مومن شاہ قبرستان کے سامنے کھڑے مستقیم اور نجیب، بھولا مسیح کا انتظار کر رہے تھے۔ نجیب کا خیال تھا، کہ عورت ہو اور شراب نہ ہو، سواد ادھورا رہ جاتا ہے۔ بھولا مسیح سائکل سے اُترا اور نیفے سے شاپنگ بیگ میں لپٹی بوتل نکال کے تھما دی۔
"پندرہ سو رُپے"۔
"لیکن قیصر نے کہا تھا، ایک ہزار دینے ہیں"؟
"پولِس نے سختی کی ہے، راستے میں چیکنگ بہت ہوتی ہے۔ کچھ بچتا نہیں ہمیں"۔ بھولے نے ہشیاری سے کہا۔
مستقیم نے پلاسٹک کی بوتل دیکھ کے احتجاج کیا۔
"ارے یہ کیا؟ شیشے کی بوتل نہیں ہے؟"
"یہ کوئٹہ (بروری) کی ہے۔ پلاسٹک میں آتی ہے"۔
نجیب نے کہا، "چل ٹھیک ہے، پیسے دے۔ یہ بھی چلے گی"۔
وہاں سے چند قدم پر کار کھڑی تھی، جس میں ڈرائیور بشیر بیٹھا اِن کا انتظار کررہا تھا۔
"چلیں ساب؟"
اِن کے بیٹھتے ہی، اُس نے تائید چاہی۔ کار اِنھیں لے کر منزل کی طرف رواں ہوگئی۔ راستے میں بشیر نے وہی قصہ چھِیڑ دیا، جو نجیب پہلے بھی اُس کے منہ سے سن چکا تھا۔
"ساب، وہ آپ کو بتایا تھا، ناں! میری بہن کی شادی ہے"۔
"ہاں ہاں! مجھے یاد ہے۔ اِس بار تیرا کچھ کروں گا۔ یاد ہے، مجھے"۔ نجیب نے جان چھڑانا چاہی۔
"کیا قصہ ہے؟"
مستقیم نے پوچھا، تو نجیب نے کم سے کم لفظوں میں بتایا، بشیر کی بہن کی شادی ہے۔ اسے جہیز کے لیے کچھ رقم چاہیے۔ کچھ دیر بعد وہ باری اسٹوڈیو سے آگے کچی پکی آبادی میں آ گئے، جہاں دس مرلے کے ڈبل اسٹوری مکان میں گیسٹ ہاوس تھا۔ دیہات سے آئے دو بھائیوں نے پہلے پہل نہر کنارے بنے گیسٹ ہاوس میں ملازمت کی۔ عارضی مہمان اور اُن کے لیے بلائی جانے والی رنڈیوں کا تماشا دیکھا، تو خیال آیا ماس کی کمائی کھانی ہے، تو کیوں نہ اپنا گیسٹ ہاوس بنا لیا جائے۔ گیسٹ ہاوس کے مہمانوں سے سلام دُعا تو ہو ہی گئی تھی، وہاں لائی جانے والی لڑکیاں اور اُن کے دلال بھی واقف بن گئے تھے۔ اپنا گیسٹ ہاوس بنا کے دھندا شروع کردیا۔ نجیب ان بھائیوں کو جانتا تھا، کیوں کہ نہر کنارے بنے گیسٹ ہاوس میں کئی بار جا چکا تھا۔ نجیب لاہور آتا تھا، تو وہ گیسٹ ہاوس کی کار اور ڈرائیور اس کے ساتھ کر دیتے۔
مستقیم کی یہ پہلی باری تھی۔ وہ ڈر رہا تھا کہ اِس مکان پر کہیں چھاپا نہ پڑ جائے۔ نجیب نے حوصلہ دیا۔
"ایسے کام پولِس کو منتھلی دے کے ہوتے ہیں، کوئی نہیں آنے والا۔ چسکی لے اور انتظار کر"۔
مستقیم نے یہی کِیا، چسکیاں بھرتے انتظار کرنے لگا۔ کچھ دیر میں دلال کے ہم راہ چار لڑکیاں کمرے میں چلی آئیں۔ اُن کے چہروں پر بے باک مسکراہٹ تھی۔ مستقیم نے چہرہ ہی دیکھا، کیوں کہ وہ ڈھیلے ڈھالے برقعوں میں تھیں، نقاب اُلٹ رکھے تھے۔ نجیب نے کہا۔
"اِن میں سے پسند کر، کون سی رکھنی ہے"؟
