1. ہوم
  2. کالمز
  3. محمد شہزاد
  4. مفید معلومات میں بےوجود کہانی
Mohammad Shehzad

مفید معلومات میں بےوجود کہانی

ڈاکٹر حمزہ حسن شیخ کا ناول "کیول رام کا کافر کوٹ" دریائے سندھ کے ایک خوب صورت منظر سے شروع ہوتا ہے۔ دریا کے ساتھ پہاڑ ہیں، درخت ہیں اور پہاڑوں پر بنے مضبوط محل ہیں۔ لیکن یہ آج کا دریائے سندھ نہیں بلکہ ساتویں صدی کا سندھو ہے۔ ابتدا ہی میں مصنف دریا کو صرف ایک جغرافیائی حقیقت کے طور پر پیش نہیں کرتا بلکہ اسے اس پورے خطے کی تہذیبی زندگی کا مرکز بنا دیتا ہے۔

سندھو اس کتاب میں ایک دریا سے بڑھ کر ہے۔ یہ مختلف تہذیبوں کا پالنے والا، ان کی زندگی کا ساتھی اور ان کے مذہبی تصور کا حصہ ہے۔ اس سے وابستہ مختلف قوموں نے اسے اپنے اپنے نام دیے۔ تبت والے اسے سینگے چو کہتے تھے اور اس کے منبع کو سینگ خباب۔ بلتستان میں اسے جمسو یا سوفو کہا جاتا تھا۔ چینی اسے شینڈو کہتے تھے۔ یونانیوں نے اسے انڈوس کہا اور رومیوں نے انڈس۔ بعد میں یہی نام انگریزی میں بھی رائج ہوا۔

دریا کے ناموں کی یہ تبدیلی بھی اپنے اندر ایک پوری تاریخ رکھتی ہے۔ ایک ہی دریا مختلف تہذیبوں کے لیے مختلف معنی رکھتا رہا۔ کسی کے لیے یہ مقدس تھا، کسی کے لیے زندگی کا ذریعہ، کسی کے لیے تجارت کا راستہ اور کسی کے لیے ایک جغرافیائی علامت۔ مصنف نے سندھو کو اسی وسیع تہذیبی پس منظر میں دیکھنے کی کوشش کی ہے۔

تاریخی موضوع پر ناول لکھنا آسان کام نہیں۔ اس کے لیے صرف واقعات جان لینا کافی نہیں ہوتا۔ مصنف کو مختلف تاریخی ماخذ پڑھنے پڑتے ہیں، ان میں موجود اختلافات کو سمجھنا پڑتا ہے اور پھر اس مواد کو کہانی کا حصہ بنانا پڑتا ہے۔ ایک تاریخی ناول نگار کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ یہی ہوتا ہے کہ تحقیق اتنی زیادہ نہ ہو جائے کہ کہانی دب جائے اور تخیل اتنا غالب نہ آ جائے کہ تاریخ کا بنیادی ڈھانچا ہی متاثر ہو جائے۔

اس ناول میں تاریخی معلومات بہت ہیں اور تاریخ میں دلچسپی رکھنے والے قاری کے لیے خاصا مواد موجود ہے۔ خاص طور پر پشاور اور موجودہ سرحدی علاقوں کی قدیم تاریخ کے حوالے سے کتاب کئی ایسی باتیں سامنے لاتی ہے جن سے عام قاری زیادہ واقف نہیں۔ ہمارے ذہن میں سرحد کا تصور زیادہ تر دہشت گردی، خودکش حملوں اور انتہا پسندی سے وابستہ ہو چکا ہے، لیکن یہ اس خطے کی پوری تاریخ نہیں۔ پشاور اور اس کے آس پاس کے علاقے صدیوں تک مختلف تہذیبوں، مذاہب، قوموں اور تجارتی راستوں کا مرکز رہے ہیں۔ کتاب اسی پرانے خطے کی ایک تصویر سامنے لاتی ہے۔

ناول کا تاریخی پس منظر ہندو شاہی ریاست ہے، جسے کابل شاہی بھی کہا جاتا ہے۔ اس دور کا ایک اہم حکمران راجہ جیا پالا تھا۔ ہندو شاہی سلطنت کی بنیاد کلر نامی بادشاہ نے 843 میں رکھی تھی۔ راجہ جیا پالا کا دارالحکومت پشاور تھا۔ اس زمانے میں پشاور وسطی ایشیا اور برصغیر کے درمیان تجارت کا ایک اہم راستہ تھا۔ مختلف علاقوں سے آنے والے لوگ یہاں سے گزرتے تھے اور ان کے ساتھ مختلف تہذیبی اور مذہبی اثرات بھی اس خطے میں داخل ہوتے تھے۔

