتے ہیں۔ ہر ایشو سکرول نہیں ہو سکتا"۔ فرزانہ بولی۔

اس کی تائید کرتے ہوئے ریحانہ نے کہا، "یہ درست کہہ رہی ہے۔ اب تم ہی بتا دو کیا ایشو ہے جس کی وجہ سے تم پھلجڑیاں چھوڑنا شروع ہوگئی ہو"۔

رخسانہ سر ماتھے پر رکھ کی بولی، "تم دونوں کی یہ لاعلمی ہماری تحریک کے لیے بہت خطرناک ثابت ہو سکتی ہے اور تم دونوں ایک دوسرے کی ہاں میں ہاں ملانا چھوڑ دو۔ اگر میں معاملات نہ دیکھو اور سب کچھ تم دونوں پر چھوڑ دوں تم صرف ایک ہفتے میں ہماری این جی او کا نام و نشان تک مٹ جائے گا"۔

"اچھا اچھا! اب یہ بھاشن واشن بند کرو اور سیدھے انداز میں بتاؤ کہ ایشو کیا ہے"۔ ریحانہ بولی۔

"بھئی کل ایک لڑکا موٹر سائیکل پر کہیں جا رہا تھا۔ پیچھے اس کے ایک لڑکی بیٹھی ہوئی تھی۔ لڑکے کی نیت خراب ہوگئی۔ جنگل کے قریب اس نے موٹر سائیکل روک لی اور لڑکی سے زبردستی کرنے لگا۔ لڑکی شور مچانے لگی۔ اتنے میں انکے قریب سے ایک گاڑی گزری جو ایک پہلوان ٹائپ آدمی چلا رہا تھا۔ اس نے گاڑی سائیڈ پر روکی۔ گاڑی سے باہر نکل کر لڑکے کی اچھی طرح دھلائی کرکے اسے پولیس کے حوالے کر دیا"۔ رخسانہ نے کہانی شروع کی۔

"بہت اچھا کیا اس حرامزادے کے ساتھ۔ ایسے لڑکوں کو تو گولی مار دینا چاہیے"۔ ریحانہ نے مسرت بھرے لہجے میں کہا۔

"ہمیں اس پہلوان کو اپنی این جی او میں بلانا چاہیے۔ ایک سیمینار کرنا چاہیے۔ نہ صرف اس کا شکریہ ادا کرنا چاہیے بلکہ اسے "تحریک فیمی نزم و مساجنی ہٹاؤ" اور "میرا جسم میری مرضی" کا ایوارڈ بھی دینا چاہیے"۔ فرزانہ جوشیلے انداز میں بولی۔

"تم انتہائی احمق لڑکی ہو! اتنے عرصے سے فیمی نزم کے بزنس میں ہو۔ اتنا بھی پتہ نہیں کہ یہ دونوں ایوارڈ صرف فی میل کے لیے ہوتے ہیں"۔ رخسانہ نے غصے سے کہا۔

"معلوم ہے۔۔ معلوم ہے۔ مگر یہ مرد مختلف ہے۔ دراصل یہ اپنے عمل سے ایک عظیم فی میل اور فیمی نسٹ لگتا ہے۔ اس نے ایک معصوم اور بھولی بھالی لڑکی کی عزت بچائی ہے۔ اس لیے اسے یہ دونوں ایوارڈ بطور استشناء ملنے چاہییں"۔ فرزانہ بولی۔

"یہ درست کہہ رہی ہے"۔ ریحانہ نے فرزانہ کی بات کی تائید کی۔

"نان سینس۔ تمہاری یہ ہی سوچ ہماری این جی او کی گرانٹ بند کرائے گی۔ سنو! میرے ذہن میں ایک آئیڈیا آیا ہے"۔ رخسانہ نے کہا۔

"تمہیں تو ہر وقت نت نئے آئیڈیے آتے ہی رہتے ہیں۔ زیادہ تر گھسے پٹے ہی ہوتے ہیں"۔ ریحانہ بولی۔

"تمہارے ذہن میں تو کبھی گھسہ پٹہ آئیڈیا بھی نہیں آیا!" رخسانہ نے طنز بھرے لہجے میں کہا۔

"ارے بھئی یہ لڑائی جھگڑا بعد میں کر لینا۔ پہلے آئیڈیا تو بتاؤ"۔ فرزانہ نے کہا۔

"ارے یہ لڑائی جھگڑا نہیں ہمارا آپس کا ہنسی مذاق ہے"۔ ریحانہ نے وضاحت کی۔

"سنو! ہم اس پورے واقعے کو ایک نئی کہانی بنا کر ڈونر سے اچھی خاصی رقم بٹور سکتے ہیں!"

