کئی صدیوں تک انسان یہ سمجھتا رہا کہ بالغ ہونے کے بعد دماغ ایک بنی بنائی عمارت ہے، جو جیسی بن گئی ویسی ہی رہے گی اور اس میں جو ٹوٹ پھوٹ ہو جائے اس کی مرمت ممکن نہیں۔ پچھلی دو دہائیوں میں اعصابی علوم (Neuroscience) نے اس خیال کو بنیاد سے ہلا دیا ہے اور اس کی جگہ جو تصور آیا ہے اسے نیوروپلاسٹی (Neuroplasticity) کہتے ہیں، یعنی دماغ اپنے تجربات، اپنی توجہ اور اپنی تکرار کے مطابق اپنے رابطے بدلتا رہتا ہے، پرانے رابطے کمزور ہوتے ہیں اور نئے بنتے ہیں اور یہ عمل عمر کے آخری حصے تک جاری رہتا ہے۔ ایک معروف تحقیق کے مطابق بالغ انسان کے ہپوکیمپس (Hippocampus) میں بھی، جو یادداشت اور جذباتی توازن سے گہرا تعلق رکھتا ہے، نئے خلیے بنتے رہتے ہیں، اگرچہ ان کی درست تعداد پر سائنس دان آج بھی بحث کر رہے ہیں۔ بات سیدھی ہے کہ ہم اس دماغ کے قیدی نہیں جو ہمیں ملا تھا، ہم اسے بنا بھی رہے ہیں۔
لیکن یہاں پہنچ کر ایک سوال پیدا ہوتا ہے جس پر مجھے لگتا ہے کہ بہت کم بات ہوتی ہے اور وہ یہ کہ دماغ کو بدلنے والی یہ صلاحیت خود کس سمت میں بدلتی ہے اور سمت کا فیصلہ کون کرتا ہے۔ نیوروپلاسٹی اپنی ذات میں نہ اچھی ہے نہ بری، وہ تو بس اسے مضبوط کر دیتی ہے جو بار بار دہرایا جائے۔ جو شخص مہینوں خوف کے ساتھ جاگتا اور خوف کے ساتھ سوتا ہے، اس کا دماغ بھی اتنی ہی تیزی سے سیکھتا ہے جتنا کسی پرسکون آدمی کا، فرق یہ ہے کہ وہ خوف کے راستے پکے کر رہا ہوتا ہے۔ اس لیے ڈپریشن ہو، اضطراب ہو یا نشے کی عادت، میں انہیں نیوروپلاسٹی کی ناکامی نہیں سمجھتا، یہ اسی کی کامیابی ہیں، مگر ایسی سمت میں جو انسان کو نقصان دیتی ہے۔ میرا موقف ہے یہ کہ اس سمت کا تعین ادراک کرتا ہے۔ اگرچہ اس کا بھی اگلا مرحلہ یہ ہے کہ کیا ہر ادراک درست دراک ہوتا ہے؟ یقینا" نہیں۔ چونکہ اس موضوع پر میں اپنی کتاب " فلاسفی آف پرسیپشن " میں تفصیل سے بات کرچکا پوں اس لیے یہاں بات ادراک اور نیوروپلاسٹی پر ہی مرکوز رہے گی۔
اس بات کو سمجھنے کے لیے نیوروسیپشن (Neuroception) کا تصور بہت کام آتا ہے، جو اسٹیفن پورجیس نے پیش کیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ "ہمارا اعصابی نظام شعوری سوچ سے پہلے، بلکہ ہماری آگاہی کے بغیر، ماحول، چہروں، آوازوں اور اپنے جسم کے اندرونی احساسات کو مسلسل جانچتا رہتا ہے اور فیصلہ کرتا ہے کہ یہاں خطرہ ہے یا تحفظ۔ ہم اکثر جان بھی نہیں پاتے کہ ہمارا جسم یہ فیصلہ کر چکا ہے، بس دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے، سانس اتھلی ہو جاتی ہے، یا اس کے برعکس کندھے ڈھیلے پڑ جاتے ہیں اور آدمی کو بلاوجہ اطمینان محسوس ہونے لگتا ہے"۔