اتنی بے حیا دعوت کا سن کے مستقیم کے کان لال ہو گئے، جب کہ تیسرے پیگ نے بھی وہ لالی نہ دکھائی تھی۔ چاروں ایک سی تھیں، کسی ایک کو چن کے باقی تین کا دل توڑ دینے کا خیال مستقیم کو پریشان کرنے لگا۔ جب وہ کسی نتیجے پر نہ پہنچ پایا تو نجیب نے اپنے ہاتھ سے ایک لڑکی کے سینے کو ٹٹولتے ہوئے پوچھا۔
"اِس کے کتنے ہیں؟"
چھاتی ٹٹولنے پر وہ لڑکی ہنسی، جیسے گدگدی ہوئی ہو۔ مستقیم کو یہ عمل کراہیت انگیز لگا۔
"بندے کتنے ہیں؟ دو ہی؟ دس ہزار نائٹ کے"۔
دلال سیانا تھا تو نجیب بھی پرانا پاپی تھا۔
"پانچ ہزار دے سکتے ہیں، نہیں تو یہ لو تین سو پکڑو، رکشے کے کرائے کے"۔
سودا آٹھ ہزار میں طے پا گیا۔ جاتے ہوئے دلال پانسو الگ سے لے گیا۔ مستقیم نے عورت تو دیکھی تھی، لیکن ایسی عورت پہلے نہیں دیکھی، جو ٹکوں کے عوض اپنے کپڑے اُتار کے سامنے بیٹھی ہو۔ نجیب بھی مادر زاد برہنہ ہوگیا، پر مستقیم سے یہ نہیں ہو پارہا تھا۔ اُس نے ایک اور پیگ چڑھایا کہ شرم جاتی رہے، پر جا کے نہ دی۔
نجیب نے اُس کے بھرے سینے پر چٹکی نوچی تو وہ مچل اُٹھی۔
"نہ کر ناں، درد ہوتا ہے"۔
"چل گشتی"۔
نجیب کا اتنا کہنا تھا، کہ مستقیم نے منہ پھیر لیا۔ وہ گشتی کے تاثرات نہیں دیکھنا چاہتا تھا۔
"پہلے کون آرہا ہے؟ آو! جس نے آنا ہے"۔
شراب نے مستقیم کا منہ ایسا کڑوا نہ کیا تھا، جیسا یہ باتیں سن کے ہو رہا تھا۔
"ابے؟ شرما رہا ہے تو؟ اتنا تو یہ گشتی نہیں شرما رہی، جتنا تو شرما رہا ہے"۔
نجیب نے ہنستے ہوئے اُسے غیرت دلائی۔ وہ چہکی۔
"چل ہٹ بھی۔ اب گشتی کو گشتی کَہ کے تنگ تو نہ کر"۔
نجیب گشتی کا ہاتھ پکڑ کے بستر پر لے گیا۔
"اِس کو تو شراب نے بھی مرد نہیں بنایا، چل آ ہم ملیں"۔
مستقیم نے جیسے بجلی کے ننگے تار کو چھو لیا ہو، اُٹھا کہ باہر چلا جائے، اٹھتے ہی اندازہ ہوا کہ شراب سر چڑھ کے ناچ رہی ہے۔ دیوار کا سہارا لیا ورنہ گر جاتا۔ نجیب نے جاتے کو پکارا۔
"کدِھر چلا؟ دیکھے گا، نئیں؟"
"مم۔ میں باہر بیٹھتا ہوں"۔ لکنت زدہ زبان سے اتنا ہی ادا ہوا۔
گشتی کھِلکھِلا کے ہنسی۔ "سالے کدِھر سے لے آیا ہے، اِسے؟"
نجیب اُس کی ہنسی میں ساتھ دینے لگا۔ مستقیم برا سا منہ بناتے باہر چلا گیا۔ اُسے گشتی کی ہنسی پر غصہ نہیں آیا، لیکن دوست کی ہنسی پر رنج ہوا تھا۔
وہ باہر کھڑا سیگرٹ پھونک رہا تھا، کِہ بشیر ڈرائیور ساتھ آ کھڑا ہوا۔
"سر، آپ باہر کیوں؟"
"کچھ نہیں۔ ہوا خوری کے لیے آیا ہوں۔ اندر دم گھٹ رہا تھا"۔
مستقیم نے کنکھیوں سے دیکھا، بشیر زیرِ لب مسکرا رہا تھا۔
"حرامی!"
مستقیم نے من ہی من میں گالی بکی۔ تَو کیا یہ سمجھ رہے ہیں، میں مرد نہیں ہوں؟ ، مستقیم کو اپنی مردانگی خطرے میں محسوس ہوئی۔
"تمھاری بہن کی شادی کب ہے؟"
"ساب!