اس دور کی سیاسی صورت حال بھی کتاب میں سامنے آتی ہے۔ ہندو ریاستیں عرب حملہ آوروں سے خوف زدہ تھیں۔ عربوں کے پاس جنگی منجنیقیں تھیں اور دیبل کی فتح کے بعد مقامی ریاستوں کو اندازہ ہوگیا تھا کہ اپنے دفاع کو مضبوط کرنا ضروری ہے۔ چنانچہ قلعے اور محل مضبوط کیے گئے۔ جنگ کے دوران لوگوں کو محفوظ رکھنے کے لیے بھی مختلف انتظامات کیے گئے۔

یہی تاریخی پس منظر کافر کوٹ کی اہمیت سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ آج ہمیں وہاں زیادہ تر کھنڈرات دکھائی دیتے ہیں، لیکن اپنے زمانے میں یہ جگہیں مذہبی، سیاسی اور معاشرتی زندگی کا حصہ تھیں۔ مندر صرف عبادت گاہ نہیں تھے بلکہ ان کے ساتھ مقامی آبادی، مذہبی عقیدہ، دولت اور سیاسی اثر و رسوخ بھی جڑا ہوا تھا۔ کتاب ان مندروں کی سابقہ شان و شوکت کی طرف توجہ دلاتی ہے۔

کافر کوٹ کوہ خیسور کی بلند چوٹیوں پر واقع تھا۔ ناول کے مطابق یہ علاقہ تین راجہ بھائیوں میں تقسیم تھا۔ راجہ بل کے پاس جنوبی کافر کوٹ تھا، راجہ ٹل کے پاس شمالی کافر کوٹ اور بنوں کا علاقہ چھوٹے شہزادے آکل کے پاس تھا۔ تینوں کو اندازہ تھا کہ جیا پالا عرب حملہ آوروں کے مقابلے میں مسلسل کمزور پڑ رہا ہے اور اگر اس کی شکست کا سلسلہ جاری رہا تو ان کے اپنے علاقے بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔

یہاں ناول نگار کے پاس ایک مضبوط تاریخی کہانی بنانے کا اچھا موقع تھا۔ تین بھائی، ان کے مختلف علاقے، بدلتی ہوئی سیاسی صورت حال، باہر سے آنے والا خطرہ اور اپنی اپنی ریاست بچانے کی فکر، یہ سب چیزیں ایک اچھے پلاٹ کی بنیاد بن سکتی تھیں۔ لیکن کتاب میں ان امکانات کو ناولی صورت نہیں دی گئی۔

ناول میں حجاج بن یوسف اور محمد بن قاسم کو بھی ہماری روایتی تاریخ سے مختلف انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ حجاج کے کردار کے حوالے سے ایسے اشارے ملتے ہیں جن میں اسے لڑکیوں اور لڑکوں کا شوقین دکھایا گیا ہے، جبکہ محمد بن قاسم کے بارے میں یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ حجاج نے اسے اپنے مفادات کے لیے سندھ فتح کرنے بھیجا تھا۔ صفدر زیدی کے ناول "بنت داہر" میں بھی حجاج کے بارے میں اسی نوعیت کا تاثر ملتا ہے۔

ناول میں محمود غزنوی اور ایاز کا ذکر بھی آتا ہے۔ اس کے بعد محمود کے حملوں، پشاور پر اس کی پیش قدمی اور مندروں کی لوٹ مار اور تباہی کا ذکر کیا جاتا ہے۔

کیا "کیول رام کا کافر کوٹ" کو واقعی ناول کہا جا سکتا ہے؟

میرے نزدیک اسے ناول کہنا زیادتی ہے۔ کتاب میں صرف 160 صفحات ہیں اور ان صفحات میں زیادہ تر تاریخی معلومات، مقامات، تہذیبی حوالوں اور واقعات کو سمیٹنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اگر یہی مواد ایک اچھے مدیر کے ہاتھ میں دے دیا جائے تو اسے آسانی سے ایک جامع اور مؤثر مقالے کی شکل دی جا سکتی ہے۔ بلکہ اپنی موجودہ صورت میں یہ ایک اچھا تاریخی مقالہ ہے، کیونکہ اس میں معلومات ہیں، موضوع ہے، تحقیق کا احساس ہے اور ایک اہم تاریخی خطے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ مسئلہ صرف یہ ہے کہ اسے ناول بنانے کے لیے جس کہانی، کرداروں اور واقعاتی ربط کی ضرورت تھی، وہ سرے سے موجود ہی نہیں۔

ایک ناول کی بنیادی ضرورت صرف یہ نہیں کہ اس میں بہت سا تاریخی مواد موجود ہو۔ ناول میں واقعات کے درمیان تعلق، کرداروں کی داخلی کشمکش، تصادم، تبدیلی اور ایسا واقعاتی بہاؤ ہونا چاہیے جو قاری کو آگے لے جائے۔ "کیول رام کا کافر کوٹ" میں معلومات کا وزن کہانی کے وزن سے زیادہ ہے۔ قاری کئی صفحات تک تاریخ پڑھتا ہے، لیکن یہ انتظار رہتا ہے کہ اصل کہانی کب شروع ہوگی۔

