1. ہوم
  2. غزل
  3. عمران کھرل
  4. وہ خامشی ہے کہ کوئی بیاں نہیں ساقی
Imran Kharal

وہ خامشی ہے کہ کوئی بیاں نہیں ساقی

وہ خامشی ہے کہ کوئی بیاں نہیں ساقی
وہ کون لب ہے کہ جس پر فغاں نہیں ساقی

سوائے نقل مکانی کے راہ کوئی نہیں
کسی گلی کسی گھر میں اماں نہیں ساقی

بپا ہے حشر کچھ ایسا درونِ پردہءِ خاک
اب اس کے آگے کوئی امتحاں نہیں ساقی

میں جانتا ہوں مگر تجھ سے سننا چاہوں گا
کہ مجھ پہ پیرِ مغاں مہرباں نہیں ساقی

کھرل میں کس سے بھلا اپنے دل کی بات کروں
کہ اپنے شہر میں اب ہم زباں نہیں ساقی