1. ہوم
  2. کالمز
  3. فرحت عباس شاہ
  4. صحافت لیبل نہیں، پیشہ ورانہ ذمہ داری ہے
Farhat Abbas Shah

صحافت لیبل نہیں، پیشہ ورانہ ذمہ داری ہے

صحافت انسانی معاشرے کا محض ایک شعبہ نہیں، بلکہ علم، تحقیق، عوامی شعور اور جمہوری جواب دہی کا ایک بنیادی ادارہ ہے۔ اس کا کام صرف خبریں سنانا، کالم لکھنا، ٹیلی وژن پر گفتگو کرنا یا کسی سیاسی واقعے پر رائے دینا نہیں، بلکہ حقائق تک رسائی حاصل کرنا، ان کی تصدیق کرنا، واقعات کو درست تناظر میں پیش کرنا اور حکومت، ریاستی اداروں اور معاشرے کے طاقتور حلقوں کو عوام کے سامنے جواب دہ بنانے میں اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ اسی لیے صحافت کی شناخت کسی خود اختیار کیے گئے لقب سے نہیں، بلکہ پیشہ ورانہ کردار، علمی تیاری، عملی تجربے، تحقیق، دیانت داری اور عوامی اعتماد سے قائم ہوتی ہے۔ بین الاقوامی سطح پر صحافت کی ذمہ داریوں کی وضاحت کرتے ہوئے انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس (IFJ) کے عالمی منشورِ اخلاقیات، جو 12 جون 2019ء کو منظور کیا گیا، میں واضح کیا گیا ہے کہ صحافی کی اولین ذمہ داری حقائق اور عوام کے حقِ معلومات کا احترام ہے۔

اس منشور کے مطابق صحافت ایک ایسا پیشہ ہے جس کے لیے وقت، وسائل اور آزادیِ عمل ضروری ہیں، جبکہ خبریں جمع کرنے، ان کی تدوین، ترسیل، تشریح اور اشاعت کے تمام مراحل میں اخلاقی اصولوں کی پابندی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ اسی طرح سوسائٹی آف پروفیشنل جرنلسٹس (SPJ) کے ضابطۂ اخلاق میں سچ کی تلاش اور اس کی درست رپورٹنگ، نقصان کو کم سے کم رکھنا، آزادانہ فیصلے کرنا اور اپنے کام کے لیے جواب دہ ہونا صحافتی ذمہ داریوں کے بنیادی اصول قرار دیے گئے ہیں۔ ان بین الاقوامی اصولوں کی روشنی میں صحافی کی تعریف یوں کی جا سکتی ہے: صحافی وہ شخص ہے جو عوامی اہمیت کے حامل واقعات، معاملات اور مسائل کے بارے میں معلومات جمع کرنے، ان کی آزادانہ تحقیق و تصدیق کرنے، متعلقہ فریقوں کا مؤقف حاصل کرنے، حقائق کو سیاق و سباق کے ساتھ پیش کرنے اور عوام کو قابلِ اعتماد معلومات فراہم کرنے کا کام پیشہ ورانہ ذمہ داری اور اخلاقی دیانت کے ساتھ انجام دیتا ہے۔

اس تعریف میں صحافت کا اصل جوہر کسی مخصوص ادارے، عہدے یا ذرائع ابلاغ کے بجائے اس کے عملی کردار میں پوشیدہ ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا کسی اخبار کے مدیر سے تعلقات کی بنیاد پر کالم لکھ لینے سے کوئی شخص صحافی بن جاتا ہے؟ کیا کسی ٹیلی وژن چینل کے مالک سے قربت، کسی پروگرام میں بطور مہمان شرکت، کسی گفتگو کی میزبانی یا کیمرے کے سامنے مسلسل موجودگی کسی شخص کو خود بخود صحافی بنا دیتی ہے؟ ان سوالات کا جواب صحافت کے پیشہ ورانہ اصولوں کی روشنی میں نفی میں ہے۔ کسی کالم کا شائع ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ کسی تحریر کو اشاعت کے لیے جگہ ملی، لیکن اس سے لازماً یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اس کے مصنف نے خبر نویسی، تحقیقاتی رپورٹنگ، ذرائع کی تصدیق، ادارتی ذمہ داریوں اور صحافتی اخلاقیات کے حوالے سے تربیت بھی حاصل کی ہے۔

اسی طرح کسی پروگرام کی میزبانی یا گفتگو میں شرکت ابلاغی صلاحیت، موضوع پر مہارت یا تجزیاتی قابلیت کی علامت ہو سکتی ہے، مگر یہ بذاتِ خود پیشہ ورانہ صحافت کا مکمل ثبوت نہیں۔ یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا ضروری ہے۔ کالم نگار، تجزیہ کار، میزبان، مبصر، محقق اور صحافی مختلف مگر بعض اوقات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے کردار ہیں۔ ایک شخص بیک وقت ان میں سے کئی ذمہ داریاں ادا کر سکتا ہے، لیکن ہر کردار کی اپنی نوعیت، مہارت اور جواب دہی ہے۔ کسی ماہرِ معیشت کا معیشت پر تجزیہ، کسی ماہرِ قانون کی قانونی رائے اور کسی دانش ور کی سماجی تشریح اپنی جگہ اہم ہیں۔ ان کی قدر گھٹائے بغیر یہ کہنا ضروری ہے کہ محض اظہارِ خیال اور صحافتی تحقیق ایک ہی عمل نہیں۔

