دنیا کے تمام انسان یہ حقیقت جانتے ہیں کہ موت ایک ایساسچ ہے جسے نہ تو کوئی قانون روک سکتا ہے اور نہ ہی دنیا کی کوئی طاقت اس کے وقت کو بدل سکتی ہے لیکن اگر آپ کو معلوم ہو کہ اس کرہ ارض پر ایک ایسا خوبصورت اور پراسرار شہر بھی موجود ہے جہاں انسانوں کے لیے مرنا قانونی طور پر ایک جرم قرار دیا جا چکا ہے تو شاید آپ حیرت سے ششدر رہ جائیں گے۔ یہ سچائی کسی تخلیقی ناول یا سائنس فکشن فلم کی کہانی نہیں بلکہ ناروے کا ایک دور افتادہ اور خوبصورت جزیرہ نما قصبہ ہے جسے دنیا لونگئیربین کے نام سے پہچانتی ہے۔
شمالی قطب کے قریب واقع یہ شہر جہاں فطرت کے عجیب و غریب مظاہر دیکھنے کو ملتے ہیں وہیں اس کا یہ انوکھا اور غیر معمولی قانون اسے دنیا بھر کے دیگر تمام خطوں سے ممتاز اور الگ تھلگ بناتا ہے۔ اس قانون کے پس پردہ کوئی حماقت یا وہم پرستی شامل نہیں ہے بلکہ اس کی بنیاد میں سخت ترین جیو فزیکل حالات سائنسی حقائق اور انسانی صحت کی بنیادی حفاظت کا ایک گہرا اور منطقی راز چھپا ہوا ہے۔
لونگئیربین میں درجہ حرارت سال کے بیشتر حصے میں نقطہ انجماد سے بہت نیچے رہتا ہے اور شدید ترین سردی کے باعث یہاں کی زمین مسلسل برف جمنے سے لوہے کی طرح سخت ہو چکی ہے جسے سائنسی زبان میں پرمافروسٹ کہا جاتا ہے۔ پچھلی صدی کے وسط میں جب 1950ء کے دہاکے میں مقامی انتظامیہ نے اس بات کا مشاہدہ کیا کہ اس علاقے کے مقامی قبرستان میں دفن کی جانے والی انسانی لاشیں دہائیاں گزرنے کے باوجود بھی گلتی سڑتی نہیں ہیں بلکہ شدید برفانی درجہ حرارت کی وجہ سے ویسے ہی محفوظ رہتی ہیں تو وہاں کے حکام کو شدید تشویش لاحق ہوئی۔
سائنسی تحقیقات سے یہ حیرت انگیز اور خوفناک انکشاف سامنے آیا کہ 1918ء میں دنیا بھر میں پھیلنے والے مہلک فلو اسپینش فلو سے ہلاک ہونے والے افراد کے جسد خاکی جب اس برفانی زمین سے نکالے گئے تو ان کے اندر وہ مہلک وائرس اور جراثیم اب بھی اسی طرح زندہ اور فعال حالت میں موجود تھے جیسے کل کی بات ہو۔ اس خوفناک سائنسی دریافت کے بعد مقامی انتظامیہ نے فوری طور پر یہ حقیقت تسلیم کر لی کہ اگر یہاں پر مردوں کو دفن کرنے کا سلسلہ جاری رکھا گیا تو مستقبل میں کسی بھی وقت درجہ حرارت میں معمولی تبدیلی یا زمینی کٹاؤ کے نتیجے میں کئی دہائیاں پرانے مہلک وائرس اور خوفناک بیماریاں دوبارہ زندہ ہو کر نہ صرف اس چھوٹے سے قصبے بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک عظیم حیاتیاتی خطرہ بن سکتی ہیں۔
اس متوقع تباہی اور حیاتیاتی سانحے سے بچنے کے لیے 1950ء میں مقامی حکومت نے ایک انتہائی انوکھا اور سخت قانون وضع کیا جس کے تحت اس شہر کی حدود میں کسی بھی فرد کو مرنے کی اجازت ختم کر دی گئی اور تمام تر تدفین کے عمل پر مکمل قانونی پابندی عائد کر دی گئی۔ اس انوکھے قانون کے لاگو ہونے کے بعد سے اگر کوئی مقامی شہری شدید بیمار ہو جائے یا اس کی عمر اس حد تک پہنچ جائے کہ اس کا آخری وقت قریب محسوس ہونے لگے تو اسے فوری طور پر فضائی یا سمندری راستے سے ناروے کے جنوبی اور نسبتاً معتدل میدانی علاقوں میں منتقل کر دیا جاتا ہے تاکہ اس کے آخری ایام وہاں پر سکون سے گزر سکیں اور اس کی موت کے بعد اس کی تدفین معمول کی زمین میں ممکن بنائی جا سکے۔ اگر کسی ناگہانی حادثے یا ناگہانی آفت کے نتیجے میں کوئی شخص اچانک لونگئیربین کی حدود میں فوت ہو بھی جائے تو اس کی میت کو بھی یہاں دفن کرنے کے بجائے فوری طور پر ایمرجنسی پرواز کے ذریعے ملک کے دیگر علاقوں میں بھیج دیا جاتا ہے یا پھر انتہائی مخصوص اور سخت قانونی اجازت کے بعد اس کی میت کو جلانے کے بعد اس کی راکھ کو ایک مخصوص برتن میں محفوظ کرکے دفن کیا جاتا ہے۔
لونگئیربین صرف اسی قانون کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے منفرد جغرافیائی ماحول کی وجہ سے بھی ایک طلسماتی دنیا کا منظر پیش کرتا ہے جہاں سال کے کئی مہینے سورج غروب نہیں ہوتا اور مسلسل دن رہتا ہے جبکہ کئی مہینے مکمل تاریکی کا راج رہتا ہے جسے قطبی راتیں کہا جاتا ہے۔ قانون کی یہ سائنسی حکمت عملی حقیقت میں انسان کی فطرت کے آگے بے بسی کا اعتراف نہیں بلکہ انوکھی عقل مندی کا ایسا شاہکار ہے جو یہ ثابت کرتا ہے کہ بقائے باہم کے لیے بعض اوقات انسان کو قدرتی حالات کے سامنے تسلیمِ خم ہوتے ہوئے غیر معمولی فیصلے کرنا پڑتے ہیں۔
یہ شہر ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ زندگی کی حفاظت اور آئندہ نسلوں کو بھیانک بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لیے وضع کیے گئے قوانین بظاہر کتنے ہی عجیب اور حیران کن کیوں نہ ہوں لیکن ان کے پیچھے چھپی حکمت اور انسانیت کی بھلائی کا جذبہ ہی اصل میں معاشرے کی حقیقی ترقی اور شعور کا ضامن ہوتا ہے۔