کل پھر سو شل میڈیا پر چلنے والی ایک اور اندوہ ناک خبر نے دل و دماغ کو کسی عجیب حالتِ زار میں مسلسل مبتلا کئے رکھا۔ شدید دکھ اور افسوس کی کیفیت تھی کہ کسی طرح ذائل ہی نہیں ھو رہی تھی۔ سارا دن یونہی گزر گیا، بالآخر دوسرے دن جاکر دل ذرا سنبھلا، تو آج ارادہ کیا کہ کچھ لکھوں۔ ہو سکتا ہے، دل پہ پڑے ہوئے اس نئے دکھ کا بھاری پتھر اسی سبب ریزہ ریزہ ھو کر ٹوٹے اور میرے احساس کی پہلے سے چھلنی شدہ ذات میں کوئی جائے پناہ ڈھونڈ کر وہیں جذب ہو جائے، جہاں کتنے اور دکھ ایک دوسرے کے ساتھ اپنے اپنے سر ٹکائے مایوسی کے عالم میں بیٹھے تھے۔ خبر تھی گوجرانوالہ میں ایک شادی شدہ نوجوان لڑکی کی، جس کا گناہ صرف یہ تھا کہ وہ دوسری بار، پھر ایک بیٹی کی ماں بننے والی تھی۔ شوہر کو جب پتہ چلا تو اس نے لڑکی کو پہلے تو اپنے نوکدار جوتوں سے خوب پیٹا، پھر اس کے پیٹ میں انہی جوتوں سے ٹھڈے مارے، بال نوچے اور آخر میں اس کی ایک آنکھ ایسے پھوڑی کہ معصوم کی آنکھ سے خون کا فوارہ چھوٹ پڑا۔
بعد میں اس لڑکی نے اپنے والد کی مدد سے اپنے شوہر کے خلاف متعلقہ تھانے میں ایف آئی آر درج کروائی اور جلد ہی پولیس نے بھی اس کے شوہر کو زیرِ حراست لے لیا۔ جو واردات کے بعد گھر سے فرار ھو گیا تھا۔
لڑکی کی آنکھ آج تین دن کے بعد کچھ بہتر تھی، لیکن میرے جسم پر پڑے ھوئے نیل ابھی بھی نیلے ہی تھے، ان کی نیلاہٹ کو سیاہ ہونے میں مزید کئی دن لگ سکتے تھے۔ میں ایک پڑھی لکھی، بر سرِ روز گار لڑکی تھی اور ریاستی قانون میں عورت کو دیئے گئے حقوق کا بھی ادراک رکھتی تھی، لیکن اس کے باوجود اپنے حلقہِ احباب میں اپنی متعفن شادی شدہ زندگی کا پول کھل جانے کے خوف اور اپنے گھر والوں کی زندگی کو اپنے دکھوں کی اذیت سے بچانے کی غرض سے ہر بار خاموش ہو جاتی تھی۔ جس سے سبط الحسن کی دیدہ دلیریاں دن بدن بڑھتی جا رہی تھیں۔ ہماری شادی کو چودہ سال ہو چکے تھے۔ لیکن ہم دونوں میاں بیوی میں اس کی ماں اور بہن کی بے جا مداخلت نے ہم دونوں میں کبھی وہ تعلق قائم نہیں ہونے دیا جو کسی بھی عام اور اوسط درجے کے شادی شدہ جوڑوں کے درمیان وقت گزرنے کے ساتھ خود بخود پیدا ہو جاتا ہے۔
سبط الحسن کو مجھ سے الجھنے کے لئے کسی وجہ کی ضرورت نہیں تھی۔ کیونکہ وجہ تو اس کے دفتر سے آنے سے پہلے ہی اس کی بیوہ ماں اور اسکی آذاد منش بہن راحیلہ، پہلے سے تیار کر رکھتی تھیں۔ میں کسی طرح بھی ان کی سازشوں اور حیلہ بازیوں کا مقابلہ کرنے کی اہل نہیں تھی۔ کبھی یہ بات ہوتی کہ تمھاری بیوی نے آج یونیورسٹی سے آنے کے بعد گھر کے کسی کام کو ہاتھ نہیں لگایا، کبھی یہ کہ آج اس نے ہم سے بد تمیزی کی ہے، کبھی یہ الزام لگا دیتیں کہ اس نے تنخواہ کے آدھے پیسے اپنی ماں کو بھیجوا دیئے ہیں، کبھی یہ طعنہ کہ ابھی تک اولاد نہیں ہوئی۔
آئے دن، نت نئی الزام تراشیوں، طعنوں اور لڑائی جھگڑوں نے میری زندگی کو عذاب بنا دیا تھا۔ اکثر اوقات ان کی شکایتوں کا نتیجہ میرے جسم پر سبط الحسن کے ٹھڈوں اور میرے منہ پر اس کے تھپڑوں کے نیلگوں نشانوں کی صورت میں ظاہر ہوتا تھا، جنھیں میں یونیورسٹی میں پڑھانے کے لئے جاتے ہوئے، اپنے میک آپ کی دبیز تہوں میں چھپا لیتی اور سارا دن یونیورسٹی کی ساتھی کارکنان اور طالبات سے جھوٹی مسکراہٹوں کا تبادلہ کرکے گذار لیتی۔ لیکن گھر واپسی پر، گذشتہ رات کی کھائی ہوئی مار کی سب چوٹیں، میرے جسم کے ہر حصے پر اپنی دلخراش ٹیسیں دوبارہ تازہ کرجاتیں، جن کو سہلانا کئی کئی دن تک مشکل ہو جاتا۔