اسی طرح ایک اچھا مقرر لازماً اچھا صحافی نہیں ہوتا اور نہ ہی ایک مستند صحافی کے لیے مؤثر مقرر ہونا ضروری ہے۔ صحافت کا پیشہ ورانہ معیار محض تعلیم کی کسی ایک ڈگری سے بھی متعین نہیں ہوتا۔ صحافت کی باقاعدہ تعلیم تحقیق، خبر نویسی، ذرائع کی جانچ، میڈیا قانون، اخلاقیات اور ادارتی عمل کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ تاہم دنیا میں ایسے صحافی بھی موجود ہیں جنہوں نے عملی تربیت، نیوز روم کے تجربے اور طویل پیشہ ورانہ ریاضت کے ذریعے اپنی صلاحیتیں پیدا کیں۔ لہٰذا کسی مخصوص ڈگری کو ہر صورت میں صحافت کی لازمی شرط قرار دینا درست نہیں، البتہ تعلیم، تربیت، مطالعے، تجربے اور مسلسل سیکھنے کی اہمیت سے انکار بھی ممکن نہیں۔

اصل سوال یہ ہے کہ متعلقہ شخص صحافت کے بنیادی تقاضوں کو کس حد تک پورا کرتا ہے۔ بدقسمتی سے جب صحافت کو محض سماجی مرتبے، شہرت، تعلقات یا ذاتی تشہیر کا ذریعہ سمجھ لیا جائے تو اس کے پیشہ ورانہ وقار کو نقصان پہنچتا ہے۔ بعض افراد محدود اشاعتی یا ابلاغی تجربے کو اپنی مکمل صحافتی شناخت کے طور پر پیش کرنے لگتے ہیں۔ کوئی ایک آدھ کالم لکھ کر خود کو سینئر صحافی کہنے لگتا ہے، کوئی چند پروگراموں میں شرکت کے بعد صحافتی تجربے کا تاثر دیتا ہے اور کوئی ادارتی یا انتظامی شخصیات سے قربت کو اپنی پیشہ ورانہ سند سمجھ بیٹھتا ہے۔ ایسے رویوں پر تنقید ضروری ہے، کیونکہ کسی پیشے کی شناخت ذاتی دعوے سے نہیں بلکہ اس کے تقاضوں پر پورا اترنے سے قائم ہوتی ہے۔ تاہم اس تنقید کو بھی اصولی اور منصفانہ ہونا چاہیے۔ ہر آزاد لکھنے والا، آزاد صحافی یا ڈیجیٹل صحافت سے وابستہ شخص کسی بڑے ادارے میں ملازمت نہ کرنے کی وجہ سے غیر صحافی نہیں ہو جاتا۔

آج صحافت اخبارات، رسائل، ریڈیو، ٹیلی وژن، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور آزاد تحقیقاتی اداروں سمیت مختلف ذرائع سے انجام دی جا رہی ہے۔ اگر کوئی شخص کسی ادارے سے وابستہ ہوئے بغیر بھی باقاعدگی سے تحقیق کرتا ہے، معلومات کی تصدیق کرتا ہے، عوامی مفاد کے معاملات سامنے لاتا ہے اور صحافتی اخلاقیات کی پابندی کرتا ہے تو اسے محض ادارہ جاتی وابستگی نہ ہونے کی بنیاد پر صحافت سے خارج نہیں کیا جا سکتا۔ اسی طرح کسی بڑے ادارے کا عہدہ بھی کسی شخص کو اخلاقی لغزشوں سے بالاتر نہیں کر دیتا۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ صحافت محض ایک ملازمت نہیں بلکہ عوامی مفاد سے وابستہ ذمہ داری ہے۔ اس کا مقصد کسی شخصیت کو مشہور کرنا، کسی ادارے کی تشہیر کرنا یا کسی سیاسی گروہ کے مؤقف کو بلا تحقیق آگے بڑھانا نہیں۔

صحافت کا بنیادی تقاضا یہ ہے کہ طاقتور سے سوال کیا جائے، کمزور کی آواز کو جگہ دی جائے، اختلافی مؤقف کو دیانت داری سے پیش کیا جائے اور عوام کو ایسی معلومات فراہم کی جائیں جن کی مدد سے وہ اپنے معاملات اور اجتماعی مستقبل کے بارے میں بہتر فیصلے کر سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ صحافت میں آزادی کے ساتھ ذمہ داری اور اختیار کے ساتھ جواب دہی لازم ہے۔ بات بالکل واضح ہے کہ کسی اخبار میں کالم شائع ہو جانا، کسی ٹیلی وژن پروگرام میں بیٹھ جانا، کسی چینل کے مالک سے تعلق رکھنا یا کسی معروف شخصیت کے ساتھ تصاویر بنوا لینا کسی شخص کی صحافتی اہلیت کا حتمی معیار نہیں۔ اسی طرح کسی شخص کو محض اس بنیاد پر صحافت سے خارج کرنا بھی درست نہیں کہ وہ کسی روایتی میڈیا ادارے میں ملازم نہیں۔ معیار ایک ہی ہونا چاہیے، یعنی اس شخص کا عملی کام، تحقیق کا معیار، حقائق سے وفاداری، پیشہ ورانہ تربیت، اخلاقی دیانت اور عوام کے سامنے جواب دہی ہی اس کی صحافتی اہلیت کا تعین کریں۔