وہ خامشی ہے کہ کوئی بیاں نہیں ساقی
وہ کون لب ہے کہ جس پر فغاں نہیں ساقی
سوائے نقل مکانی کے راہ کوئی نہیں
کسی گلی کسی گھر میں اماں نہیں ساقی
بپا ہے حشر کچھ ایسا درونِ پردہءِ خاک
اب اس کے آگے کوئی امتحاں نہیں ساقی
میں جانتا ہوں مگر تجھ سے سننا چاہوں گا
کہ مجھ پہ پیرِ مغاں مہرباں نہیں ساقی
کھرل میں کس سے بھلا اپنے دل کی بات کروں
کہ اپنے شہر میں اب ہم زباں نہیں ساقی