1. ہوم
  2. غزل
  3. فرحت عباس شاہ
  4. اسی سے جان گیا میں کہ بخت ڈھلنے لگے
Farhat Abbas Shah

اسی سے جان گیا میں کہ بخت ڈھلنے لگے

اسی سے جان گیا میں کہ بخت ڈھلنے لگے
میں تھک کے چھاؤں میں بیٹھا تو پیڑ چلنے لگے

میں دے رہا تھا سہارے تو اک ہجوم میں تھا
جو گر پڑا تو سبھی راستہ بدلنے لگے

نہ مارتے ہیں مُجھے اور نہ جینے دیتے ہیں
یہ کیسے سانپ میری آستیں میں پلنے لگے

وہ یُوں شریک ہوئے میری پیاس کے دُکھ میں
لب فرات کھڑے اپنے ہاتھ ملنے لگے

کسی کے ہاتھ میں جاں کسی کے ہاتھ میں دل
بھلا یہاں پہ کوئی کس طرح سنبھلنے لگے

بُھگت لیا وہی خمیازہ تنگ نظری کا
بدن بچانے لگے تھے کہ شہر جلنے لگے