گرچہ دنیا میں بہت درد سری رہتی ہے
پر مری روح کے گوشے میں پری رہتی ہے
یہ مرا ملک، مری دھرتی، مری ماں ہے اگر
گود انگاروں سے کیوں اس کی بھری رہتی ہے
مجھ سے قربانی پہ اصرار ہے جن لوگوں کو
ان کی کھیتی تو ہر اک رت میں ہری ریتی ہے
ہے سلام اس کو یہ سب جان کے بھی دکھ کے عوض
جس کی جاں اس کی ہتھیلی پہ دھری رہتی ہے
لڑتی رہتی ہے ہمہ وقت مظالم کے خلاف
اس جزیرے پہ کوئی قوم جری رہتی ہے