"یار کچھ دیر پہلے مجھے اپنی ایک پرانی فی میل کلاس فیلو کا فون آیا تھا۔ بہت رو رہی تھی۔ شوہر نے مارا پیٹا تھا۔ کچھ کر سکتے ہو؟" چوہدری نے اپنے صحافی دوست شہباز سے فون پر پوچھا۔
"پریس کانفرنس تو آرام سے ہو جائے گی۔ پولیس میں رپورٹ بھی ممکن ہے"۔ شہباز نے کہا۔
"اسکا شوہر اثر و رسوخ والا بندہ ہے۔ پولیس والا معاملہ نہیں ہو سکے گا۔ پریس کانفرنس ٹھیک رہے گی۔ کیسے ہوگا؟" چوہدری نے پوچھا۔
"بھئی بہت ساری این جی اوز یہاں عورتوں کے حقوق کے لئے کام کر رہی ہیں۔ انہیں تو چاہیے کوئی ایسا موضوع شور مچانے کے لئے۔ وہ تو خوشی خوشی اس معاملے کو اچھالیں گی۔ آپکی دوست کو اپنے درمیان بٹھا کر پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس داغ دی جائے گی۔ لمحے بھر میں یہ خبر چاروں طرف پھیل جائے گی۔ اس کا شوہر سب سے منہ چھپاتا پھرے گا اور آئندہ ایسی حرکت نہیں کرے گا"۔ شہباز نے کہا۔
"زبردست۔۔ میں اسے تمہارا نمبر دے دیتا ہوں۔ غزالہ نام ہے اس کا"۔
کچھ دیر بعد فون دوبارہ بجا۔
"آئی ایم غزالہ۔۔ " ایک خوبصورت نسوانی آواز تھی۔
"آپ ہی کے بارے میں بات ہو رہی تھی چوہدری صاحب سے۔ بہت دکھ ہوا سنکر"۔
"آپ آ سکتے ہیں؟"
"اس وقت؟"
"یس۔۔ "
"اتنی رات گئے؟ آپ کے شوہر بھی گھر ہوں گے۔ نامناسب سا لگتا ہے"۔
"مجھے تو کوئی پرابلم نہیں! اور رہی بات شوہر کی تو وہ اکثر مجھے پیٹتے ہیں۔ پیٹنے کے بعد گھر سے نکل جاتے ہیں۔ پھر تین دن سے پہلے کبھی واپس نہیں آتے"۔
"پھر بھی۔۔ یہ وقت مناسب نہیں۔ صبح مل لیتے ہیں"۔
"جیسے آپ کی مرضی۔ ایڈریس میسج کر دوں گی۔ کل سہہ پہر چائے میرے ساتھ پیجیے"۔
"ڈن۔۔ " شہباز نے کہا۔
صحافت اور عملی زندگی کی بدولت شہباز گھاٹ گھاٹ کا پانی پی چکا تھا۔ اس عورت کی بات سے حیران تھا کہ ابھی آجاؤ اور شوہر گھر پر موجود نہیں ہے۔ کوئی شریف زادی ایسا کہہ سکتی تھی؟ ہو سکتا ہے دل کا حال کہنا چاہ رہی ہو پر کوئی سننے والا نہ ہو۔ وہ ان سوچوں میں کھویا ہوا تھا کہ فون تیسری بار بجا۔
"اب کون ہے کم بخت؟" یہ سوچتے اس نے کال لی۔
"آپ بہت بڑے علمبردار بنے پھرتے ہیں انسانی حقوق کے۔ میں آپ سے درخواست کر رہی ہوں کہ آ جائیں مگر آپ نخرے دکھا رہے ہیں۔ جب کوئی ضرورت پڑنے پر ہی کام نہ آیا تو کیا فائدہ؟"
"غزالہ بی بی آپ غلط سوچ رہی ہیں۔ میں آپ سے ضرور ملونگا مگر صبح۔ چند گھنٹوں ہی کی بات ہے۔ اب رات کے دو بج چکے ہیں"۔
