زندگی میں ایک طبقہ ایسے لوگوں کا بھی ہے جو اپنے دکھ کو چھپا کر دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرتا ہے۔ ان کے پاس خود مسائل کا انبار ہوتا ہے، مگر کسی دوسرے کو پریشان دیکھ کر اپنی پریشانیاں بھول جاتے ہیں۔ اپنی جیب خالی ہو تو بھی کسی ضرورت مند کی مدد کرنے کا راستہ تلاش کرتے ہیں۔ خود دل شکستہ ہوں تو بھی دوسروں کو حوصلہ دیتے ہیں۔ اپنی زندگی میں اندھیرے ہوں تو کسی دوسرے کے لیے چراغ بننے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ کسی کو تنہا نہیں دیکھ سکتے، کیونکہ وہ خود تنہائی کے کرب سے گزر چکے ہوتے ہیں۔ وہ کسی کی بے بسی پر تماشائی نہیں بن سکتے، کیونکہ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ بے بسی انسان سے اس کی آواز تک چھین لیتی ہے۔ وہ کسی کی تذلیل برداشت نہیں کر سکتے، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ الفاظ کے زخم بظاہر نظر نہیں آتے، مگر بعض اوقات عمر بھر نہیں بھرتے۔ لیکن ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب یہ لوگ دوسروں کو سنبھالتے سنبھالتے خود بکھرنے لگتے ہیں۔ ہر ایک کے لیے دستیاب رہنے والا انسان جب خود کسی کو آواز دیتا ہے تو اسے مصروفیت کے بہانے ملتے ہیں۔ دوسروں کی پریشانیوں میں شریک ہونے والا شخص جب اپنی کہانی سنانا چاہتا ہے تو لوگ موضوع بدل دیتے ہیں۔
ہمارے معاشرے کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ ہم اکثر نرم دل لوگوں کو کمزور سمجھ لیتے ہیں۔ جو شخص ہر بات کا جواب نہیں دیتا، اسے بے بس سمجھا جاتا ہے۔ جو رشتوں کو بچانے کے لیے خاموش رہتا ہے، اسے کم تر تصور کیا جاتا ہے۔ جو کسی کی عزت بچانے کے لیے اپنی صفائی پیش نہیں کرتا، اس کی خاموشی کو اعترافِ جرم بنا دیا جاتا ہے اور جو شخص ہر موقع پر اپنا مفاد مقدم رکھتا ہے، اپنی بات منوانا جانتا ہے اور دوسروں کے جذبات کو نظرانداز کر دیتا ہے، اسے دنیا اکثر کامیاب اور سمجھ دار قرار دے دیتی ہے۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی اچھا انسان ہونے کا مطلب یہ ہے کہ انسان ہر بار خود ہی تکلیف برداشت کرے؟ کیا دوسروں کا خیال رکھنے کے لیے اپنی خوشیوں کی قربانی دینا ضروری ہے؟ کیا کسی کے دکھ کو سمجھنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کے ہر رویے کو برداشت کیا جائے؟
یقیناً نہیں! احساس ایک خوب صورت انسانی صفت ہے، مگر خود کو مسلسل نظرانداز کرنا کوئی خوبی نہیں۔ دوسروں کے لیے نرم دل ہونا قابلِ قدر ہے، لیکن اپنے لیے بھی رحم دل ہونا ضروری ہے۔ کسی کی مجبوری سمجھنا اچھی بات ہے، مگر اپنی حدود کی حفاظت کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ کسی کو معاف کر دینا عظمت ہو سکتی ہے، لیکن بار بار اسی اذیت میں خود کو دھکیلنا دانش مندی نہیں۔ ہر رشتہ آپ کی قربانی کا مستحق نہیں ہوتا، ہر شخص آپ کی محبت کی قدر نہیں کرتا اور ہر دکھ کو اپنے کندھوں پر اٹھانا آپ کی ذمہ داری نہیں ہے۔ جو دوسروں کے زخموں پر مرہم رکھتا ہے، اس کے اپنے زخم بھی ہوتے ہیں۔ جو ہر محفل میں مسکراہٹیں بانٹتا ہے، ضروری نہیں کہ اس کے اندر بھی ہمیشہ بہار ہو۔ کبھی کبھی سب کو خوش رکھنے کی کوشش میں انسان خود اپنی خوشی سے دور ہو جاتا ہے۔
