1. ہوم
  2. کالمز
  3. فرحت عباس شاہ
  4. پاکستان کو بحران کی نہیں، امان کی ضرورت ہے
Farhat Abbas Shah

پاکستان کو بحران کی نہیں، امان کی ضرورت ہے

کبھی کبھی ایک قوم کی حالت بیان کرنے کے لیے اعداد و شمار کی ضرورت نہیں پڑتی، بازار میں کھڑے اس آدمی کا چہرہ دیکھ لینا کافی ہوتا ہے جو آٹے کی تھیلی اٹھاتا ہے، قیمت سنتا ہے اور خاموشی سے واپس رکھ دیتا ہے۔ آج پاکستان کا عام شہری اسی چہرے کے ساتھ جی رہا ہے، تھکا ہوا، سہما ہوا اور اس سوال سے لرزتا ہوا کہ کل کیا ہوگا۔ سرحد پار سے دشمن کی نظریں ہیں، اندر دہشت گردی کے زخم ہیں جو بھرنے سے پہلے پھر کھل جاتے ہیں، مہنگائی نے دسترخوان چھوٹے کر دیے ہیں، دوا خریدنا عیاشی بن گیا ہے اور سیاست کے ایوانوں میں کوئی ایسی آواز نہیں جو کہے کہ ٹھہرو، پہلے ان لوگوں کی بات سن لو جن کے نام پر یہ سب کچھ ہو رہا ہے۔ یہ لوگ زندگی اور موت کے بیچ ایک باریک رسی پر لٹکے ہیں اور غیریقینی کا پھندا ان کے گلے میں لمحہ بہ لمحہ تنگ ہوتا جا رہا ہے۔

ایسے وقت میں جب قوم کو سانس لینے کی مہلت چاہیے، اگر کوئی سیاسی مقصد ملک کو ایک نئے بحران کی طرف دھکیلنے کا جواز بنے تو اس پر ٹھہر کر سوچنا لازم ہے۔ عمران خان کی رہائی اور اقتدار میں واپسی ایک سیاسی مطالبہ ہے اور سیاسی مطالبات آئینی، قانونی اور جمہوری راستوں سے اٹھائے جاتے ہیں، عدالتوں میں، پارلیمان میں، مذاکرات کی میز پر۔ مگر جب ایک شخص کی رہائی کو ریاست کی سلامتی اور معیشت کی بقا سے بڑا مسئلہ بنا دیا جائے، جب سڑکوں کو آگ اور گھیراؤ کا میدان بنانے کی کوشش ہو، تو یہ سیاست نہیں رہتی، یہ قوم کو ایک فرد کی خاطر داؤ پر لگانے کا کھیل بن جاتا ہے۔ ایسا کھیل ملک اور قوم دونوں کو تختہ دار تک لے جا سکتا ہے۔

جلاؤ گھیراؤ کی سب سے بھاری قیمت ہمیشہ وہی ادا کرتا ہے جس کا اس سیاست میں کوئی حصہ نہیں ہوتا۔ وہ ریڑھی والا جس کی دکان جل جاتی ہے، وہ مزدور جس کی دیہاڑی ایک دن کے کرفیو میں ڈوب جاتی ہے، وہ مریض جس کی ایمبولینس بند سڑک پر پھنس جاتی ہے، وہ طالب علم جس کا امتحان ملتوی ہو جاتا ہے۔ لیڈر کے لیے احتجاج ایک حکمت عملی ہو سکتا ہے، عوام کے لیے وہ روٹی کا نوالہ ہے جو چھن جاتا ہے اور جب لوگوں کو مشتعل کرکے میدان میں اتارا جاتا ہے تو وہ اپنے مقدر کے لیے نہیں، کسی اور کے اقتدار کے لیے ایندھن بنتے ہیں۔ یہ استعمال ہے اور استعمال کبھی عزت کا رشتہ نہیں ہوتا۔

پھر یہ بھی سوچنا ہوگا کہ ہمارا دشمن اس وقت کیا چاہتا ہے۔ ملک کے اندر انتشار اس کے لیے وہ تحفہ ہے جو وہ خود بھی برسوں کی محنت سے حاصل نہ کر سکتا تھا۔ جو ریاست اپنے ہی شہروں میں الجھی ہو وہ سرحدوں پر پوری طرح توجہ نہیں دے سکتی، جو معیشت روز کسی نئے ہنگامے سے لرزتی ہو اس پر سرمایہ کار اعتماد نہیں کرتا اور جو سماج ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہو اس کے سامنے دہشت گرد کو راستہ آسانی سے مل جاتا ہے۔ اس لیے اس وقت کا بنیادی تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنی صفوں کو بکھرنے سے بچائیں۔

سیاسی دانائی کہتی ہے کہ اختلاف ختم نہیں ہوتا، اسے سلیقے سے چلانا سیکھنا پڑتا ہے۔ سماجی دانائی کہتی ہے کہ جس معاشرے میں ہر گروہ اپنی بات منوانے کے لیے دوسروں کا نقصان کرنے لگے وہاں کوئی جیتتا نہیں۔ معاشی دانائی کہتی ہے کہ استحکام کے بغیر کوئی اصلاح ٹک نہیں سکتی اور قومی دانائی کہتی ہے کہ جب گھر کو آگ لگی ہو تو پہلے آگ بجھائی جاتی ہے، پھر یہ طے کیا جاتا ہے کہ کس کی غلطی تھی۔ ان سب کا نچوڑ ایک ہی ہے کہ مل بیٹھا جائے۔ حکومت بھی اپنا رویہ نرم کرے اور مذاکرات کا دروازہ حقیقی نیت سے کھولے اور اپوزیشن بھی یہ سمجھے کہ مطالبہ وہی معتبر ہوتا ہے جو ملک کی سلامتی کو نقصان پہنچائے بغیر اٹھایا جائے۔ قانون کا راستہ کھلا رہے، عدالتیں آزادی سے فیصلے کریں اور سیاسی قیادت اپنی انا سے اوپر اٹھ کر عوام کے مسائل کو ایجنڈے میں سب سے اوپر رکھے۔

پاکستان کے لوگ بہت کچھ سہہ چکے ہیں، اب انہیں نعرے نہیں، سکون چاہیے۔ انہیں ایسی فضا چاہیے جس میں وہ صبح کام پر جائیں تو شام کو خیریت سے لوٹ آئیں، جس میں ان کے بچے سکول جا سکیں اور بیمار کو دوا مل سکے۔ ہمیں بحران کی سیاست نہیں، امان کی سیاست چاہیے۔ یہی وقت کا تقاضا ہے اور یہی اس قوم کا حق ہے جس نے ہر آزمائش میں اپنے ملک سے وفا نبھائی ہے۔