بشیر کی آواز میں اُمید کا سیلاب اُمڈ آیا۔
ساب، اگلے مہینے ہے۔ ویسے تو ماڑا موٹا جہیز میں نے بنا لیا ہے، پر بارات کے کھانے کے لیے پچاس ہزار چاہیے ہوں گے"۔ مستقیم کو اُس کے لہجے سے لالچ کی باس آئی تو بے اعتنائی سے اِدھر اُدھر دیکھنے لگا۔
"تھوڑی بہت۔ جو بھی آپ مدد کر سکیں۔ دس پانچ یا دو تین ہزار۔ جتنی بھی"۔
اتنے میں نجیب باہر آ گیا۔ اُس کے تن پر انڈرویئر کے سوا کچھ نہیں تھا۔ بشیر کی بات ادھوری رہ گئی۔ نجیب نے آتے ہی مستقیم سے کہا۔
"چل آ۔ جا چلا جا، اندر"۔
"اور تو؟" مستقیم منمنایا۔
"میں ہو آیا"۔
بشیر کو جیسے کوئی کام یاد آ گیا ہو، وہ چپکے سے کھِسک لیا۔ مستقیم کو لگا ساری دُنیا اُس پر ہنسنے کی کوشش کر رہی ہے۔ وہ کمرے میں نہ گیا، تو اُس کو نا مرد سمجھ لیا جائے گا۔
"تو ایسا کر، منیجر کے پاس جا کے بیٹھ۔ وہ تیرا واقف ہے، اُس کے ساتھ گپ شپ لگا"۔
مستقیم نے نجیب کے سامنے تجویز رکھی، تو نجیب ہنس دیا۔
"ہاں ہاں! مجھے پتا ہے، تو شرما رہا ہے۔ میرے سامنے تجھے شرم آتی ہے۔ اچھا چل ٹھیک ہے، جا تو"۔
نجیب کپڑے پہننے کمرے میں گیا، واپس آیا تو مستقیم کوندے کی طرح لپک کے کمرے میں داخل ہوگیا۔ بستر پہ وہ الف ننگی بیٹھی اُسے تاڑ رہی تھی۔ مستقیم کی نظر اُس کی جانگھوں کے بیچ میں گئی، تو کھسیا کے اِدھر اُدھر دیکھنے لگا۔
"نیا ہے، تو۔ لگتا ہے پہلی وار ہے، تیری؟"
"گشتی"۔ مستقیم نے من ہی من میں گالی بکی۔ کیسی گشتی ہے کہ جان لیا، میری پہلی بار ہے۔
"تمھیں شرم نہیں آتی؟"
مستقیم نے سیدھا سوال داغ دیا۔
"ایسی ننگی بیٹھی ہو، بے شرموں کی طرح؟"
"تو ننگا ہی کرے گا، ناں۔ تیری لیے آسانی ہے، کپڑے اُتارنے کا ٹیم بچے گا۔ چل آ جا"۔
اُس کی یہ بات اُس پر ایسا اثر کر گئی، کہ وہ اُس کے سامنے بیڈ کی پٹی پر بیٹھ گیا۔ چور نظروں سے اُس کے پستان دیکھنے لگا۔ بڑے بڑے سیاہی مائل دو سرخ دھبے، اُن کے کناروں پر ذرا فاصلے فاصلے پر اُگے دو چار بال۔ بائیں پستان کے اُبھار پر سیاہی مائل گلابی رنگت کے دو ایسے ہلال جن کی نوکیں ایک دوسرے سے ملی ہوئی تھیں۔
"یہ کیا ہے؟"
"کاٹ لیا، کتے نے"۔
"کتے نے؟"
"ہاں! سالے حرامی نے یہاں دانت گاڑ دیے۔ ماں کا دودھ پینے کا شوق ہے، ناں"۔
"کتنی گندی زبان ہے، تمھاری۔ تمیز سے بات نہیں کر سکتیں؟"
"کام ہی گندا ہے۔ اِس کام میں تمیز کیسی؟ اب دیکھو ناں، یہاں نشان ڈال دیا، کل کہیں اور دھندے پہ جاوں گی، تو گراہک (گاہک) نفرت کرے گا۔ تو تو نہیں کاٹے گا؟"
مستقیم کو لگا، اس کو بھاگ جانا چاہیے، لیکن وہ بیٹھا رہا۔
"چل آ ناں۔ سوچ کیا رہا ہے!"
"نئیں۔ میں ٹھیک ہوں۔ بس بیٹھا رہن دے"۔
"کیوں؟ شرم آ رہی ہے؟ چوری چوری دیکھتا ہے، سیدھا دیکھ ناں! کچھ ہو نئیں رہا تجھے؟ مرد بھی ہے، یا؟"
"اپنا منہ بند رکھ"۔ مستقیم نے سرزنشی لہجے میں کہا۔
"ہے تو شریف آدمی۔ میں نے دیکھتے ہی پہچان لیا تھا۔ کسی لڑکی سے بھی زیادہ شرماتا ہے، تو"۔
"کچھ دیر خاموش نہیں رہ سکتیں؟" مستقیم کے لہجے میں جھنجلاہٹ نمایاں تھی۔
اسے اپنی نامردی کا طعنہ قبول نہ تھا۔ سچ بات یہ تھی، کہ آج وہ یہاں اِس لیے تھا، کہ اپنی مردانگی کا امتحان لے۔ کچھ ہفتوں بعد اُس کی شادی تھی اور وہ دیکھنا چاہتا تھا، اُس میں کوئی کمی تو نہیں ہے۔
"میں سو جاؤں، کیا؟"
"کیوں؟ پیسے دیے ہیں، ہم نے"۔
پتا نہیں اُس کے منہ سے یہ کیسے نکل گیا۔
"ہاں! تو کر ناں پیسے پورے۔ آ جا! اِدھر دیکھ! میری طرف غور سے دیکھ"۔
مستقیم اُسی حالت میں بیٹھا رہا۔
"اوئے چِکنے، دیکھ تو! پھر ہی تو کچھ ہوگا۔ دِکھا مجھے، تو مرد بھی ہے، یا نئیں!"
