1. ہوم
  2. کالمز
  3. ذیشان بلوچ
  4. بچوں کے مستقبل پر سوال اٹھایا تو دباؤ کیوں؟
Zeeshan Baloch

بچوں کے مستقبل پر سوال اٹھایا تو دباؤ کیوں؟

خیبر پختونخواہ کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے عوام طویل عرصے سے سرکاری اداروں کی ناقص کارکردگی، انتظامی مسائل، افسران کی مبینہ من مانیوں اور سیاسی مداخلت کے خلاف آواز اٹھاتے آئے ہیں۔ یقیناً عوام کو اپنے حقوق کے لیے سوال کرنے اور جواب طلب کرنے کا پورا حق حاصل ہے، لیکن ایک سوال ہم سب کو خود سے بھی کرنا چاہیے کہ کیا ہم نے کبھی اپنی اجتماعی ذمہ داریوں اور رویوں کا احتساب کیا؟

ہم اکثر مسائل کا ذمہ دار سیاست دانوں، افسران اور سرکاری اداروں کو ٹھہراتے ہیں، مگر کیا ہم نے کبھی اپنے حصے کی ذمہ داری ادا کی؟ کیا ہم نے متعلقہ حکام سے قانونی اور آئینی دائرے میں رہتے ہوئے جواب طلب کیا یا صرف سوشل میڈیا پر تنقید ہی کو اپنا فرض سمجھ لیا؟

گزشتہ دنوں بچوں کے مستقبل سے متعلق ایک عوامی نوعیت کا سوال اٹھایا تو مختلف حلقوں کی جانب سے غیر معمولی ردعمل سامنے آیا۔ مبینہ طور پر دباؤ ڈالنے کی کوششیں ہوئیں، حالانکہ معاملہ کسی کی ذاتیات یا کاروباری سرگرمیوں کا نہیں بلکہ بچوں کی تعلیم اور ذہنی تربیت کا تھا۔

اصل سوال یہ ہے کہ تعلیمی اداروں میں ٹریڈنگ کے نام پر بچوں کو کیا سکھایا جا رہا ہے اور اس کا مقصد کیا ہے؟

اطلاعات کے مطابق گزشتہ دنوں خیبرپختونخواہ کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان، تحصیل پروآ کے ایک پرائیویٹ اسکول میں ٹریڈنگ کے موضوع پر سیشن منعقد کیا گیا، جس میں بچوں کو موبائل فون اور لیپ ٹاپ کے ذریعے اس سرگرمی کا آغاز کرنے کے حوالے سے بھی باتیں بتائی گئیں۔

یہاں یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ ہر قسم کی ٹریڈنگ غلط یا جوئے کے مترادف نہیں۔ مالیاتی تعلیم اپنی جگہ اہم ہے، لیکن کم عمر بچوں کو کسی بھی ایسی سرگرمی کی طرف راغب کرنے سے پہلے اس کے ممکنہ نقصانات، مالی خطرات، آن لائن فراڈ اور قانونی پہلوؤں سے آگاہ کرنا بھی ضروری ہے۔

اگر اس سیشن کا مقصد بچوں کو مثبت مالیاتی تعلیم دینا تھا تو کیا والدین کو اعتماد میں لیا گیا؟ کیا متعلقہ تعلیمی حکام سے اجازت حاصل کی گئی؟ کیا بچوں کو خطرات اور محفوظ مالی رویوں کے بارے میں بھی بتایا گیا؟

اگر یہ سرگرمی مکمل طور پر تعلیمی پالیسی اور بچوں کے بہترین مفاد کے مطابق تھی تو اسکول انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ حقائق اور وضاحت عوام کے سامنے رکھے اور اگر کوئی کوتاہی ہوئی ہے تو اس کی غیر جانب دارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔

میرا مقصد کسی ادارے کو بدنام کرنا، کسی کی کردار کشی کرنا یا کسی کے کاروبار کو نقصان پہنچانا نہیں۔ میرا مقصد صرف یہ ہے کہ بچوں کے مستقبل سے متعلق معاملات میں ذمہ داری، شفافیت اور احتیاط کو یقینی بنایا جائے۔

تحصیل پروآ کے عوام سے بھی گزارش ہے کہ اختلافِ رائے کو ذاتی دشمنی نہ بنائیں۔ سوال کا جواب دلیل اور حقائق سے دیا جاتا ہے، نہ کہ دباؤ، دھمکیوں یا ذاتی معلومات کی تشہیر سے۔

متعلقہ حکام اور اسکول انتظامیہ سے چند بنیادی سوالات:

1۔ کیا ٹریڈنگ سیشن کے لیے باقاعدہ اجازت حاصل کی گئی تھی؟

2۔ کیا والدین کو اس سرگرمی سے آگاہ کیا گیا تھا؟

3۔ کیا بچوں کو مالی نقصانات اور آن لائن فراڈ کے خطرات سمجھائے گئے؟

4۔ کیا اس سیشن کے مواد اور مقاصد کا تعلیمی حکام نے جائزہ لیا؟

یاد رکھیے! معاشرے میں بہتری صرف دوسروں کا احتساب کرنے سے نہیں بلکہ اپنا احتساب کرنے سے بھی آتی ہے۔ کسی بھی ادارے سے جواب طلب کرنا عوام کا حق ہے، لیکن اپنی ذمہ داریوں کو نظر انداز کرنا بھی درست نہیں۔

ہمیں اپنے بچوں کو علم، تحقیق، ہنر اور محنت کا راستہ دکھانا ہے، نہ کہ انہیں ایسی سرگرمیوں کی طرف راغب کرنا ہے جن کے ممکنہ خطرات سے وہ ابھی پوری طرح واقف بھی نہیں۔

سوال اٹھانا جرم نہیں، بلکہ اصلاحِ معاشرہ کی پہلی سیڑھی ہے!