1. ہوم
  2. غزل
  3. عمران کھرل
  4. دردِ دل آج شب انتہا تک چلا
Imran Kharal

دردِ دل آج شب انتہا تک چلا

دردِ دل آج شب انتہا تک چلا
تیرا بیمار دارِ فنا تک چلا

شہرِ مقتول میں ہر طرف بے حسی
ہاتھ جس کا اٹھا، بد دعا تک چلا

طفل نیزوں میں ظالم پروتے رہے
حکم منصف کا بس اک صدا تک چلا

گھر سے باہر وہ دہشت کا ماحول ہے
در سے جو بھی گیا نقشِ پا تک چلا

میں یہ شب گیر آہیں سناؤں کسے
میرا غم بھی بس آہ و بکا تک چلا

اک سفر آگہی کا کیا میں نے یوں
جب چلا میں تو شامِ بلا تک چلا

عشق کا گھاؤ گہرا ہے کتنا کھرل
جو جوانی سے لے کر قضا تک چلا