میری نظر میں نیوروسیپشن ادراک کی حیاتیاتی تہہ ہے، وہ زمین جس پر باقی ادراکی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔
اسٹیفن پورجیس نیوروسیپشن کو خودکار اعصابی نظام کا ایک عمل سمجھتے ہیں، یعنی خطرے، تحفظ اور جان کے خطرے کی ایک تیز اور بے ساختہ شناخت، جو بنیادی طور پر ویگس عصب کے راستوں سے گزرتی ہے اور وہ اسے ادراک سے الگ رکھتے ہیں کیونکہ یہ آگاہی کے بغیر ہوتی ہے۔ میں اس کام کی قدر کرتا ہوں اور اسی سے آغاز کرتا ہوں، مگر تین مقامات پر میں ان سے اختلاف رکھتا ہوں۔ پہلا یہ کہ میں نیوروسیپشن کو ادراک سے باہر نہیں رکھتا، میرے نزدیک وہ خود ادراک کی سب سے نچلی تہہ ہے، ایک ہی مسلسل عمل کی حیاتیاتی بنیاد، جو جسم کی خاموش قراءت سے شروع ہو کر ان کہانیوں تک پہنچتا ہے جو ہم اس کے بارے میں سناتے ہیں۔ دوسرا یہ کہ میری نظر میں یہ قراءت کوئی مستقل الارم نہیں، سیکھا ہوا الارم ہے۔ تعبیری فلٹر، جو عمر بھر کے تجربات اور کہانیوں سے بنتا ہے، نیوروسیپشن کی تربیت کرتا ہے، اسی لیے ایک ہی کمرے میں بیٹھے دو آدمیوں کے جسم اسے بالکل الٹ پڑھ سکتے ہیں۔ ادراک نے اعصابی نظام کو جو سکھایا ہے، ادراک اسے دوبارہ سکھا بھی سکتا ہے اور یہی وہ قدم ہے جو نیوروسیپشن کو نیوروپلاسٹی سے جوڑتا ہے اور اسے علاج میں کام کرنے کے قابل ہدف بنا دیتا ہے۔
تیسرا یہ کہ میں اس کا دائرہ وسیع کرتا ہوں۔ ویگس کے راستوں سے آگے میں ہارمونز اور نیوروٹرانسمیٹرز کو شامل کرتا ہوں، یعنی ڈوپامین (Dopamine)، کورٹیسول (Cortisol)، ایڈرینالین (Adrenaline)، سیروٹونن (Serotonin) اور آکسیٹوسن (Oxytocin)، جو وہ کیمیا ہے جس کے ذریعے جسم کی قراءت احساس بنتی ہے اور خطرے اور تحفظ سے آگے میں یقین اور شک کو بھی شامل کرتا ہوں، کیونکہ جسم یہ بھی طے کرتا ہے کہ کیا سچ محسوس ہوتا ہے۔ یقین کی حیاتیاتی بنیاد سے میری مراد یہی ہے۔ یوں آمد و رفت دونوں طرف چلتی ہے، جسم کی قراءت نیچے سے ادراک کو ڈھالتی ہے اور ادراک، جب دہرایا اور مشق کیا جائے، اوپر سے جسم کی قراءت کو نئے سرے سے ڈھالتا ہے۔ نیوروسیپشن کے تصور میں میں اسی دو طرفہ حرکت کو اضافہ سمجھتا ہوں اور اسی سے ذہنی صحت کی حفاظت، برقراری اور بحالی ادراک کے ذریعے ممکن ہوتی ہے۔
پرسیپشن سینٹرڈ سائیکوتھراپی (PCP) میں مَیں انسانی تجربے کو پانچ تہوں کی ایک زنجیر کے طور پر دیکھتا ہوں، حسی معلومات (Sensory Input)، تعبیری چھلنی (Interpretive Filter)، بیانیہ ساز (Narrative Builder)، جذباتی معمار (Emotional Generator) اور رویّاتی نتیجہ (Behavioral Output)۔