"صبح آنے کی ضرورت نہیں۔ آنا ہے تو ابھی آئیے۔ گیٹ کھلا ہوگا!" فون کٹ گیا اور شہباز گم سم! ویسے بھی جنسی ہراسانی کی وبا پورے ملک میں پھیلی ہوئی تھی۔ سینکڑوں عورتیں خود ہی مردوں کو لبھا کر ہراسانی کا الزام لگا کر انہیں نوکریوں سے نکلوا چکی تھیں۔ دل و دماغ سے کافی دیر تک جہاد کرنے کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچا کہ اسے جانا چاہیے۔
***
شہر کے پوش علاقے میں وسیع و عریض یہ گھر پرانی طرز کا تھا۔ گیٹ واقعی کھلا ہوا تھا۔ جیسے ہی وہ اندر داخل ہوا پورچ کی سب بتیاں روشن ہوگئیں۔ وہاں دیگر گاڑیوں کے علاوہ ایک سفید رنگ کی سن انہتر کی ٹویوٹا کرونا کھڑی تھی۔۔ کمال کی کنڈیشن میں! وہ اس کا تفصیلی معائنہ کرتا اگر ٹھک سے جالی والا دروازہ نہ کھلتا۔
"اندر آ جائیے۔۔ " وہی فون والی آواز شہباز کے کانوں سے ٹکرائی۔
"آپ غزالہ ہیں؟"
"جی اور آپ شہباز ہی ہیں نا یا کوئی کار بروکر؟"
"جی شہباز ہی ہوں۔ دراصل مجھے پرانی گاڑیوں کا شوق ہے۔۔ "
ویلکم۔۔ " یہ کہہ کر غزالہ گھر کے اندر چلی گئی۔ گھر کی مختصر گیلری سیکنڈوں میں ختم ہو کر لاونج میں کھل گئی۔ پھر وہ مڑی۔ اب دونوں روبرو تھے۔ ایک دوسرے کا جائزہ لے رہے تھے۔۔ بنا کچھ بولے۔
غزالہ بہت ہی خوبصورت عورت تھی۔ شہباز سے قریب بارہ برس چھوٹی۔ بہت ہی باریک کالی نائٹی میں تھی۔ وہ خود بیالیس برس کا تھا۔ بدن کا کونسا کونا ہوگا جو اس کی نظر باآسانی ڈھونڈھ نہ سکے۔ بہت ہی سخت چھاتیاں۔۔ تنی ہوئی۔ بیلی چین اور اسکے نیچے گھنا پھیلا ہوا قدرتی بلیک فورسٹ۔ نیچرل بیوٹی۔ سلم باڈی۔ خوش نما متناسب وضع کا بدن۔ بالکل پورن سٹار اینت ہیون کی طرح۔ پورا جسم چمکتا دمکتا سوائے اس جگہ کے جس نے بیلی چین کو سہارا دیا ہوا تھا۔ قد اتنا ہی جتنا شہباز کا۔۔ پانچ فٹ آٹھ انچ۔ رنگ گورا۔ سیاہ بڑی بڑی آنکھیں جن کے نیچے چند نیل جنہیں دیکھ کر شہباز اداس ہوگیا۔ یہ سب منظر اک پل سے زیادہ کا نہ تھا اور اسی پل میں دونوں ایک دوسرے کا مطالعہ کر چکے تھے۔
"ٹیک اے سیٹ!" اسنے بازو پھیلا کر ہاتھ کی انگلی کے اشارے سے کہا۔ پل بھر میں شہباز کو ایک اور گھنا بلیک فارسٹ دکھائی دیا جو اسکی کی دائیں چھاتی کی سائیڈ سے نمودار ہوا۔ ایسی خوبصورتی اسے اپنے ملک میں بہت ہی کم دیکھنے کو ملی۔ کچھ دین کچھ کلچر۔۔ یہ عوامل قدرتی اور گھنے جنگلات پھیلنے نہ دیتے۔
"لگتا ہے عورت پہلی بار دیکھ رہے ہیں آپ۔۔ " وہ بولی۔
"آپ جیسی خوبصورت پہلی بار۔۔ " شہباز نے کہا۔ یہ بات سن کر غزالہ مسکرا دی۔
"کیا لینگے۔۔ چائے، کافی، جوس یا کچھ اور؟" غزالہ نے "کچھ اور" ایک خاص ادا سے کہا جس میں مسکراہٹ اور خفیف سا طنز تھا۔
"کچھ اور ٹھیک رہے گا۔۔ "