"وہ کیسے؟" ریحانہ اور فرزانہ نے تجسس بھرے انداز میں پوچھا۔

"اب میری پوری بات غور سے سننا۔ بیچ میں بات نہیں کاٹنا!" رخسانہ بولی۔

"بولو! ہم بہت غور سے سنیں گے"۔

"یہ پہلوان مرد فیس بک اور باقی سوشل میڈیا پر بطور ہیرو پیش کیا جا رہا ہے۔ ہماری مخالف این جی اوز اس کی بہادری کے گن گا رہی ہیں۔ میڈیا اس کے ساتھ پوڈ کاسٹ کر رہا ہے۔ ہم اس سارے واقعے کو ایک نیا رنگ دے کر ڈونر اور میڈیا کے سامنے لائیں۔ ایک سوپ اوپرا ٹائپ ڈرامہ بنائینگے جس کی مکمل فنڈنگ ڈونر کرے گا"۔ رخسانہ نے سرگوشی کے انداز میں کہا۔

"یہ سب کیسے ہوگا؟" فرزانہ بولی۔

"تم نے پھر ٹوک دیا!" رخسانہ ناراضگی کا اظہار کرتے بولی۔

"او! سوری۔ بولو!"

"ہم دنیا اور ڈونر کو یہ بتائیں گے کہ لڑکا اور لڑکی آپس میں گرل فرینڈ بوائے فرینڈ تھے۔ دونوں اکھٹے کام کیا کرتے تھے۔ دونوں کام کے بعد اسی طرح موٹر سائیکل پر بیٹھ کر قدرت کو انجوائے کرنے جنگلوں میں چلے جاتے تھے۔ لڑکا موٹر سائیکل بہت تیز چلا رہا تھا جس کی وجہ سے لڑکی کو ڈر لگنا شروع ہوگیا۔ اس نے لڑکے کو کہا کہ موٹر سائیکل آہستہ چلاؤ۔ وہ نہ مانا تو لڑکی نے اسے پیار میں مکے مارنے شروع کر دیے۔ اس پر لڑکے نے موٹر سائیکل سائیڈ پر کرکے روک لی اور لڑکی پر غصہ کرنے لگا۔ اب یہاں تک یہ دونوں کا پرائیویٹ معاملہ ہے۔ اتنے میں یہ پہلوان صاحب آ جاتے ہیں۔ پوچھتے ہیں کہ بھئی یہ کیا ہو رہا ہے۔ لڑکا کہتا ہے کہ میاں جاؤ اپنا کام کرو۔ یہ ہمارا ذاتی معاملہ لے۔ ہم خود نپٹا لیں گے۔ ہمیں تمہاری ثالثی کی ضرورت نہیں۔ اس پر پہلوان صاحب غصے میں آ جاتے ہیں اور لڑکے کی پٹائی کر دیتے ہیں"۔

"واہ! کیا آئیڈیا ہے"۔ ریحانہ اور فرزانہ نے اکھٹے کہا۔

"اب تم دونوں اس ایشو پر ایک پروپوزل بناؤ۔ کل ہم اسے اپنے ڈونر میکس کے پاس پیش کرینگے۔ میکس اسے پڑھ کر اچھل پڑے گا اور ایک موٹی رقم ہاتھ لگے گی"۔ رخسانہ بولی۔

"اور اس رقم میں سے بہت ہی معمولی رقم میں سوپ اوپرا بن جائے گا اور باقی سے ہماری شام کا اگلے پچاس برس تک انتظام ہو جائے گا"۔ ریحانہ نے کہا۔

"یعنی شراب، کباب اور حشیش۔۔ تینوں!" فرزانہ بولی۔

"اور بھی بہت کچھ میری رانی!" رخسانہ نے کہا اور کمرہ قہقہوں سے گونج اٹھا۔

***

ڈونر میکس کا دفتر ہے۔ ایک بہت بڑی میز کے پیچھے وہ بیٹھا ہوا ہے۔ اس کے سامنے کرسیوں پر رخسانہ، ریحانہ اور فرزانہ بیٹھی ہوئی ہیں۔ وہ پروپوزل پڑھ چکا ہے۔