نیوروسیپشن اس زنجیر کی پہلی دو کڑیوں کے نیچے کام کرتی ہے۔ جس اعصابی نظام نے خطرے کی عادت ڈال لی ہو وہ غیر جانبدار منظر کو بھی خطرے کے رنگ میں دیکھتا ہے، تعبیری چھلنی اسی رنگ کو آگے بڑھاتی ہے، بیانیہ ساز اس پر کہانی لکھتا ہے کہ مجھے کوئی پسند نہیں کرتا یا کچھ برا ہونے والا ہے، جذباتی معمار اسی کہانی کو ہارمونز کی صورت جسم میں اتار دیتا ہے اور پھر رویّہ سامنے آتا ہے، کنارہ کشی، چڑچڑاپن یا فرار۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ رویّہ ایک نیا تجربہ بن کر دوبارہ پہلی کڑی میں داخل ہو جاتا ہے اور چھلنی کے فیصلے کو درست ثابت کر دیتا ہے۔ ہر چکرکے ساتھ نیوروپلاسٹی اس راستے کو تھوڑا اور پکا کر دیتی ہے۔ میرے نزدیک ذہنی بیماری کا میکانزم یہی ہے کہ ایک ادراکی نمونہ اتنی بار دہرایا گیا کہ وہ دماغ اور جسم میں لکھا گیا۔
مگر اسی بات میں امید بھی ہے، کیونکہ جو راستہ تکرار سے بنا تھا وہ تکرار سے بدلا بھی جا سکتا ہے۔ دماغ کے لیے یہ ضروری نہیں کہ پرانا نمونہ مٹ جائے، اتنا کافی ہے کہ نیا نمونہ اتنی بار دہرایا جائے کہ وہی زیادہ چلنے والی سڑک بن جائے۔ یہیں پی سی پی کے چھ مراحل نیوروپلاسٹی کے عمل سے جڑتے ہیں۔
پہلا مرحلہ ادراکی آگاہی ہے۔ جب انسان پہلی بار اپنی ہی سوچ اور اپنے ہی احساس کو ذرا فاصلے سے دیکھتا ہے تو توجہ کا یہ عمل دماغ کے اس حصے کو متحرک کرتا ہے جو خود نگری اور ضبط سے تعلق رکھتا ہے اور بدلاؤ کی ابتدا یہیں سے ہوتی ہے۔ دوسرا مرحلہ نقشہ سازی ہے، جس میں مریض اپنی زنجیر کو کاغذ پر کھینچتا ہے کہ کس منظر پر کس فلٹر نے کیا فیصلہ کیا، کیا کہانی بنی، کیا جذبہ پیدا ہوا اور کیا رویّہ نکلا اور جو چیز خودکار تھی وہ شعور کی گرفت میں آ جاتی ہے۔ تیسرا مرحلہ تحلیل ہے، جہاں پرانے نمونے کو غذا دینا یا رسپانڈ کرنا بند کیا جاتا ہے اور دماغ کا اصول یہ ہے کہ جو رابطہ استعمال نہ ہو وہ آہستہ آہستہ کمزور پڑ جاتا ہے۔ چوتھا مرحلہ تعمیرِ نو ہے، جس میں مریض شواہد کی بنیاد پر نئی تعبیر اور نیا بیانیہ تراشتا ہے۔ پانچواں مرحلہ لچک کی تربیت ہے اور مجھے یہ مرحلہ نیوروپلاسٹی کے سب سے قریب لگتا ہے، کیونکہ اس میں انسان ایک ہی واقعے کی کئی تعبیریں کرنا سیکھتا ہے اور یہی مشق شناختی لچک کو پروان چڑھاتی ہے جو ذہنی صحت کی سب سے مضبوط حفاظت ہے۔ چھٹا مرحلہ انضمام ہے، جہاں نیا ادراک اتنی بار دہرایا جا چکا ہوتا ہے کہ وہ خودکار ہو جاتا ہے اور یہی وہ لمحہ ہے جب اعصابی نظام کا اپنا فیصلہ بھی بدلنے لگتا ہے، یعنی نیوروسیپشن خطرے کی جگہ تحفظ پڑھنا شروع کر دیتی ہے۔