"مجھے بھی "کچھ اور" ہی اچھا لگتا ہے!" غزالہ یہ کہہ کر کچن میں گئی۔ اس کا بدن مست ہوا کی طرح جھوم رہا تھا۔ چند لمحوں بعد وہ نئی بوتل اور گلاس لیے واپس لوٹی۔
"برف، سوڈا یا پانی؟"
"دودھ اور "کچھ اور" ملاوٹ کے بغیر ہی اچھے لگتے ہیں۔
"آپ اب بھی دودھ پیتے ہیں؟"
"جی لیکن صرف تازہ اور ملاوٹ سے پاک!" شہباز نے کہا۔
"میرے پاس صرف تازہ اور ملاوٹ سے پاک ہی ملے گا۔ پینا پسند کرینگے؟"
"پھر کبھی ضرور پئیں گے!" اس نے کہا اور دونوں ہنس دیے۔
"یہ ونٹاج گاڑی کس کا شوق ہے؟"
"یہ میری سوکن ہے۔ میرے شوہر کا دوسرا عشق!" اس نے کھوئے ہوئے انداز میں کہا۔
"دوسرا عشق۔۔ پہلا عشق کیا ہے ان کا؟
"مجھے مارنا۔۔ "
"اکثر ایسا ہی کرتے ہیں؟"
"کیا؟" اس نے چھت کو گھورتے کہا۔
"مارپیٹ۔۔ "
"بس کبھی کبھار۔۔ "
"یہ تو اکثر ہی ہے۔ آپ پولیس میں رپورٹ کیوں نہیں کرتیں؟"
"پولیس اس کے گھر کی لونڈی ہے۔۔ "
"تو پھر آپ نے میرے دوست کو فون کیوں کیا؟"
"دکھ کی شدت کم کرنے کے لئے۔۔ " وہ سر کو صوفے کی ٹیک سے لگا کر چھت کو گھور رہی تھی۔ اب اس کے چہرے پر حزن نمایاں تھا۔ اس کی گردن تک صراحی دار تھی۔ یوں لگتا تھا بنانے والے نے اس کے بدن کی ہر شے پر فبوناچی ریشو اپلائی کر رکھی تھی۔
"پریس کانفرنس کے بارے میں کیا خیال ہے؟"
"آپکے خیال میں مجھے یہ باتیں پتہ نہ ہونگی؟ اس شہر میں عورتوں کے لئے کام کرنی والی ایک مشہور این جی او میری اپنی کزن چلاتی ہے"۔
"رانی؟"
"نہیں"۔
"ساروی سرمست؟"
"یس!" غزالہ نے کہا۔
"ایک نمبر کی حرافہ ہے۔۔ " اس کے منہ سے نہ چاہتے ہوئے بھی یہ لفظ نکل گیا۔ وہ پچھتایا یہ سوچ کر کہ اس لفظ سے غزالہ کو دکھ ہوا ہوگا۔ لیکن وہ حیران ہوا جب غزالہ نے اس کی بات کی تائید کر ڈالی۔
"وہ این جی او نہیں چکلہ چلاتی ہے۔ خود اس کے پلے کچھ ہے نہیں۔ موٹی کالی بھینس۔ اوپر سے ہندوؤں کی طرح ماتھے پر تلک تھوپ لیتی ہے! ساڑھی میں ننگی پھرتی ہے پارٹیوں میں۔ پورا جسم نظر آ رہا ہوتا ہے۔ بہت جان مارتی ہے کہ کوئی ایک نظر ڈال لے اس کے ڈب کھڑبے جسم پر۔ کوئی تھوکتا بھی نہیں اس پر۔ ہے ہی کچھ نہیں اس کے پاس۔ ہاں البتہ اسے دیکھ کر سب توبہ توبہ ضرور کرتے ہیں۔
خوبصورت لڑکیاں اچھی تنخواہ پر رکھ لیتی ہے اور ڈونرز کے علاوہ ہر طاقتور اور بااثر مرد کو سپلائی کرتی ہے۔ جب پہلی بار میرے شوہر نے مجھے مارا تو میں روتے روتے اس کے پاس گئی۔ میری کہانی سنکر اس کتیا نے کہا کہ تو کتنی احمق ہے۔ پریس کانفرنس کے لئے وقت درکار ہوتا ہے۔ ڈونر کو بلانا پڑتا ہے۔ میڈیا کو دعوت دینا پڑتی ہے۔ فائیو سٹار ہوٹل میں ہال بک کرانا پڑتا ہے۔ کم از کم ایک ہفتہ تو لگ ہی جاتا ہے۔ اس دوران تیرے یہ نیل غائب ہو جائیں گے۔