"اس پروپوزل میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ حقائق وہ نہیں جو ہمارے پاس میڈیا سے آئے۔ پہلوان واقعی ہیرو ہے۔ مداخلت کرنے والا نہیں۔ لڑکی کا بیان بھی ریکارڈ پر آ گیا ہے جس کے مطابق وہ لڑکا واقعی لڑکی کا ریپ کرنا چاہتا تھا۔۔ " میکس نے کہا۔

"آپ جانتے ہیں ہماری پولیس کو۔ کتنا ٹارچر کرتی ہے معصوم لوگوں پر۔ لڑکی اور لڑکے کو ہراساں کیا گیا ہے۔ مجبور کیا گیا ہے کہ وہ ایسا بیان دے۔ آپ دیکھ لیجئے گا۔ جب یہ معاملہ دب جائے گا تو یہ ہی لڑکی اور لڑکا پھر سے موسم انجوائے کرنے کے لیے ان ہی جنگلوں میں چلے جائینگے"۔ رخسانہ نے میکس کی بات کاٹتے کہا۔

"لیکن آپ لوگ اس سارے ڈرامے کو کس سالڈ کاز سے لنک کرینگے؟" میکس نے پوچھا۔

"مائی ڈئیر میکس۔ کاز تو ایک ہی ہے ہماری۔۔ میرا جسم میری مرضی!" رخسانہ بولی۔

"یس میکس۔ ہم سوپ اوپرا ڈرامے کو اسی سے لنک کرینگے"۔ یہ ریحانہ تھی۔

"کیا میسج ہوگا آپ کا پبلک کے لیے؟" میکس نے دریافت کیا۔

"میسج ہوگا۔۔ دیکھیے جی، حقیقت تو یہ ہے کہ یہ لڑکی اور لڑکا جو کچھ بھی کر رہے تھے باہمی رضامندی سے کر رہے تھے۔ چلو فرض کر لیتے ہیں کہ لڑکی کی مرضی نہیں تھی اور لڑکا صاحب مستقبل کے ریپسٹ تھے"۔ رخسانہ بولی۔

"بھئی عورتوں کے حقوق کی ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ عورت جب بھی اپنا ریپ کرائے گی اپنی مرضی سے کرائے گی۔ یہ لڑکی اور ہونے والے ریپسٹ کا ذاتی معاملہ تھا۔ اس معاملے میں ٹانگ اڑا کر پہلوان صاحب نے عورتوں کے حقوق کو سخت نقصان پہنچایا ہے"۔ اس بار ریحانہ نے جواب دیا۔

"پہلوان صاحب پدر سری نظام کی پیداوار ہیں۔ ان کے اندر کے ظالم پدرسری نظام نے جوش مارا اور وہ بلاوجہ لڑکی اور ہونے والے ریپسٹ پر اپنی مرضی ٹھونسنے لگے۔ بھئی میرا جسم میری مرضی کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ یہ فیصلہ عورت نے کرنا ہے کہ وہ کب، کہاں کس جگہ کس مرد سے اور کیسے اپنا ریپ کرائے گی۔ مردوں کو اس میں ٹانگ اڑانے کی ضرورت نہیں۔ کسی بھی راہ چلتے اٹھائی گیرے کو عورتوں کا سرپرست اعلی بننے کی اجازت نہیں دی جا سکتی"۔ فرزانہ نے دلیل پیش کی۔

"ہو سکتا ہے کہ لڑکی کو ریپ کے لئے وہ جگہ مناسب نہ لگ رہی ہو۔ ہو سکتا ہے اس کے اور اس کے ممکنہ ریپسٹ کے درمیان مکالمہ ہو رہا ہو۔ ہو سکتا ہے دونوں میں اتفاق رائے ہو جاتا۔ پر یہ مرد ہمیشہ عورتوں کے معاملے میں ٹانگ اڑاتا ہے"۔ رخسانہ نے کہا۔

"ہم پہلوان صاحب کے اس عمل کی سختی سے مذمت کرتے ہیں۔ ہر شخص کو دوسروں کی زندگی میں چھلانگ لگانے کی بیماری چھوڑنی چاہیے۔ پہلے اپنے معاملات ٹھیک کریں، پھر دنیا بچانے نکلیں!" ریحانہ بولی۔

تینوں نے نعرہ بلند کیا:

پدر سری نظام، مردہ باد، مردہ باد!

میرا جسم میری مرضی، زندہ باد، زندہ باد!

میرا ریپسٹ میری مرضی، زندہ باد، زندہ باد!

بلا طلب مشورہ، مردہ باد، مردہ باد!

ہر وقت کا خود ساختہ ہیرو، مردہ باد، مردہ باد!

