1. ہوم
  2. افسانہ
  3. محمد شہزاد
  4. پراسرار عورت (2)
Mohammad Shehzad

پراسرار عورت (2)

شہباز اور غزالہ کو ملے تین ہفتے بیت چکے تھے۔ غزالہ نے اس دوران اس سے کوئی رابطہ نہ کیا۔ طے یہ پایا تھا اگر شہباز نے خود رابطہ کیا تو یہ رشتہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ٹوٹ جائے گا۔ وہ خود رابطہ کرے گی۔۔ جب دل کرے گا! لیکن وہ ایک نشہ تھی جس سے جان چھڑانا اب ناممکن تھا۔ اس کی آنکھوں میں ہر لمحے اسی رات کا نظارہ گھومتا جسے غزالہ امر کر چکی تھی۔ کاش اس رات کے بعد سورج دوبارہ طلوع نہ ہوتا۔ وقت تھم جاتا! ایک پچھتاوا بھی تھا۔۔ کاش وہ گنجا افضال کمرے میں نہ ہوتا۔ اس کے ہونے سے اس رات کا مزہ کرکرا ہوگیا۔ کاش مرنے سے پہلے ایک بار پھر غزالہ کی آغوش میسر ہو جائے۔ صرف ایک بار! لیکن کوئی تیسرا نہ ہو۔ ایسا معجزہ دوبارہ کب ہوگا؟ وہ ان سوچوں میں غرق تھا کہ فون بجنا شروع ہوگیا۔

"میں بول رہی ہوں!"

"بہت لمبی عمر ہے۔۔ تمہارے بارے میں ہی سوچ رہا تھا"۔

"جو مجھ سے ایک بار مل لے وہ میرے علاوہ کچھ اور سوچنے کے قابل رہتا ہی نہیں۔ ابھی اسی وقت آ سکتے ہو؟"

"کیوں نہیں!"

"کتنی دیر میں؟"

"پندرہ منٹ!"

"دیر نہ کرنا!

وقت مقررہ سے پہلے ہی شہباز غزالہ کے گھر پر تھا۔ آج اس نے کالے رنگ کی فل سلیو شرٹ پہن رکھی تھی۔ لینن کی سلیٹی پینٹ اس کے ساتھ خوب میل کھا رہی تھی۔ ہاتھ میں ایک سونے کا کڑا تھا جس میں رنگ برنگے نگینے جڑے ہوئے تھے۔ لال رنگ کی سرخی لبوں پر اور گلابی نیل پاش ہاتھوں اور پیروں کے ناخنوں پر۔ گلے میں لیمن کلر کا دوپٹہ۔۔ شہباز کو یہ غزالہ پہلی والی سے کئی درجے زیادہ حسین نظر آئی۔ لباس میں ڈھکی چھپی خوبصورتی برہنگی سے ہزار درجے زیادہ حسین تھی اور تباہ کن حسن اس کی سادگی میں تھا۔

"حیران ہو رہے ہو کہ میں کپڑے بھی پہنتی ہوں!"

"ہر گز نہیں۔ تم کپڑوں میں کہیں زیادہ حسین لگ رہی ہو"۔

"میں ہر روپ میں ایک نیا حسن اور ادا لے کر وجود میں آتی ہوں"۔

"کیا تم فلسفی ہو؟" شہباز نے پوچھا۔

"ماسٹرز ان انٹرنیشنل ریلیشنز!" غزالہ نے کہا۔

"اس دن تم بالکل برہنہ تھیں اور آج۔۔ " شہباز بولا۔

"تم چاہتے ہو سب کپڑے اتار دو؟" اتار دیتی ہوں!" یہ کہہ کر اسکے ہاتھ اپنی شرٹ کے بٹن کے طرف گئے۔