ہاں اگر تیرے شوہر نے تیرے چہرے پر تیزاب پھینکا ہوتا تو تیری کہانی نے سب کو ہلا دینا تھا۔ وزیر اعظم تک خود چل کر تیرے پاس آتا۔ تجھے پھولوں کا گلدستہ پیش کرتا۔ تجھے لندن یا امریکہ سرکاری خرچے پر بھیجتا علاج کے لئے۔ تیری پلاسٹک سرجری کرا کر تجھے تیرا حسن لوٹا دیتا۔ ان ڈھائی نیلوں کے ساتھ تو پولیس بھی تیری رپورٹ درج نہ کرے۔ میری این جی اوز تو سیریس ایشوز کو اٹھاتی ہے جو معاشرے میں سنسنی پھیلا دیں۔ ایسے ہی تو گرانٹ نہیں دے دیتا ہر سال ڈونر۔ پوری بنیاد بنانی پڑتی ہے۔ ڈرامہ کرنا پڑتا ہے۔
تو چاہے تو ایک کام ہو سکتا ہے۔ میرے پاس کمال کا میک آپ مین ہے۔ وہ تیرا ایسا میک آپ کردے گا جیسے چہرہ تیزاب سے جھلسا ہوا ہو۔ ہمارے سو میں سے ننانوے کیسز اسی میک آپ کا کمال ہوتے ہیں۔ کسی بھی لڑکی کو پکڑ لو۔ میک آپ کر دو۔ پھر ڈونر کو بٹھا کر پریس کانفرنس کر دو۔ لڑکی سامنے نہ بھی ہو تو اسکی میک آپ والی تصویریں سلائیڈ پر چلا دو۔ ان تصاویر میں وہ ایسے ہی دکھے گی جیسے تیزاب زدہ ہو اور پھر گرانٹ کی صورت میں ڈالروں کی بارش ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ فارن ٹور علیحدہ۔ یہ باتیں سنکر جانتے ہو میں نے کیا کیا؟"
"کیا کیا؟
ایک لفظ بھی منہ سے نہ نکالا۔ صرف تھوک دیا اسکے چہرے پر۔ یہ تھوک تیزاب سے کہیں زیادہ مہلک تھا۔ مگر وہ آگے سے مسکرادی۔ اس کی بےحیائی، بےغیرتی اور بےشرمی کسی بھی جھلسا دینے والے تیزاب سے کہیں زیادہ مہلک تھی"۔ غزالہ نے حقارت آمیز لہجے میں کہا۔
"آپ درست کہہ رہی ہیں۔ لیکن غلط بھی۔ ابھی تو آپ نے کہا کوئی تھوکتا بھی نہیں ساروی سرمست پر۔ آپ نے تو تھوک دیا۔۔ " شہباز نے اپنا جملہ مکمل کیا ہی تھا کہ لاونج کے عقب میں بل کھاتی سیڑھی سے ایک گنجا مرد نمودار ہوا۔
"آپ کب جاگے ڈارلنگ؟"
"کچھ دیر پہلے"۔ گنجے نے جواب دیا۔ اسکی عمر غزالہ سے بیس برس تو لازمی اوپر ہوگی۔ پتلا دبلا درمیانے قد کا تھا۔
"ان سے ملئے میرے دوست شہباز اور یہ میرے شوہر افضال۔۔ "
"بہت خوشی ہوئی آپ سے ملکر۔ تشریف رکھیے۔ مجھے بس ایک پیگ درکار تھا چھوٹا سا۔ آپ دونوں اپنی گفتگو جاری رکھیں"۔ پیگ بنا کر وہ غائب ہوگیا۔
شہباز غزالہ سے خاموشی کی زبان میں ایک سوال پوچھ رہا تھا۔ غزالہ کے چہرے پر کوئی شرمندگی نہ تھی۔
"اگر سچ بولتی تو تم اس وقت ہرگز نہ آتے۔۔ " وہ "آپ" سے "تم" پر آ چکی تھی۔
