طبیعتاََ حساس ہونا اچھا بھی ہے اور باعث تکلیف بھی وہ یوں کہ حساس لوگ ہمیشہ کسی بھی چیز کو جزیات میں جا کر دیکھتے ہیں۔ تہہ در تہہ چیزوں کو محسوس کرتے ہیں، اس کا وہ اظہار کریں یا نہ کریں، اپنے اندر تجزیہ کرتے ہیں اور اگر ظاہراََ کچھ کرسکتے ہوں تو مفت کا مشورہ دینے سے نہیں چوکتے۔
معاملہ اگر دوسری نوعیت کا ہو، جہاں انسان اظہار نہ کر پائے اور کچھ کر بھی نہ سکے، تو اندر ہی اندر ایک جنگ شروع ہوجاتی ہے۔ جس میں ہار انسان کی اپنی ہی ہوتی ہے۔ ایسے لوگ چاہ کر بھی اس جنگ سے چھٹکارہ حاصل نہیں کرپاتے، بھلے جس کی وجہ سے یہ ہلچل مچی ہو اس کو پتہ بھی نہ ہو۔
آج کے دور میں مجھے تو ایسے لوگ بشمول میرے بے وقوف لگتے ہیں، یہ جانتے ہوئے بھی کہ ایسا کرنے سے کسی کو کوئی پرواہ نہیں، نقصان سراسر اپنا سے مگر، چلے جا رہے ہیں، جئے جا رہے ہیں۔ شاید یہ جنگ تب ہی ختم ہو جب سانسوں کی ڈوریاں ٹوٹیں گی۔
خوش نصیب ہیں وہ حساس لوگ جنہیں اپنے ارد گرد حساس لوگ میسر ہوں، ورنہ کسی سے پوچھ کے دیکھیں یہی جواب ملے گا "مینوں کی"۔
بندہ حساس ہو اور اصولوں کی جنگ لڑ رہا ہو، جس کا ارادہ ہو کہ ایک ضابطہ سے زندگی جی جانی چاہئے، یہ بار بار نہیں ملتی۔ بھلے یہ سب کو آگاہ بھی کرے کہ بلا اصول و ضابطے کی زندگی گزارنے سے پکڑ ہوگی، کسی کو شاید پرواہ نہ ہو کہ "دیکھی جائے گی"۔
ایسی صورت میں حساس اپنی خو بدلنے کو تیار نہیں، جبکہ دیگر بھی اپنی غلظ ڈگر چھوڑنے پہ راضی نہیں، ایسی صورت میں کیا کیا جائے آپ ہی بتایئے۔۔