اپنی بات کہنے میں جھجک محسوس نہ کریں۔ جب دل بوجھل ہو تو کسی قابلِ اعتماد شخص سے بات کریں۔ جہاں ضروری ہو، وہاں انکار کرنا سیکھیں۔ رشتوں میں صرف اپنی طرف سے کوشش کرتے رہنا محبت کی واحد تعریف نہیں۔ کبھی کبھی پیچھے ہٹ جانا بھی اپنے وقار اور سکون کی حفاظت ہوتا ہے اور سب سے بڑھ کر، یہ مت سمجھیے کہ آپ کی قدر صرف اسی وقت ہے جب آپ کسی کے کام آ رہے ہوں۔ آپ کی ذات اپنی جگہ بھی اہم ہے۔ آپ صرف دوسروں کے دکھ بانٹنے کے لیے پیدا نہیں ہوئے، آپ کو اپنی زندگی میں خوشی، سکون اور محبت حاصل کرنے کا بھی پورا حق ہے۔ اگر اداسی مسلسل برقرار رہے، روزمرہ زندگی متاثر ہونے لگے یا تنہائی ناقابلِ برداشت محسوس ہو تو کسی قابلِ اعتماد فرد یا ذہنی صحت کے ماہر سے بات کرنا بھی اپنے آپ کا خیال رکھنے کا ایک اہم طریقہ ہے۔
یہ لوگ اس دنیا کی وہ خاموش خوب صورتی ہیں جس کا احساس ہمیں اکثر اس وقت ہوتا ہے جب وہ ہماری زندگی سے دور جا چکے ہوتے ہیں۔ لیکن میری ان تمام حساس دلوں سے ایک گزارش ہے: اپنے اندر کے اچھے انسان کو دنیا کی بے حسی کی نذر مت کیجیے۔ اگر کسی نے آپ کے خلوص کی قدر نہیں کی تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ خلوص بے معنی ہے۔ اگر کسی نے آپ کے احساسات کو نہیں سمجھا تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ احساس کرنا چھوڑ دیا جائے۔ بس اتنا کیجیے کہ دوسروں کے لیے جلتے ہوئے اپنے اندر کے چراغ کو بجھنے نہ دیجیے۔ کسی کے دکھ میں شریک ہوں، مگر اپنا دکھ بھی پہچانیے۔ کسی کو سہارا دیں، مگر خود بھی سہارا لینے میں شرم محسوس نہ کریں۔ دوسروں کی خوشیوں کے لیے دعا کریں، مگر اپنی خوشیوں کو بھی اہمیت دیں۔ کیونکہ زندگی کا مقصد صرف دوسروں کے آنسو پونچھنا نہیں، اپنی آنکھوں میں امید کے چراغ روشن رکھنا بھی ہے اور یاد رکھیے! جو دل دوسروں کا درد محسوس کرتا ہے، وہ کمزور نہیں ہوتا، اسے بس یہ سیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے کہ ہر درد کو اپنے اندر جگہ دینا ضروری نہیں۔ دنیا کو احساس کرنے والے لوگوں کی ضرورت ہے، مگر ان لوگوں کو بھی ایک ایسی دنیا کی ضرورت ہے جہاں کوئی ان کا احساس کرنے والا ہو۔
کاش! ہم دوسروں کے لیے اتنے ہی مہربان ہو جائیں جتنے مہربان ہونے کی توقع ہم ان سے رکھتے ہیں۔ شاید پھر بہت سے چہرے مسکرانے لگیں، بہت سی خاموشیاں بول اٹھیں اور بہت سے حساس دل یہ محسوس کر سکیں کہ اس دنیا میں ان کے احساسات کی بھی کوئی قدر ہے۔ کیونکہ بعض اوقات ایک انسان کو زندگی سے دوبارہ محبت کرنے کے لیے کسی بڑے معجزے کی نہیں، صرف ایک سچے احساس، ایک مخلص جملے اور کسی اپنے کی بے غرض موجودگی کی ضرورت ہوتی ہے۔