میں اکثر سوچتی کہ میں آج کے دور کی کیسی ایک آذاد، اعلی تعلیم یا فتہ، ترقی پسند اور خود مختار عورت ہوں جو اتنے سالوں سے اپنے جائز حقوق کا ہی محاسبہ نہیں کر پا رہی؟ اور جو گھر کی دو عورتوں کی چالاکیوں سے مسلسل پسپا ہو رہی ہے، ماریں کھا رہی ہے اور جس کا شوہر بھی اس کے دکھوں کو سمجھنے میں مسلسل ناکام ہی ثابت ہو رہا ہے۔ ساس اور نند کا ناجائز اور ظالمانہ رویہ اپنی جگہ تھا، لیکن مجھے ذیادہ دکھ اس بات پر تھا کہ سبط الحسن نے کبھی بھی اتنے سالوں میں ایک مرتبہ بھی انصاف، دانشمندی اور اچھا شوہر ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے کبھی میرا ساتھ نہیں دیا۔ بلکہ ان چودہ سالوں میں وہ اپنی ماں اور بہن کی بے بنیاد باتوں کے ہاتھوں ایک مرتبہ تو مجھے طلاق بھی دے چکا تھا۔ جو بعد میں میرے گھر والوں کی مداخلت سے رجوع پر منتج ہوئی۔
میں نے اس طلاق کے بعد کئی بار ارادہ کیا کہ اس کینسر زدہ رشتے سے جان چھڑا لوں، لیکن ہر بار عجیب سی گھبراہٹ مجھے اپنے حصار میں لے لیتی اور میں اپنا ارادہ بدل دیتی۔ لیکن کچھ دنوں سے مسلسل اس لڑکی کا سوشل میڈیا پر چلنے والا انٹرویو کسی فلم کی طرح بار بار میرے دماغ میں چل رہا تھا۔ میں کچھ بھی کرتی، اس کے انٹرویو میں دہرائے ہوئے واقعات میرے اپنے ان سب زخموں اور چوٹوں کو تازہ کررہے تھے، جو اتنے سالوں سے مجھے سبط الحسن نے اپنی بیوہ ماں اور بہن کی جھوٹی باتوں کی وجہ سے دئیے اور جن کی بدولت میں اتنے سالوں سے ایک نا قابلِ بیان گھٹن میں زندگی گذار رہی تھی۔
رات کا نہ جانے وہ کونسا پہر تھا، کہ جس میں میری آنکھ کھلی، طبیعت میں عجیب سی بے چینی تھی، شائد مجھے پیاس محسوس ہو رہی تھی، بستر پر سبط الحسن بھی نہیں تھا۔ میں نے سوچا وہ ڈرائینگ روم میں اپنے لیپ ٹاپ پر آفس کا کوئی کام کر رہا ہوگا، کچن میرے کمرے کے ساتھ ہی ملحق تھا، جس کے باہر چھوٹا سا ڈائینگ ایریا تھا اور پھر ڈرائینگ روم، کہ جس میں اگر کوئی شخص بات کرتا تو کچن میں بھی آواز آ جاتی تھی۔ مجھے یوں لگا کہ جیسے ڈرائینگ روم میں کسی کے آہستہ آہستہ بولنے کی سرگوشی جیسی آوازیں آ رہی ہیں۔ میں حیرت اور تجسس کے ملے جلے احساس میں دبے پائوں ڈرائینگ روم کی دیوار کے قریب ہوگئی کہ سنوں تو، اندر کون ہے اور الفاظ کیا ہیں؟
کان لگا کر سنا تو، پتہ چل گیا، کہ سبط الحسن اور اس کی ماں سرگوشیوں میں ایک دوسرے سے کچھ کہہ رہے تھے۔ بس اتنا ہی سنا جا سکا، کہ وہ اپنی ماں سے کہہ رہا تھا، آپ کل صبح یہ کام لازمی کر لیں۔ میں اب مقدس سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جان چھڑانا چاہتا ہوں۔ روزینہ اب میرے ساتھ اسی گھر میں آ کر رہنا چاہتی ہے اور سچ تو یہ ہے جب سے کامران پیدا ہوا ہے، میرا بھی دل اس کے بغیر نہیں لگتا۔۔ یہ سب سن کر مجھے یوں لگا، جیسے میرا دل میرے سینے سے اچھل کر میرے حلق میں آ گیا ہو۔ میں فوراََ وہاں سے اتنی ہی خاموشی سے واپس کمرے میں آ گئی، جتنی خاموشی سے میں ان کی سرگوشیوں کو سننے کے لئے ڈرائینگ روم کی دیوار کے قریب گئی تھی۔ تو کیا سبط الحسن نے کوئی خفیہ شادی کر رکھی تھی اور اس کا اس کی بیوی سے ایک بیٹا بھی تھا؟
وہ رات میں نے کیسے کاٹی ہوگی اور کتنے آنسو میری آنکھوں سے بہہ بہہ کر میرے دل میں گردش کرتے خون میں شامل ہوتے رہے ہوں گے، کوئی اس کا گواہ نہ تھا اور نہ ہی میری اس موت کا، جو ایک افسوسناک خبر بن کر دوسرے دن ہر شخص کی زبان اور سوشل میڈیا پر چلتی رہی ہوگی، کہ شہر کی ایک نامور یونیورسٹی میں پڑھانے والی انگریزی ادب کی اسسٹنٹ پروفیسر مقدس سبط الحسن آج صبح اپنے گھر میں گیس کا چولہا لیک ہونے کی وجہ سے چل بسیں۔