انقلاب، انقلاب!

"مجھے دو دن کا ٹائم چاہیے پروپوزل کو پوری طرح سمجھنے کے لیے۔ دو دن بعد ملتے ہیں"۔ میکس نے کہا۔

***

"ویری گڈ۔ پروجیکٹ تقریباً منظور ہے"۔ دو دن کے بعد ہونے والی اس میٹنگ میں میکس نے خوشی سے کہا۔

"تھینک یو، میکس!" تینوں لڑکیوں نے ایک ساتھ کہا۔

"مگر دو تین تبدیلیاں کرنا ہوں گی!" میکس نے وضاحت کرتے کہا۔

"جی، ضرور"۔

"پہلی بات اس میں مظلوم عورت بہت کمزور لگ رہی ہے۔ اسے کچھ بااختیار بنائیں۔ آج کل ڈونر کو ایک ہی کردار میں کم از کم چار تضاد چاہیے ہوتے ہیں"۔

فرزانہ (نوٹ بک کھولتے ہوئے)، "جی سر! مظلوم بھی مضبوط بھی"۔

"اور ہاں پہلوان کو اتنا برا بھی نہ دکھاؤ"۔

"کیوں؟" ریحانہ نے پوچھا۔

"کل کو اگر وہ الیکشن جیت گیا تو یہی ڈرامہ ہمیں اس کے حق میں بھی استعمال کرنا پڑ سکتا ہے"۔

"اوہ!" تینوں لڑکیوں نے حیرت سے اکھٹے کہا۔

"دیکھو این جی اوز کا اصول نمبر ایک۔۔ "

"جی؟" فرزانہ نے سر ہلاتے کہا۔

"کبھی کسی سے مستقل دشمنی نہیں کرنی۔

"اور اصول نمبر دو؟"

"کبھی کسی سے مستقل دوستی بھی نہیں کرنی"۔

"پھر مستقل کیا رکھنا ہے؟" رخسانہ نے پوچھا۔

میکس نے کرسی سے ٹیک لگا کر، "صرف فنڈنگ!"

سب زور سے ہنس دیے۔

"اور ہاں! اگر کل یہ ثابت ہو جائے کہ پہلوان واقعی ہیرو تھا۔۔ " میکس نے تینوں کے سامنے ایک سوال رکھا۔

"تو؟" رخسانہ نے پوچھا۔

"تو اگلا پروجیکٹ ہوگا۔۔ ہیروز پدر سری نظام کا نیا چہرہ!" میکس نے جواب دیا۔

"اور اگر ثابت ہو جائے کہ وہ ولن تھا؟"

"تو پرانا پروجیکٹ ہی دوبارہ جمع کرا دیں گے!" میکس نے شاطرانہ لہجے میں کہا۔

"اور اگر سچ کچھ اور نکلا؟" ریحانہ نے نکتہ اٹھایا۔

میکس چند لمحے خاموش رہ کر، مسکراتے ہوئے بولا، "سچ؟"

پھر زور سے قہقہہ لگا کر کہا، "سچ کبھی فنڈ نہیں ہوتا صرف بیانیہ فنڈ ہوتا ہے"۔

سب ایک بلند قہقہہ لگاتی ہیں۔ اسی دوران باہر سے انقلاب، انقلاب کے نعرے سنائی دیے۔

"یہ کون لوگ ہیں؟" رخسانہ نے پوچھا۔

میکس نے کھڑکی سے باہر جھانکا۔ پھر کہا، "پتہ نہیں۔ شاید ہمارے اگلے پروجیکٹ کے کردار ہیں!"

"میکس یو آر سو سوئیٹ!" فرزانہ بولی۔

"صرف سوئیٹ نہیں ہینڈسم بھی!" ریحانہ نے اضافہ کیا۔

"بے شک!" رخسانہ نے دونوں کی بات کی تائید کی۔

"چلو تم لوگ خوش تو ہوئے۔ اب میری اداسی کون دور کرے گا؟" میکس نے شرارت بھرے لہجے میں کہا۔

"ایک تو تم بار بار اداس ہو جاتے ہو!" رخسانہ نے ایک ادا کے ساتھ کہا۔

"یہ تو ایک فطری عمل ہے مگر لاعلاج!" میکس نے کندھے اچکاتے کہا۔

"اس کا بہترین علاج ہم تینوں کے پاس ہے!" فرزانہ نے انگڑائی لیتے کہا اور سب نے ایک اور قہقہہ بلند کیا۔