1. ہوم
  2. غزل
  3. فرحت عباس شاہ
  4. گرچہ دنیا میں بہت درد سری رہتی ہے
Farhat Abbas Shah

گرچہ دنیا میں بہت درد سری رہتی ہے

گرچہ دنیا میں بہت درد سری رہتی ہے
پر مری روح کے گوشے میں پری رہتی ہے

یہ مرا ملک، مری دھرتی، مری ماں ہے اگر
گود انگاروں سے کیوں اس کی بھری رہتی ہے

مجھ سے قربانی پہ اصرار ہے جن لوگوں کو
ان کی کھیتی تو ہر اک رت میں ہری ریتی ہے

ہے سلام اس کو یہ سب جان کے بھی دکھ کے عوض
جس کی جاں اس کی ہتھیلی پہ دھری رہتی ہے

لڑتی رہتی ہے ہمہ وقت مظالم کے خلاف
اس جزیرے پہ کوئی قوم جری رہتی ہے