چونکہ نیوروسیپشن جسم میں رہتی ہے اس لیے ادراکی کام صرف گفتگو اور سوچ کا کام نہیں ہو سکتا۔ نیند، حرکت، سانس کی رفتار، دھوپ، غذا اور خون کی روانی وہ حالات ہیں جن میں دماغ سیکھتا ہے اور جو جسم بےخوابی اور تھکن کے ہاتھوں مسلسل ہنگامی حالت میں ہو اس کے لیے تعبیر بدلنا ایسا ہی ہے جیسے شور میں بیٹھ کر کوئی نازک بات سمجھنے کی کوشش کرنا۔ ورزش اور خون کی بہتر گردش دماغ کی صحت میں مدد دیتی ہیں، یہ بات اب تحقیق سے خاصی مضبوطی کے ساتھ سامنے آ چکی ہے۔ پھر انسانی رشتے ہیں، کیونکہ ایک اعصابی نظام اپنے تحفظ کا سبق دوسرے اعصابی نظام سے سیکھتا ہے۔ معالج کا پرسکون لہجہ، ماں کی گود، دوست کی موجودگی، یہ سب نیوروسیپشن کو بتاتے ہیں کہ یہاں خطرہ نہیں ہے اور اسی لیے میں علاج میں رشتے کی حفاظت کو علاج ہی کا حصہ سمجھتا ہوں۔
ذہنی صحت کی حفاظت، برقراری اور بحالی تینوں کو اسی نقشے پر رکھ کر دیکھا جا سکتا ہے۔ حفاظت کا مطلب ہے کہ دماغ میں داخل ہونے والے ادراک پر نظر رکھی جائے، کیونکہ جو آدمی دن میں کئی گھنٹے خوف، موازنے اور بے یقینی کی خبریں دیکھتا ہے وہ اپنے اعصابی نظام کو روز خطرے کا سبق دے رہا ہے اور بچوں کو چھوٹی عمر سے یہ سکھانا کہ وہ اپنی تعبیر کو پہچانیں، ان کے دماغ میں صحت مند راستے بچپن ہی میں بنا دیتا ہے۔ برقراری کا مطلب ہے روزمرہ کی چھوٹی عادتیں، رات کو سونے سے پہلے دن کے کسی ایک ناخوشگوار لمحے کی زنجیر پر نظر ڈالنا، کوئی نئی چیز سیکھتے رہنا کیونکہ نیا سیکھنا خود دماغ کو لچکدار رکھتا ہے اور اپنے قریبی رشتوں کو وقت دینا اور بحالی کا مطلب ہے کہ جب بیماری جڑ پکڑ چکی ہو تو صبر کے ساتھ انہی چھ مراحل سے گزرا جائے، یہ جانتے ہوئے کہ نیا راستہ ہفتوں اور مہینوں کی تکرار سے بنتا ہے اور اگر کسی دن پرانا نمونہ لوٹ آئے تو یہ شکست نہیں، اس بات کی علامت ہے کہ پرانی سڑک ابھی موجود ہے اور نئی سڑک کو ابھی چوڑا ہونا ہے۔
میں یہ بھی واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ نیوروپلاسٹی کوئی جادو نہیں اور ادراک کوئی واحد ایسی چابی نہیں جو ہر قفل کھول دے۔ شدید ذہنی امراض میں ماہرِ نفسیات، سائیکوتھراپسٹ کی نگرانی اور گہری کلینیکل مدد ضروری ہے اور جو شخص دوا لے رہا ہو وہ اپنے معالج کے مشورے کے بغیر اسے نہ چھوڑے۔
آخر میں بات وہیں آتی ہے جہاں سے چلی تھی۔ دماغ وہ زمین ہے جس پر ہماری ادراکی عادتیں راستے بناتی ہیں اور جس راستے پر روز چلا جائے وہی سڑک بن جاتا ہے۔ انسان کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ دیکھے کہ وہ کس راستے پر روز چل رہا ہے اور اگر وہ راستہ اسے اذیت کی طرف لے جا رہا ہو تو ادراک کی مدد سے ایک نیا راستہ شروع کرے۔ ذہنی صحت اسی اختیار کا دوسرا نام ہے۔