"مت اتارو۔ اس طرح زیادہ اچھی لگ رہی ہو"۔

"تم نے اس دن مجھے برہنہ دیکھا اور آج کپڑوں میں دیکھ رہے ہو۔ میں تمہیں اسوقت سے لیکر اب تک ننگا ہی دیکھ رہی ہوں اور اس دن جب تم نے سب کپڑے اتارے تو میں نے تمہیں بھوکا بھی دیکھا۔ پھر تم مجھے افلاس زدہ لگے حالانکہ تم پیتے سکاچ ہو۔ میں تو اس دن بھی برہنہ تھی۔ آج بھی ہوں۔ یا پھر یوں سمجھو کہ میں اس دن بھی باپردہ تھی اور آج بھی مکمل پردے میں ہوں۔ اندر اندر تمہارے دل میں یہ آرزو مچل رہی ہوگی کہ غزالہ ٹرانسپیرینٹ بلیک نائٹی میں کیوں نہیں ہے؟ آج مجھے اس کی بریسٹ، نپلز، ہیری پزی اور ہیری آرم پٹ کیوں نہیں نظر آ رہے؟ آج یہ صوفے پر کیوں نہیں جھکی مجھے بلو جاب دینے کے لئے؟ یہ ہی سوچ ہے نا تم سب مردوں کی؟"

شہباز حیران رہ گیا۔ اسکے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ یہ عورت میڈم نور جہاں کی طرح اس قسم کی کھلی ڈھلی گفتگو کر سکتی ہے۔ میڈم سے اسکی بہت دوستی تھی۔ حالانکہ میڈم عمر میں اسکی والدہ سے قریب پندرہ برس بڑی تھیں۔ پھر بھی وہ اس سے اکثر بڑی کھلی ڈھلی گفتگو کیا کرتیں۔ ایسی ایسی گالیاں دیتیں کہ شہباز کے کانوں سے دھواں نکلنا شروع ہو جاتا۔

کچھ ایسی ہی گالیاں میڈم نے ایک سیاستدان کو بھی دیں۔ اسوقت وہ کچھ بھی نہ تھا۔ جب وزیر اعظم بنا اور تو کچھ بگاڑ نہ سکتا تھا، میڈم کے پیچھے انکم ٹیکس والوں کو لگا دیا اور انکا فون ٹیپ کروانا شروع کر دیا۔ جب وہ رپورٹ مانگتا تو خفیہ والے کہتے کہ سر باقی تو سب ٹھیک ہے پر میڈم بہت گندی گندی گالیاں دیتی ہیں۔ لیکن غزالہ کی زبان میڈم کی زبان کے سامنے انتہائی مہذب لگ رہی تھی۔

"شاید تم مجھے بہتر طور پر جان سکو کچھ عرصے بعد۔۔ " شہباز نے کہا۔

"مزید جاننے کی ضرورت نہیں۔ تم بہت کمزور انسان ہو"۔ غزالہ بولی۔

" کمزور تمہارا شوہر ہے۔۔ "

"نہیں۔۔ میں اس کمزوری کا ذکر نہیں کر رہی۔ اس دن تم مجھے حاصل کئے بنا رہ نہ سکے۔ میں تمہاری کمزوری بن گئی۔ تم نے ہمیں یہ کہا تھا کہ تم کسی اور کے سامنے یہ کام نہیں کر سکتے۔ تم نامرد محسوس کرتے ہو۔ میں نے تمہاری یہ بات بھی غلط ثابت کر دی۔ تم نے ہم دونوں کے آگے ہتھیار ڈال دیے"۔

وہ واقعی غزالہ کے آگے ہتھیار ڈال چکا تھا۔ اس دن وہ اس کے برہنہ جسم کے آگے خم ہوا اور آج اسکی دانش کے آگے۔ اسے اپنا قد اس عورت کے مقابلے میں بہت چھوٹا محسوس ہو رہا تھا۔

"تمہارا شوہر کہاں ہے؟

"کون شوہر؟"

"افضال اور کون؟" شہباز نے حیرانی سے پوچھا۔

"تمہیں کس نے کہا وہ میرا شوہر ہے؟"

"تم ہی نے تو کہا تھا۔ تم پاگل تو نہیں؟" شہباز بولا۔

"پاگل تم ہو جو دماغ لڑائے بغیر میری ہر بات کا یقین کر لیتے ہو۔ افضال میرا بھائی ہے۔ اکلوتا اور سگا!" غزالہ نے کہا۔ اس کا یہ انکشاف شہباز کے لئے ناقابل یقین تھا۔

"تمہارے دو بیٹے۔۔ وہ کس سے ہیں؟"

"افضال سے ہی ہیں!"