یہ کہتے اُس نے مستقیم کی پینٹ کی طرف ہاتھ بڑھایا۔
"خبردار! اُدھر بیٹھی رہ آرام سے"۔
مستقیم کا جی متلانے لگا تھا۔ پتا نہیں اُس کی باتوں سے یا شراب کی بد ہضمی تھی۔ وہ اُٹھ کے غسل خانے کی طرف بڑھا۔ جاتے ہی معدہ خالی کر دیا۔ حلق سے کریہہ آوازوں کے ساتھ سب کھایا پیا باہر آ گیا۔ واش بیسن سے بد بو کا بھبھوکا اُٹھا، اُس نے نل کھول دیا۔ تھوڑی دیر صفائی میں لگ گئی۔ پلٹ کے کمرے میں آیا، تو وہ ٹانگیں پھیلائے سو رہی تھی۔ الف ننگی۔ مستقیم کو جیسے ہوش آنے لگا تھا۔ غور سے اُس کا بدن دیکھنے لگا۔ ٹانگوں کی بیچ کی لکیر سے اُوپر پیٹ کچھ اُبھرا اُبھرا تھا، اُس پر سلوٹیں تھیں، جو مستقیم کو ذرا نہ بھائیں۔ سیدھے لیٹے ہوئے ہونے کی وجہ سے پستان اپنے ہی وزن سے دائیں بائیں لٹکے آرام کر رہے تھے۔ وہ لڑکی کا چہرہ بغور دیکھنے لگا، کچھ خاص نہ تھا۔ سب سے پہلا خیال جو دِل میں آیا، وہ یہ تھا کہ عورت کا بدن کتنا بد صورت ہوتا ہے۔ اُس کو پھر سے اُبکائی آنے لگی۔ کسی نہ کسی طرح اپنے طبیعت پر قابو پایا، وہ ایک بار پھر قے کرنے کی اذیت سے نہیں گزرنا چاہتا تھا۔ دروازے پر دستک ہوئی۔
"ابے کیا کر رہا ہے، کھول بھی"۔ نجیب باہر سے پکار رہا تھا۔
مستقیم نے دیکھا کہ گشتی جھٹکے سے اُٹھ بیٹھی ہے اور مدد طلب نظروں سے اُسے دیکھ رہی ہے۔
"اِسے اندر مت آنے دینا۔ مادر چ۔ ہے۔ پھر نوچے گا، مجھے"۔
بے اختیار مستقیم کے لبوں پر مسکراہٹ نمودار ہوئی۔
"انتظار کر! ابھی نئیں کھلنے والا"۔ مستقیم نے وہیں کھڑے کھڑے جواب دیا۔
"کر کیا رہا ہے، تو اندر؟ اِتنی دیر؟" نجیب نے شکایتی لہجے میں پوچھا۔
"سالے! یہی تو مرد ہے۔ تیری طرح زنخنا نئیں، کہ چڑھا اور اُتر کے بھاگ گیا۔ کتے کی طرح"۔
مستقیم حیرت سے اُس کو دیکھنے لگا، کہ یہ کیا چیز ہے۔ گشتی ہی سہی، لیکن تھوڑی بہت حیا تو ہو۔ کس بے باکی سے نجیب کو نیچا دکھا رہی ہے۔ نجیب بھی اُس کی آواز سن کے چپ سا رہ گیا۔ دوسرے مرد کے سامنے اپنی مردانگی کی توہین کم تو نہیں ہوتی۔
"کیا چیز ہو، تو!" مستقیم قدرے شوخ لہجے میں مخاطب ہوا۔
"کیوں؟ کچھ غلط کَہ دِیا؟ شادی پہ پانچ سو رُپیا سلامی دے کے، پوری دیگ کھا جانے والوں میں سے ہے، یہ تیرا یار۔ اس کی تو بھک نئیں مکنی، پوری رات میری ہڈیاں چچوڑے گا، کتورا۔ اچھا تو تو ہے، جو کھلی دیگ سامنے پڑی ہے اور ہاتھ نئیں لگا رہا"۔
"جب کہ اس دیگ کی قیمت میں نے ہی دی ہے"۔ مستقیم چہکنے لگا۔
"وہ تو مجھے پتا ہے، یہ حرامی کسی نہ کسی کو گھیر لاتا ہے۔ تجھے بھی گھیر لایا۔ پہلی وار تھوڑی ملی ہوں، اِس سے"۔
"اچھا؟"
مستقیم کے لیے یہ کوئی خبر نہ تھی، کہ نجیب پہلے بھی آتا جاتا رہتا ہے۔ وہ نجیب کے منہ سے کئی کارنامے، سن چکا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ یہاں تھا۔ اُس کو پیسے خرچ کرنے کا غم بھی نہیں تھا۔ وہ تو اپنا ٹیسٹ کرنا چاہتا تھا، کہ وہ اِس قابل ہے کہ عورت کو راضی رکھ سکے۔
