1. ہوم
  2. غزل
  3. فرحت عباس شاہ
  4. بھوک انسان کا کردار بدل دیتی ہے
Farhat Abbas Shah

بھوک انسان کا کردار بدل دیتی ہے

بھوک انسان کا کردار بدل دیتی ہے
سر وہی رہتا ہے دیوار بدل دیتی ہے

وہ بھی سرکار ہی ہے جو کسی وقفے کے بغیر
جب ضرورت پڑے سرکار بدل دیتی ہے

روح کا رشتہ بھی ہوتا ہے، ہوا ہے ثابت
وہ مرا سوچ کے، رفتار بدل دیتی ہے

شامِ گریہ مرے اوہام تلک روزانہ
جاتے جاتے ہوئے دوچار بدل دیتی ہے

دکھ میں بھی لوگ بدل جاتے ہیں موسم کی طرح
اور غریبی بھی کئی یار بدل دیتی ہے

آشیانے کو بسانے کا اگر سوچتا ہوں
بدنصیبی در و دیوار بدل دیتی ہے

موت بڑھتی ہے مری سمت مقدر بن کر
زندگی جب مرے آثار بدل دیتی ہے

یہ فقط دل ہی نہیں ہے کہ میں الزام دھروں
زندگی بھی تو سروکار بدل دیتی ہے

ہاں مگر اس کے لیے شرط ہے شاعر ہونا
شاعری صیغہء اظہار بدل دیتی ہے