"یہ کیسے ممکن ہے؟ بہن بھائی اکیلے رہ رہے ہیں اور دو بچے بھی ہو گئے اور لوگوں کے علم میں بھی نہیں!" شہباز بولا۔

"لوگوں کے علم میں تو بہت کچھ نہیں اور جو ہے وہ سب غلط ہے۔ یہ میرے شوہر کا ہی گھر ہے۔ وہ زیادہ تر ملک سے باہر رہتا ہے۔ افضال گاہے بگاہے آتا رہتا ہے بہن کی خبر گیری کے لئے۔ آخر بھائیوں کے بھی کچھ فرائض ہوتے ہیں!"

"پہیلیاں نہ بجھواؤ۔ تم بات کو سیدھے انداز میں کیوں نہیں کرتیں؟" شہباز نے کہا۔

"ہمارے یہاں کے دانشور سیدھی بات کرنے والے کو احمق، جاہل، ان پڑھ اور پینڈو سمجھتے ہیں۔ جب تک دیدے گھما کر، منہ کو لقوے کے انداز میں ٹیڑھا میڑھا کرکے بات نہ کی جائے، بات کرنے والے کو گنوار سمجھا جاتا ہے۔ افضال کا اور میرا رشتہ بچپن سے ہے"۔

"تمہیں کیسے یقین کہ دونوں بیٹے افضال کے ہیں۔ تم نے تو کہا تھا وہ نامرد ہے"۔ شہباز نے پوچھا۔

"وہ جھوٹ تھا۔ اس عمر میں بھی تم سے زیادہ مضبوط ہے"۔ غزالہ بولی۔

"کیا تمہارا شوہر نامرد ہے؟"

"میں نے یہ کب کہا؟ بھئی دونوں بیٹے افضال پر ہی گئے ہیں۔ ہو بہو اس کی نقل ہیں۔ میرا شوہر بھی تم سے زیادہ زور آور ہے"۔

"تو پھر مجھے کس لئے بلاتی ہو؟"

"تا کہ تم پاگل خانے جانے سے بچ جاؤ!"

"میں سمجھا نہیں؟"

"اگر تمہیں نہ بلاؤں تو تم ہوش و حواس کھو بیٹھو۔ تمہارے گھر والے تمہیں کسی اسائلم میں داخل کرا دینگے"۔

"تمہارے شوہر کو پتہ ہے سب کچھ؟"

"ہر گز نہیں۔ لیکن اسکی ماں اسے یہ دم دیتی رہتی ہے کہ تیرے دونوں بیٹے تجھ پر نہیں اپنے ماموں پر ہیں۔ لیکن میرے شوہر کا ماننا ہے کہ جنیاتی طور پر بچے ماں کے طرف سے بھی مکمل اثر لے سکتے ہیں"۔

"وہ اس وقت کہاں ہے؟"

"دبئی یا یورپ میں۔۔ مجھ سے زیادہ بات نہیں کرتا"۔

"مجھ سے کتنا زیادہ طاقتور ہے؟ ہم تینوں میں سب سے زیادہ قوت کس کے پاس ہے؟" شبہاز نے بے صبری سے پوچھا۔

"احمقانہ سوال۔ عورت چاہے تو نامرد کو اپنا دل دے بیٹھے اور اگر دل کو نہ بھائے تو کسی راجہ اندر تک کو گھاس نہ ڈالے۔ دل آئے گدھی پر تو پری کیا چیز ہے!"

"کتنے مردوں سے تعلقات ہیں تمہارے؟

"کیوں، مردم شماری کرنی ہے؟ میں نیکیوں اور مردوں کا حساب نہیں رکھتی!"

"ارے واہ۔ تم نے تو مجھے میڈم نور جہاں کی یاد دلا دی"۔

"وہ کیسے؟"

"ایک دفعہ میں نے ان سے پوچھا کہ میڈم آپ نے اب تک کتنے گانے گائے تو انہوں نے کہا کہ میں گانوں اور گناہوں کا حساب نہیں رکھتی!"

"وہ ولی عورت تھی!" غزالہ نے کہا اور گہری سوچ میں ڈوب گئی۔

جاری ہے۔۔