"تو سوئی نئیں تھی، جھوٹ موٹ کی ایکٹنگ کر رہی تھی؟"
"ہاں! اس لیے کہ شاید تو ہمت پکڑے۔ پر تو تو"۔
"سچ بتاوں؟ یہ مجھ سے نہیں ہوگا"۔
"کیوں؟ کیا مسئلہ ہے؟"
مسئلہ کچھ نہیں! بس! نئیں ہوگا"۔
"گولی لے لیتا ناں۔ آج کل تو انڈیا کی گولی آ رہی ہے۔ سستی بھی ہے۔ اچھا ٹھیر! مجھے طریقہ آتا ہے، ایک دم لوہا کر دوں گی"۔
وہ یہ کہتے، جھک کے اُس کی طرف بڑھی۔ جھکنے سے اُس کے بدن کے نقوش بدل کے کچھ سے کچھ اور طرح کے دکھائی دینے لگے۔ وہ جونھی مستقیم کے قریب آئی، مستقیم نے اُس کو سینے سے لگا کے بھینچ لیا۔ اُسے اپنے تن بدن میں بجلیاں سی دوڑتی محسوس ہوئیں۔ لبوں سے لب ملے تو مستقیم کی سانسوں میں بدبو کا بھبھوکا بھر گیا۔ یک دم سے اُسے پرے دھکیل دیا۔ وہ حیرت سے مستقیم کو دیکھنے لگی۔
"اب کیا ہوا؟ تو تو بڑا نخرے باز ہے"۔
"بو آ رہی ہے، تیرے منہ سے"۔
اُس کا منہ غیر یقینی انداز میں کھلے کا کھلا رہ گیا، پھر وہ ہنسنے لگی۔
"پہلی واری عورت کو اتنے قریب سے دیکھا ہے، ناں! عورت تو ہے ہی بَو کا گھر"۔
مستقیم حیرت سے اُس کو تکنے لگا۔
"عورت نشہ ہے، چاہے اِس سے باس آتی ہو"۔
"مجھ سے نہیں ہوگا"۔ مستقیم نے اعتراف کیا۔
"مجھے پتا ہے۔ اِسی لیے تو کہا، لا آج میں تیری عزت لوٹ لوں"۔
مستقیم کو پہلے تو سمجھ نہیں آیا، کہ اُس نے کہا کیا ہے، جب سمجھا تو اپنی ہنسی نہ روک سکا۔ وہ بھی ہنسی میں شریک تھی۔
"شادی ہے، تیری؟"
"ہوں؟"
مستقیم چونکا، کہ اِسے کیسے خبر ہوئی۔ حرام زادے نجیب نے بتادیا ہوگا۔ وہ اِٹھلائی۔
"جب کسی مرد کی شادی ہوتی ہے، ناں، تو اُسے فکر لگی ہوتی ہے۔ پتا نئیں وہ سہاگ رات کو کچھ کر بھی سکے گا، یا نئیں۔ بس! اِسی لیے شادی سے پہلے کسی اور کے ساتھ سونا چاہتا ہے۔ تو بھی ویسا ہی ہے"۔
"ہاں! تو؟" مستقیم رُوٹھ سا گیا۔
"تو یہ کہ مجھ سے شادی کرلے"۔
"گشتی سے؟" مستقیم رہ نہ سکا۔
"گشتی ہوں، تو کیا ہوا؟ ایکس پَرَٹ ہوں۔ مزہ نہ آئے تو کہنا"۔ گشتی نے بغیر برا مانے آنکھ ٹِکاتے ہوئے جواب دِیا۔
"پر میری شادی ایک شریف لڑکی سے ہو رہی ہے۔ گھریلو لڑکی ہے"۔
"گھریلو تو میں بھی ہوں۔ شریف بھی ہوں۔ کسی کو دھوکا نئیں دِیا، چوری نئیں کی، کسی کا مال نئیں کھایا۔ حلال کرکے کھاتی ہوں"۔ وہ اب مستقیم کو زِچ کرنے پر تلی تھی۔
"تو شریف ہے؟" مستقیم نے استہزائیہ لہجے میں پوچھا۔
"تو نئیں ہوں؟" اُس کی آنکھوں کی پتلیوں میں اُداسی کی ایک لہر آ کے گزر گئی۔
"پتا نئیں کس کس کے ساتھ سوئی ہوگی"۔ مستقیم نے بھی چھیڑنے کے لیے کہا۔
"اب تو گنتی بھی یاد نہیں! اِس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ تو مجھے اچھا لگا ہے۔ ایک بات تو بتا"۔
وہ مستقیم سے جڑ کے بیٹھ گئی۔
خون نہ نکلے تو عورت، عورت نئیں رہتی؟ یا شریف نئیں ہوتی؟ بول؟"
مستقیم کے پاس کیا جواب ہو سکتا تھا۔
"مجھے کیا پتا!"