"افضال کمزور ہے۔ جس دن کمزوری اس پر حاوی ہوتی ہے وہ مردانگی کا مظاہرہ میرے چہرے پر نیل ڈال کر کرتا ہے۔ مجھ سے دیوانہ وار پیار کرتا ہے۔ مردانگی کے اس دورے کے بعد اس پر دوسرا دورہ پڑتا ہے۔۔ پچھتاوے کا! پھر وہ مداوا کرتا ہے۔۔ حسین طریقے سے۔ مجھے میری مرضی کے مرد کے ساتھ سونے دیتا ہے۔ اس بات کو یقین بنانے کے لئے، کہ میں مکمل خوشی حاصل کر رہی ہوں، وہ وہیں موجود رہتا ہے۔ مجھے راحت، سرور اور سکون کی حالت میں دیکھ کر وہ اپنا پچھتاوا بھول جاتا ہے۔ مجھے ہیجان خیز حالت میں پا کر وہ یہ سمجھتا ہے کہ وہ ہی وہ شیر ہے جسکی وجہ سے میں نشاط کی بلندیوں پر ہوں"۔
"کتنا عرصہ ہوا تمہاری شادی کو؟" اب شہباز بھی غزالہ سے بے تکلف ہو چکا تھا۔
"نو برس!"
"کتنے بچے ہیں؟"
"دو بیٹے ہیں۔۔ لندن میں"۔
"کس سے؟"
"افضال سے۔۔ "
"پر وہ تو نامرد ہے۔۔ "
"ہمیشہ نہیں رہتا۔۔ دونوں اسی سے ہیں۔ میں باسٹرڈ جننےکے خلاف نہیں مگر افضال نہیں چاہتا گھر میں حرامی بچے۔۔ "
"وہ کیوں مجبور کرتا ہے تمہیں گناہ پر؟"
"کب کہا وہ کرتا ہے؟ تم صحافی لوگ الفاظ دوسروں کے منہ میں ڈال کر کوٹ کر دیتے ہو۔۔ جب اس سے کچھ نہیں ہوتا تو میرے اندر طوفان اٹھتا ہے۔ اب اسے کون تھامے؟
افضال کو پھر احساس کمتری ہوتا ہے جسے وہ مجھے مار کر دور کرتا ہے۔ لیکن اس کے بعد اسے ڈپریشن ہو جاتا ہے۔ پھر وہ بہت پچھتاتا ہے۔ بچوں کی طرح روتا ہے۔ معافیاں مانگتا ہے۔ گھنٹوں میرے قدموں میں گڑگڑاتا ہے۔ پھر کہتا ہے جو تم کہوگی میں کروں گا۔ میں کہتی ہوں مجھے مرد لا کر دے جو مجھے سنبھال سکے اور تو اسے دیکھ کر کچھ سیکھ۔ تلاطم خیز موجوں کو پرسکون ہوتے دیکھ کر وہ بھی پرسکون ہو جاتا ہے۔ پھر ہم دونوں دوبارہ سے ہنسی خوشی رہنا شروع ہو جاتے ہیں"۔ غزالہ نے کہا۔
"تو تمہیں بھی اچھا لگتا ہے کہ افضال وہیں رہے اور سب کچھ دیکھے۔۔ " شہباز نے پوچھا۔
"آف کورس!" غزالہ نے جواب دیا۔
حیرت زدہ شہباز اس کہانی کو سرے سے ہی جھوٹ قرار دے دیتا اگر اس نے دنیا نہ دیکھی ہوتی۔ لیکن ایسی داستان کا واسطہ اسے اپنے کلچر میں پہلی بار پڑ رہا تھا۔
"تمہیں بدنامی سے خوف نہیں آتا؟"
"مجھے نہیں دوسروں کو آتا ہے میرے ساتھ سو کر۔۔ کہیں میں انہیں رسوا نہ کر دوں۔ لیکن میں ایسا نہیں کرتی۔ البتہ شریف زادی ضرور کرتی ہے! جب حمام میں سب ننگے ہوں تو کوئی کسی کو بدنام نہیں کرتا"۔
"میں تو کرسکتا ہوں۔۔ میں ننگا نہیں حمام میں"۔ شہباز نے کہا۔
"تم نہیں کرو گے۔۔ تم اس حمام میں اترو گے۔۔ چند لمحوں بعد۔۔ پھر ایسا اترو گے کہ عمر بھر نکلنے کی تمنا نہ کرو گے!
