1. ہوم
  2. کالمز
  3. عابد ہاشمی
  4. چراغ آندھیوں کی زد میں
Abid Hashmi

چراغ آندھیوں کی زد میں

پریشانیوں، مسائل، الجھنوں نے انسان کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ ہر طرف مسائل ہی مسائل ہیں۔ تمام سہولیات کے ہوتے انسان اضطراب سے دوچار ہے۔ امن ختم ہوتا جا رہا۔ سب سے بڑا مسئلہ ہمارا اخلاقی زوال ہے جو کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے۔ ہمارے اندر سے احساس، انسانی ہمدردی، مروت، اخلاقی اقدار رخصت ہو رہی ہیں، ہم بجائے اس کے حل کے مزید مشکلات میں پھنستے جارہے ہیں۔ اخلاقیات کا ختم ہونا معاشرے کو بے وقت کرتا ہے۔ ہم اپنے لئے تو سب سوچ رہے مگر دوسروں کے لئے کچھ بھی نہیں سوچتے۔

جاپان کے ایک نامور یونیورسٹی پروفیسر سے کسی نے پوچھا: "اگر کسی معاشرے سے اخلاقیات ختم ہو جائیں تو کیا ہوتا ہے؟" پروفیسر نے مسکرا کر جواب دیا: "ریاستیں معاشی دیوالیہ پن سے بچ سکتی ہیں، بم دھماکوں کے بعد دوبارہ کھڑی ہو سکتی ہیں، لیکن جب کسی قوم کا اخلاق دیوالیہ ہو جائے، تو اس کا جغرافیہ بھی نقشے پر زیادہ دیر قائم نہیں رہتا"۔ آج جب میں اپنے اردگرد دیکھتے ہیں، تو ہمیں جاپانی پروفیسر کی وہ بات روح تک کانپنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ ہم بحیثیت قوم ایک ایسے موڑ پر آ کھڑے ہوئے ہیں جہاں ہماری معیشت سے زیادہ ہمارا سماجی اور اخلاقی وجود وینٹی لیٹر پر ہے۔

ہمارا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم نے "سوچنا" چھوڑ دیا ہے۔ ہم ایک زندہ معاشرے کے بجائے ایک بپھرے ہوئے ہجوم میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ سڑک پر گاڑی کا معمولی سا ٹکرا جانا ہو، یا سوشل میڈیا پر کسی کی رائے سے معمولی سا اختلاف، ہماری زبانوں سے مٹھاس غائب ہو چکی ہے ہمارے ہاتھ میں دبا ہوا غصہ باہر نکل آتا ہے۔ اختلافِ رائے، جو کبھی علم اور تہذیب کی خوبصورتی ہوا کرتا تھا، اب سیدھا دشمنی اور نفرت کی بنیاد بن چکا ہے۔ ہم نے مکالمے کی خوبصورت روایت کو گالی اور گولی کے کلچر سے بدل دیا ہے۔

اسمارٹ فون اور سوشل میڈیا نے ہمیں دنیا بھر سے تو جوڑ دیا، لیکن ہمارے اپنے گھروں کے درمیان دیواریں کھڑی کر دیں۔ مادیت پرستی کی اس اندھی دوڑ میں ہر رشتہ، ہر جذبہ اور ہر تعلق پیسے کے ترازو میں تولا جا رہا ہے۔ بزرگوں کا وہ احترام، جو کبھی ہماری تہذیب کا سب سے چمکتا ہوا تاج تھا، اب قصہ پارینہ بن چکا ہے۔ پاکستان کے بڑے شہروں میں اولڈ ایج ہومز عجائب گھرِ رشتہ داراں کی بڑھتی ہوئی تعداد اس بات کا ثبوت ہے کہ ہماری خاندانی اقدار کا شیرازہ بکھر رہا ہے۔

ہم ایک عجیب تضاد کا شکار ہیں۔ ہم صبح و شام سوشل میڈیا پر مذہب اور اخلاقیات کا پرچار کرتے ہیں، لیکن عملی زندگی میں جھوٹ، ملاوٹ، ذخیرہ اندوزی اور رشوت ستانی کو "ہوشیاری" اور "کامیابی"کا نام دے کر گلے سے لگا لیتے ہیں۔ قانون کا احترام صرف اس وقت تک ہے جب تک کوئی دیکھنے والا نہ ہو، یا جب تک ہم خود کمزور ہوں۔ طاقتور کے لیے اخلاق اور قانون دونوں موم کی ناک بن چکے ہیں۔ نئی نسل کو اچھے اور برے کی تمیز سے عاری کیا جا رہا ہے۔