"تو آج میرے ساتھ سونے آیا ہے۔ کل اُس کے ساتھ سوئے گا، جس سے تیری شادی ہونی ہے۔ تو کیا تو شریف نئیں رہے گا؟ اور تو شریف نئیں رہے گا، تو کسی شریف لڑکی کے ساتھ کیوں سوئے گا؟"
مستقیم اُس کا لیکچر سننے تو آیا نہیں تھا۔ اُسے یہی سمجھ آیا کہ اُس کا منہ بند کر دے۔ ایک بار پھر اُس کے ہونٹوں سے ہونٹ ملادیے۔ اس بار منہ کی باس کا احساس نہیں ہوا۔ ایسے ہی جیسے شراب کے دوسرے تیسرے پیگ پر اُس کی بو اپنا احساس کھو دیتی ہے۔ مستقیم میں تحریک پیدا ہوگئی تھی۔ وہ بھی پوری طرح ساتھ دے رہی تھی، جیسے کہ وہی اُس کا محبوب ہے۔ اُس نے مستقیم کو بستر پر گرایا اور اُس کی پتلون کا بٹن کھول کے نیچے سرکا دی۔ اس بار مستقیم نے مزاحمت نہ کی۔ پائنچہ اُتارتے ہی اُس نے مستقیم کے پیر کے انگوٹھے کو اپنے لبوں میں کس لیا۔ مستقیم کے پورے بدن میں ایک جھنجھناہٹ سی دوڑ گئی۔ لطف کی ایسی کیفیت میں تھا، کہ مچلے بغیر نہیں رہ پایا۔ وہ اُس کی پنڈلیوں پر زبان پھیرتی، ران تلک آئی تو مستقیم اپنی اِنتہا پر پہنچ گیا۔ اس کا قہقہہ مستقیم کی ندامت کو دو چند کر گیا۔ بے ساختہ مستقیم کے منہ سے نکلا۔
"سوری"۔
یہ سُننا تھا کہ وہ ہنستے ہنستے وہیں دُہری ہوگئی۔ مستقیم کی ساری مردانگی بستر کی چادر پر پھیلی اُس کا مذاق اُڑا رہی تھی۔ دروازے پر ایک بار پھر دستک ہوئی۔
ارے کیا چل ہا ہے، اندر؟
نجیب کی پھسپھسی سی آواز سنائی دی۔ مستقیم کو اپنی فکر پڑ گئی۔ بے تابی سے لجاجت کے سے انداز میں منمنایا۔
"اب اسے کچھ نہ بتانا، میں تجھے کچھ پیسے اور دوں گا"۔
وہ اپنی ہنسی پر قابو پانے کی کوشش کرنے لگی۔ نجیب سے انتظار نہیں ہورہا تھا۔
"مستقیم، دروازہ کھول۔ اتنی دیر لگادی ہے، تو نے؟"
مستقیم نے پتلون اُٹھا کر غسل خانے کی طرف جاتے ہوئے کہا۔
"کھول دے دروازہ"۔
"نہ! نہیں کھولنا۔ اِس ماں کے یار کو باہر ہی رہن دے۔ ابھی تو تیرے ساتھ مزہ لوں گی"۔
اِس سے پہلے کہ مستقیم جواب میں کچھ کہتا، اُس نے دروازے کی طرف منہ کرتے آواز لگائی۔
"یہ کِس پوستی کو لے آیا ہے، یہ تو میری جان ہی نئیں چھوڑ رہا"۔
یہ کَہ کر وہ خود ہی دبی دبی سی ہنسی ہنسنے لگی۔
بار بار کی دستک سن کے منیجر نجیب کے پاس چلا آیا۔
سر، کچھ خیال کریں۔ دوسرے کمروں میں لوگ ڈسٹرب ہو رہے ہوں گے۔ شکایت کریں گے۔ پلیز!"
نجیب ہارے ہوئے جواری کی طرح منیجر کے ساتھ لوٹ گیا۔
مستقیم اپنے چہرے پہ سے شرمندگی کی میل دھو کر غسل خانے سے نکلا، تو وہ الف ننگی بیٹھی اُس کا انتظار کر رہی تھی۔
"تو کپڑے تو پہن لے، اب!" مستقیم نے بیزاری کا اظہار کیا۔
"کیوں؟ تیرا نشہ اُتر گیا ہے؟ ہوگئی تیری ہوس پوری؟ بری لگنے لگی ہوں، اب میں؟"
بات یہی تھی۔ مستقیم پر احساسِ گناہ کا غلبہ تھا۔
"دروازہ کھول دوں؟ بلا لیتا ہوں، نجیبے کو۔ وہ۔ تیری خواہش وہ پوری کر دے گا"۔
"میری خواہش تو تو ہے۔ آ بیٹھ اِدھر"۔ وہ محبوبانہ لہجے میں بولی۔
"تو نے ٹھیک کہا تھا۔ مجھے شادی سے پہلے کسی اور لڑکی سے سیکس نہیں کرنا چاہیے۔ یہ بے ایمانی ہوگی۔۔
"اچھا؟ بڑی جلدی ایمان لے آیا تو؟" وہ زیرِلب مسکراتے ہوئے، مستقیم کا چہرہ پڑھ رہی تھی۔ "آجا! کھا نئیں جاوں گی، تجھے"۔
مستقیم شکست خوردہ سا بیٹھ گیا۔
"ایسا میں ہر کسی سے نئیں کرتی"۔
پہلی بار اُس کے چہرے پر حیا کی لالی اُبھری۔
"میں تو لیٹی رہتی ہوں۔ بس بت بنی"۔