یہ کہہ کر غزالہ نے اپنے آپ کو نائٹی کی غلامی سے آزاد کرا لیا۔ لباس قالین پر ایسے جھوم کر گرا جیسے کوئی پتہ خزاں کے موسم میں اپنے درخت سے گرتا ہے۔ وہ یہ سوچ رہا تھا کہ کیا کوئی اور ہوگی اس پوری کائنات میں جو غزالہ سے زیادہ حسین ہو؟ کسی ایک زاویے سے؟ نہیں۔۔ ناممکن! اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ یہ خواب ہے یا حقیقت کیونکہ اسے کھلی آنکھوں سپنے دیکھنے کی عادت تھی۔ وہ ہر سپنا ڈائری میں لکھنے کا عادی تھا۔ گرم گرم حمام میں اتر کر پتہ لگایا جا سکتا تھا کہ خواب کیا ہے اور حقیقت کیا۔ حمام کے گرم پانی سے بھاپ اٹھ رہی تھی۔ اس حرارت سے اس کا اپنا بدن بھیگے جا رہا تھا۔ وہ تھکے ہوئے جسم کو آرام پہچانا چاہتا تھا۔
غزالہ اب سیڑھیوں کے جانب بڑھ رہی تھی۔ شہباز اسکے بل کھاتے جسم کا پیچھا کرتے کرتے ایک بڑے سے بیڈ روم میں پہنچ گیا۔ وہ بیڈ پر گر گئی۔
"کپڑے مجھے دے دیجئے!" پیچھے سے ایک مردانہ آواز آئی۔
"آپ؟" شہباز نے مڑ کر دیکھا تو افضال کو سامنے پایا۔
"جی آپکا خادم!" افضال نے کہا اور اسکے کپڑے بیڈ کے سامنے پڑے دیوان پر دھر دیے۔
"میں کسی تیسرے کی موجودگی میں نامرد ہو جاتا ہوں!" شہباز نے غزالہ کی جانب دیکھتے کہا۔
"میں تمہیں پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط مرد بنا دوں گی"۔ یہ کہہ کر وہ بیڈ سے اٹھی۔ شہباز کے رو برو کھڑی ہوئی۔ پھر اپنے دونوں ہاتھ اس کے کندھوں پر رکھ کر آہستہ آہستہ نیچے سرکتی گئی جیسے آسمان سے پیراشوٹ نیچے اترتا ہے۔ نیچے جاتے وہ سر اٹھا کر شہباز کے چہرے کی جانب دیکھتی جا رہی تھی۔ وہ سر جھکائے غزالہ کو زمین پر اترتے دیکھ رہا تھا۔ شہباز غلط ثابت ہوا۔ اسکی مردانگی کئی گناہ بڑھ چکی تھی اس کے باوجود غزالہ کے سامنے اس کی حیثیت آندھی میں تنکے جیسی تھی۔
جاری ہے۔۔