اس حوالے سے کیول رام کا کردار خاص طور پر اہم ہے۔ عنوان سے یہ توقع پیدا ہوتی ہے کہ کیول رام کتاب کا مرکزی کردار ہوگا اور اس کے ذریعے کافر کوٹ، اس کی تہذیب، اس کی تباہی اور پھر اس کی بحالی کی پوری داستان سامنے آئے گی۔ لیکن کیول رام کا ذکر تقریباً آخری دو صفحات میں آتا ہے۔ وہ سترھویں صدی میں ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے کلاچی میں آیا اور ان مندروں کو آباد کرنے کی کوشش کی جنہیں محمود غزنوی تاراج کر چکا تھا۔

یہاں عنوان اور کہانی کے درمیان ایک واضح فاصلہ محسوس ہوتا ہے۔ اگر کیول رام کتاب کا مرکزی حوالہ ہے تو اسے شروع سے ہی کہانی کے ڈھانچے میں شامل ہونا چاہیے تھا۔ اس کی شخصیت، اس کا سفر، اس کے مقاصد اور کافر کوٹ سے اس کا تعلق کہانی کو ایک واضح مرکز فراہم کر سکتے تھے۔ لیکن مصنف اس امکان کو پوری طرح استعمال نہیں کرتا۔

کتاب کا ایک بڑا مسئلہ معلومات کی تکرار بھی ہے۔ ایک ہی قسم کی بات مختلف مقامات پر بار بار آتی ہے۔ مثال کے طور پر دریائے سندھ کے بارے میں بار بار بتایا جاتا ہے کہ وہ پانی فراہم کرتا ہے، میدانوں کو سیراب کرتا ہے اور یہ علاقہ تجارت کے لیے اہم راستہ ہے۔ ایک بار بات واضح ہو جائے تو اسے بار بار دہرانے سے کہانی کا بہاؤ متاثر ہوتا ہے۔

اسی طرح بعض غیر ضروری تفصیلات کو بہت زیادہ جگہ دی گئی ہے۔ بادشاہ کے تالاب کی تفصیل اس کی ایک مثال ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ تالاب میں پانی کیسے ڈالا جاتا تھا، کیسے نکالا جاتا تھا، دوبارہ کیسے بھرا جاتا تھا اور روزانہ تازہ پانی کیسے ڈالا جاتا تھا۔ ساتھ ہی یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ بارش کا پانی تالاب میں جمع کیا جاتا تھا۔ یہاں ایک سادہ سا سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر تالاب روزانہ خالی کرکے دوبارہ بھرا جاتا تھا تو بارش کا پانی جمع کرنے کی ضرورت کیا تھی؟

یہ معمولی اعتراض نہیں بلکہ کتاب کے فنی مسئلے کی طرف اشارہ ہے۔ تاریخی تفصیل اور غیر ضروری تفصیل میں فرق ہوتا ہے۔ تاریخی ناول میں جزئیات بہت اہم ہیں، کیونکہ انہی سے ایک زمانہ قاری کے سامنے زندہ ہوتا ہے۔ لیکن ہر جزئیات کو برابر اہمیت دینے سے کہانی رکنے لگتی ہے۔ ایک اچھے مدیر کا کام یہی ہوتا ہے کہ وہ ضروری اور غیر ضروری مواد میں فرق کرے، تکرار ختم کرے اور کہانی کو اس کی اصل رفتار واپس دے۔

اسی طرح کتاب میں بعض جگہ معلومات اس طرح آتی ہیں جیسے مصنف قاری کو تاریخ پڑھا رہا ہو۔ یہ طریقہ ایک مقالے میں بالکل قابل قبول ہے، لیکن ناول میں یہی انداز اکثر کہانی کی روانی توڑ دیتا ہے۔ ناول نگار کو معلومات کرداروں، مکالموں، واقعات اور ماحول کے ذریعے بھی منتقل کرنی ہوتی ہیں تاکہ قاری معلومات حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ کہانی بھی محسوس کرے۔

یہاں تحقیق اور تخیل کے توازن کا سوال بھی سامنے آتا ہے۔ صرف تاریخی معلومات جمع کر دینا ناول نہیں بناتا اور صرف تخیل سے تاریخی ناول نہیں بنتا۔ تاریخی ناول میں تحقیق بنیاد فراہم کرتی ہے، لیکن اس بنیاد پر ایک زندہ دنیا بنانا مصنف کا اصل فنی کام ہے۔ اس کتاب میں تحقیق نمایاں ہے، مگر تخلیقی تشکیل دکھائی نہیں دیتی۔

اس کے باوجود کتاب کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ "کیول رام کا کافر کوٹ" ایک ایسے تاریخی خطے کی طرف توجہ دلاتا ہے جس کے بارے میں عام قاری بہت کم جانتا ہے۔ کافر کوٹ، ہندو شاہی دور، دریائے سندھ کے تہذیبی کردار، قدیم پشاور اور اس علاقے میں مختلف مذاہب اور تہذیبوں کے میل جول کے بارے میں کتاب میں خاصا مواد موجود ہے۔ یہ اس کتاب کی اصل طاقت ہے۔