"کیا بکواس کر رہی ہے!" مستقیم نے اسے ڈانٹ دیا۔
"تجھے مست کردیا ناں! میرا بھی دِل کر رہا تھا، تیرے ساتھ۔ پر کوئی بات نئیں خیر ہے۔ تھوڑی دیر میں پھر تیار ہو جائے گا، تو"۔
"نئیں میں نئیں۔ اب نئیں۔ ایک ہی بار بہت ہے"۔
"اچھا سن! یہ سب کے ساتھ ہوتا ہے۔ پریشانی کی بات نئیں ہے۔ پہلی بار سب کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے۔ اِدھر آ۔ جبھی ڈال کے سو جا میرے ساتھ"۔
اپنی ناکامی کا احساس لے کے مستقیم کا دِل ٹوٹا ہوا تھا، اُس کی ملائم باتوں نے مستقیم کے دِل پر ایسا اثر کِیا کِہ وہ اُس کی گود میں سر رکھ کے لیٹ گیا، جیسے ماں کی گود کا سہارا تھا۔
"نام کیا ہے، تیرا؟" مستقیم نے دھیرے سے پوچھا۔
"گشتی"۔ وہ زیرِ لب بولی۔ مستقیم کے لبوں پر بے بسی کی سی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔
"بکواس نئیں کر۔ نام بتا"۔
"کیا فیدہ؟ کیا کرے گا، نام کا۔ سب کو جھوٹے ہی نام بتاتی ہیں، ہم"۔
"جھوٹا نام کیا ہے، تیرا؟"
"ریما"۔
مستقیم ہنس پڑا۔ "یہ تو فلم والی کا نام ہے"۔
"ہم ایسا ہی نام رکھتی ہیں۔ فلم والیوں کو دینے کے لیے سب کے پاس اتنا رُپیا نئیں ہوتا۔ ہر کوئی اُن کی۔ کچھ لوگ نقلی ریما کے ساتھ سو کے خوش ہو لیتے ہیں"۔
"گشتی"۔ مستقیم نے زیرِلب مسکراتے ہوئے کہا۔
"ہاں! یہ ٹھیک ہے۔ یہی اصلی نام ہے، ہمارا۔ نام تو وہی ہوتا ہے جس سے لوگ پکاریں۔ نئیں؟"
"چل! مذاق کر رہا ہوں۔ ایویں ناں، اُداس ہو"۔
مستقیم نے اپنی ہتھیلی سے اُس کی چکنی ران سہلاتے ہوئے کہا۔ ریما نے جھک کے اپنے دانتوں سے اُس کی ٹھوڑی کو ہلکے سے کاٹ لیا۔ اُس کی تنی ہوئی چھاتیوں کو اپنے چہرے کے اتنا قریب پا کے، مستقیم نے ہیجان زدہ ہو کے اُنھیں اپنے منہ میں لے لیا۔ ایسے چوسنے لگا، جیسے ازلوں کا پیاسا تھا۔ جوش میں ریما کے منہ سے سسکاریاں نکلنے لگیں۔
نجیب کی شب بہت پریشاں گزری تھی۔ رات گئے بشیر ڈرائیور نے پھر اپنی بہن کی شادی کی بات چھیڑی تو نجیب نے اُسے بری طرح ڈانٹ دیا تھا۔
"تیری بہن کا ٹھیکا لیا ہے، ہم نے کیا؟ چل دوڑ۔ جا کسی اور کو ٹھگ"۔
منیجر بھی وہیں کھڑا تھا، اُس نے بشیر کو آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارہ کِیا کہ وہاں سے چلا جائے۔ بشیر کے جانے کے بعد نجیب بڑبڑایا۔
"یہ بہن چ۔ سمجھتے ہیں، پیسا درختوں پر اُگتا ہے۔ ایک وہ حرام زادہ ہے، کہ گشتی سے چمٹا ہوا ہے"۔
منیجر کھسیانا سا ہنس دِیا۔ وہ کوئی متضاد تبصرہ کرکے اپنے مستقل گاہک کو خراب نہیں کرنا چاہتا تھا۔
فجر کی اذانیں ہوئیں تو ریما جانے کی تیاری میں تھی۔ نجیب کو رات بھر کا غصہ تھا، زبردستی اُسے گرا لیا اور جانے سے پہلے اپنا انتقام، پورا کیا۔ مستقیم کمرے ہی میں تھا، بس اتنا دیکھا کہ ریما بے جان سی بستر پر پڑی اُسے دیکھ کے مسکرا رہی ہے اور نجیب جنونی ہوا ہے۔ وہ جھٹ سے کمرے سے باہر نکل گیا۔ اس کی نظر ایک طرف بیٹھے بشیر پہ گئی، جو نیند کے جھونکے میں تھا۔ سیگرٹ سلگاتا، چلتا ہوا اُس کے سر پر جا کھڑا ہوا۔ بشیر ہڑبڑا کے اٹھ کھڑا ہوا۔
"ایک مہینے بعد ہے، تمھاری بہن کی شادی؟" مستقیم نے یونھی بات شروع کی۔
"جی ساب"۔ نجیب سے ڈانٹ پڑنے کے بعد وہ ڈرا ہوا تھا۔
"ہوں! ، مستقیم نے اتنا ہی کہا اور کھڑا سیگرٹ کے کش لیتا رہا۔ تھوڑی دیر خاموشی چھائی رہی، پھر بشیر سے پوچھا۔
"چلو گے میرے ساتھ؟"