پانی اب سر سے گزر چکا ہے۔ اگر ہم نے اب بھی ہوش کے ناخن نہ لیے، اپنی ترجیحات کو تبدیل نہ کیا اور اصلاح کا آغاز اپنی ذات سے نہ کیا، تو تاریخ کے صفحات ہمیں ایک بے حس اور مردہ قوم کے طور پر یاد رکھیں گے۔ فیصلہ اب ہمارے ہاتھ میں ہے: کیا ہمیں اس کھائی میں گرنا ہے، یا پیچھے ہٹ کر اپنے اخلاقی وجود کی مرمت کرنی ہے؟

آج موبائل جلتے ہیں اور نسلیں اندھی ہو رہی ہیں۔ ہم نے اپنے ہاتھوں سے اپنے چراغ آندھیوں کی نذر کر دیے ہیں۔ آندھی کیسی ہے؟ یہ آندھی نظر نہیں آتی، یہ جیب میں رکھی ہے۔ 6 انچ کی سکرین والی آندھی۔ نام ہے سوشل میڈیا۔ ہمارے بچے کے ہاتھ میں کتاب ہونی چاہیے تھی، اس کے ہاتھ میں ریل ہے۔ اس کی زبان پر سلام ہونا چاہیے تھا، اس کی زبان پر گالی ہے۔ اس کی آنکھ میں حیا ہونی چاہیے تھی، اس کی آنکھ میں ہوس ہے۔ یہ ترقی نہیں، یہ تنزلی ہے! ہم نے کیا کھو دیا؟ تہذیب کھو دی: پہلے بڑا بولتا تھا تو چھوٹا خاموش ہوتا تھا۔ آج چھوٹا لائیو آ کر بڑے کو گالی دیتا ہے اور لوگ اسے "بولڈ"کہتے ہیں۔ بدتمیزی کو کانٹینٹ کا نام دے دیا گیا ہے۔ وقت کھو دیا: ہمارا نوجوان 5 گھنٹے ٹک ٹاک دیکھ لیتا ہے، لیکن پانچ منٹ کتاب نہیں پڑھ سکتا۔ مقصدِ حیات کھو دیا: کسی سے پوچھو زندگی کا مقصد کیا ہے؟ جواب ہے "فالوورز بڑھانا ہے"۔ ڈگری کا مقصد نوکری نہیں، فیم ہے۔ شہرت چاہیے، چاہے گالی کھا کر ملے۔ یہ چراغ کون بجھا رہا ہے؟ ذمہ دار صرف بچے نہیں، ہم بھی ہیں۔ ہم نے بچے کے رونے پر اس کے ہاتھ میں موبائل دیا، لوری نہیں دی۔ ہم نے خود ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر سارا دن فیس بک پر گزارا، بچے کو کیا نصیحت کریں گے؟

ہم نے کتاب کو الماری میں بند کر دیا اور موبائل کو ہاتھ میں آزاد کر دیا۔ یاد رکھیے! بچہ وہ نہیں کرتا جو آپ کہتے ہیں، بچہ وہ کرتا ہے جو آپ کو کرتے ہوئے دیکھتا ہے۔ چراغ کو کیسے بچائیں؟ آندھیوں کو گالی دینے سے چراغ نہیں جلتے، چراغ کو ڈھانپنا پڑتا ہے۔ گھر میں No Mobile Zone بنائیں: کھانے کی میز پر، مغرب سے عشاء تک، موبائل بند۔ صرف بات ہوگی، صرف تہذیب ہوگی۔ کتاب واپس لائیں: اپنے بچے کو مہینے میں ایک کتاب تحفے میں دیں۔ اسے بتائیں کہ ہیرو ٹک ٹاکر نہیں، مصنف ہوتا ہے، استاد ہوتا ہے۔ بدتہذیبی کو ان فالو کریں: جو لڑکا گالی دے کر فیمس ہو رہا ہے، اسے رپورٹ کریں، بلاک کریں۔ اس کی حوصلہ شکنی ہی اصل نیکی ہے۔ ہمارے بزرگ چراغ آندھی سے بچانے کے لیے ہاتھ کی اوٹ بناتے تھے۔ کبھی چراغ جلتے تھے تو روشنی ہوتی تھی۔

آج ہمیں اپنے بچوں کے کردار کے گرد اپنے ہاتھوں کی اوٹ بنانی ہے۔ ورنہ تاریخ لکھے گی: ایک قوم تھی، جس کے پاس چراغ بھی تھے، کتابیں بھی تھیں، تہذیب بھی تھی۔۔ پھر انہوں نے سب کچھ 6 انچ کی سکرین کی نذر کر دیا! ابھی وقت ہے، چراغ جل رہا ہے، بس آندھی سے بچانا ہے!

عابد ہاشمی

Abid Hashmi

عابد ہاشمی کے کالم دُنیا نیوز، سماء نیوز اور دیگر اخبارات میں شائع ہوتے ہیں۔ ان دِنوں آل جموں و کشمیر ادبی کونسل میں بطور آفس پریس سیکرٹری اور ان کے رسالہ صدائے ادب، میں بطور ایڈیٹر کام کر رہے ہیں۔