بشیر استفسارانہ نگاہوں سے دیکھنے لگا، تو مستقیم نے پہیلی کھولی۔
"یہ لڑکی۔ اِسے گھر چھوڑ کے آئیں گے"۔
"یہ تو خود چلی جاتی ہیں۔ رِشکے (رِکشے) میں بیٹھ جائے گی، باہر سے"۔
"نہیں! میں اسے چھوڑ کے آنا چاہتا ہوں"۔ مستقیم کے دِل میں پتا نہیں کیا تھا۔
"اچھا؟ جیسے آپ کی مرضی"۔ بشیر حکم کا غلام تھا۔
مستقیم سوچ رہا تھا، کہ واپسی پر بشیر ڈرائیور کو دو تین ہزار تھمادے گا، کہ وہ اپنی بہن کی شادی کے لیے رکھ لے، لیکن اُس سے کہا نہیں۔
دونوں کار کی پچھلی سیٹ پر بیٹھے تھے۔ مستقیم کا جی ابھی تک بھرا نہیں تھا۔ ساتھ بیٹھے اپنے ہاتھ سے اُس کی رانیں سہلا رہا تھا۔
"چل بس بھی کردے۔ آج ہی تھوڑی ہے"۔ اس نے مستقیم کے کان کے قریب سرگوشی کی۔
بشیر ڈرائیور بظاہر اُن سے بے نیاز سڑک پر نظریں جمائے ہوئے تھا۔ اتنی صبح سڑک پہ اِکا دُکا گاڑیاں دکھائی دے رہی تھیں۔ کہیں کہیں میونسپل کمیٹی کے بھنگی سڑک پہ جھاڑو لگاتے دکھائی دیے۔ مستقیم نے جیب سے بٹوا نکالا، تو اس میں کل تین ہزار رکھے تھے۔ ارادہ تھا کہ یہ بشیر ڈرائیور کو دے گا، لیکن فوری ارادہ بدل گیا۔ ریما نے نوٹوں پر اک سرسری نظر ڈالی اور باہر دیکھنے لگی۔ مستقیم نے بٹوے سے سب نوٹ نکال لیے اور اپنا بازو اس کی گردن کے گرد حمائل کرکے اُس کے گریبان میں اپنا ہاتھ ڈال دیا۔ وہ چونکی، کنکھیوں سے ڈرائیور کو دیکھا، لیکن مزاحمت نہیں کی۔ مستقیم نے نوٹ اُس کی انگیا میں رکھ کے اپنی انگلیوں سے نرم گرم جلد کو مسلا۔ وہ لال ہوتے منمنائی۔
"نہ کر۔ کیا سوچے گا، وہ"۔
"تیرا انعام ہے، یہ۔ رکھ لے"۔
"رکھ تو دیے ہیں۔ اب ہاتھ تو نکال"۔
اُس نے ایسے کہا، جیسے یہ پروا نہ ہو، کہ مستقیم اُس کے گریبان سے ہاتھ نکالے یا نہ نکالے۔
"پھر ملے گی؟"
"کب؟"
"جب بلاوں گا!"
"آ جاوں گی۔ میرا نمبر رکھ لے۔ اُسے دَلے کو مت کہنا، وہ اپنا کمیشن لیتا ہے"۔
کار کچی آبادی میں داخل ہونے سے پہلے گندے نالے کے پاس پہنچی، تو وہ بولی۔
"بس یہیں روک دے۔ میں چلی جاوں گی، آگے خود"۔
بشیر نے کار روک دی۔ مستقیم نے ماحول پر نظر کی۔ نالے پر چھوٹی سی پلیا بنی ہوئی تھی اور نیچے نالے کے غلیظ پانی میں کچرے کا ڈھیر لگا ہوا تھا۔ اُس نے اُترنے سے پہلے مستقیم کے گال پر اتنی تیزی سے بوسہ لیا کہ مستقیم کچھ سمجھ ہی نہ پایا کہ کیسے جواب دے۔ پھر اتنی ہی روانی سے ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالا اور وہی تین ہزار کے نوٹ نکال کے بشیر ڈرائیور سے مخاطب ہوئی۔
"یہ لے! یہ رکھ لے۔ تیری بہن کی شادی ہے، ناں! میری طرف سے اُسے کچھ لے دینا"۔
بشیر نے کسی پس و پیش کے بغیر وہ نوٹ تھام لیے۔ وہ شکریے کا موقع دیے بغیر کار کا دروازہ کھول کے پلیا کی طرف بڑھ گئی۔
"گشتی"۔
مستقیم دل ہی دل میں یہ کہے بغیر نہ رہ سکا۔ ایک لمحے اسے یہ احساس ہوا کہ اُس کی دی گئی رقم کی توہین کی گئی ہے، لیکن یہ احساس زیادہ دیر نہ رہا۔ بل کہ اس کی جگہ اس احساس نے لے لی کہ ہم سے اچھی تو یہی ہے، جسے کسی غریب کا خیال ہے۔ بشیر ڈرائیور کو جیسے رات بھر کی کمائی وصول ہوگئی تھی، وہ کار موڑ رہا تھا اور مستقیم غلیظ پانی پر بنی اس پلیا پر سے گشتی کو کولھے مٹکاتے ہوئے جاتے دیکھنے لگا۔ اِرد گرد کا سارا ماحول گندگی کا نمونہ پیش کر رہا تھا، لیکن مستقیم کو اُس ماحول میں وہ گشتی بڑی اُجلی دکھائی دے رہی تھی، ایسے ہی جیسے کیچڑ کے بیچ میں کنول تیر رہا ہو۔