1. ہوم
  2. افسانہ
  3. عفت نوید
  4. چار بج کر نو منٹ
Iffat Navaid

چار بج کر نو منٹ

میں جب بھی کبھی اپنے کمرے میں کوئی کتاب پڑھ رہا ہوتا، کوئی مووی دیکھ رہا ہوتا، یا اپنی گرل فرینڈ سے باتیں کر رہا ہوتا۔ وہ بنا دستک دیے کمرے میں آجاتیں۔ "ناشتہ کر لو۔ یہ کیا، کمرہ کیسا پھیلا رکھا ہے۔ یہ تم نے پھر باہر سے کھا نا منگوا لیا۔ اتنی کولڈ ڈرنک مت پیا کرو"۔۔

میں نے انہیں کئی مرتبہ باتوں باتوں میں پرائیوسی کا مطلب سمجھانے کی کوشش کی چھبیس برس کا تھا، بچہ نہیں رہا تھا، امی کو سمجھنا چاہیے تھا۔ لیکن وہ ہر بار وعدہ کرنے کے باوجود بھول جاتی تھیں۔ ایک مرتبہ تو صاف کہہ دیا کہ وہ اپنے کام سے کام رکھیں میرے معاملات میں دخل نہ دیں، لیکن پتہ نہیں انہیں کیوں بات سمجھ نہیں آتی تھی۔ وہ بس سوری سوری کرتی رہتیں۔

میں آفس میں رات کو آن لائن کام کرتا تھا، صبح دوستوں کے ساتھ ناشتہ کرتا۔ دبے قدموں گھر میں داخل ہوتا، کہ امی کے سوال جواب نہ سننے پڑیں۔ مگر دروازے کا لاک کھلنے کی آواز کے ساتھ ہی کسی جن کی طرح، انہیں اپنے سامنے موجود پا کر میں کوفت میں مبتلا ہو جاتا۔

وہ میرے ساتھ ساتھ بولتی ہوئی کمرے کے دروازے تک آجاتیں۔ فون کیوں نہیں اٹھا رہے تھے۔ میں تو بہت پریشان ہوگئی تھی۔ ناشتہ بناؤں؟

"کرکے آیا ہوں امی"۔

میں دروازہ پکڑ کر کھڑا رہتا کہ وہ کہیں کمرے میں نہ آجائیں۔

"اچھا اچھا آرام کرو"

وہ واپس پلٹ جاتیں۔

جب بھی باہر نکلتا۔ بھاگ کر دروازے پر آتیں۔ کہاں جا رہا ہوں، کب آؤں گا، میرے پاس پیسے ہیں کہ نہیں، پوچھتیں۔

مجھے یہ دیسی ماؤں والے طریقے بالکل اچھے نہیں لگتے۔ میں کوئی جواب نہ دیتا، کہ وہ سمجھ لیں کہ گھر سے جاتے وقت ان کا دروازے پر آنا مجھے اچھا نہیں لگتا۔

شام کے وقت سو کر اٹھتا تو میرا دماغ سائیں سائیں کرتا۔ فرج سے پانی لینے باہر نکلتا، تب ایک دم کسی روبوٹ کی مانند مجھ سے پہلے فرج کے پاس پہنچ کر میرے لیے بنایا شیک مجھے پکڑا دیتیں۔

ناشتہ نہیں کیا ہے، اب ایسے ہی نکل جاؤگے۔ یہ پی لینا۔

"بھئی مجھے پیاس لگی ہے امی"!

"ہاں ہاں یہ بعد میں پی لینا"۔

میں اکثر بھرا ہوا گلاس یوں ہی کمرے میں چھوڑ کر چلا جاتا، کہ انہیں سمجھنا چاہیے، مجھے یہ چونچلے پسند نہیں۔

عجیب مٹی کی بنی تھیں اس بات پر بھی انہوں نے کبھی ناراضی کا اظہار نہیں کیا۔

میں نے شہر کے پوش علاقے میں ایک چھوٹا سا اسٹوڈیو دیکھا اور امی کو بتا دیا کہ میں گھر میں اپنے کام پر توجہ مرکوز نہیں رکھ پاتا۔ ایک چھوٹا سا گھر اپنے رہنے کے لیے ڈھونڈ لیا ہے۔

وہ کچھ نہیں بولیں، صرف اتنا کہا کہ اگر میں سمجھتا ہوں کہ زیادہ سکون سے اپنا کام کر پاؤں گا تو جیسا بہتر سمجھوں کروں۔

آخر اور مائیں بھی تو ہوتی ہیں، روتی ہیں، گڑگڑاتی ہیں، میں کیسے رہوں گی تمہارے بغیر، یا، میں تمہارے بغیر نہیں رہ پاؤں گی، تم سے مجھے بڑا سہارا ہے۔

کمال ہے، کوئی ماں کیسے اپنے بچے کو اجازت دے سکتی ہے!

میں اپنے دوستوں کے ہاں جاتا تو ان کی مائیں اتنے بڑے بڑے بچوں کو جانو مانو کہہ کر بلاتیں۔ ان سے ایسے بات کرتیں جیسے وہ دو سال کے بچے ہوں۔ میری ماں نے تو کبھی ہمیں گلے نہ لگایا تھا۔ کبھی محبت کا اظہار نہیں کیا تھا۔ ہر وقت، "یہ کھا لو، وہ کھا لو، سردی لگ جا ئے گی، گرمی میں کیوں بیٹھے ہو" کبھی۔

"اتنی ٹھنڈ میں پنکھا کیوں چلایا ہے۔ موزے پہنے کیوں پھر رہے ہو"۔۔

ایسے ہی حکم یا مشورے دیتی رہتی تھیں، جن سے مجھے چڑ تھی۔

گھر سے جاتے وقت میں نے امی کی نشانی کے طور پر ان کے کمرے میں ٹنگی گھڑی بھی اتار لی تھی اور اس کے سیل نکال کر وہیں پھینک دیے تھے۔ وہ وقت جب میں گھر سے نکلا میں کبھی نہیں بھولوں گا۔ کیوں کہ اس گھڑی میں، میں نے پھر سیل نہیں ڈالے۔

چار بج کر نو منٹ۔۔

بہت دنوں بعد آج چھٹی والے دن میں صبح صبح گھر گیا۔ امی نے مجھے چمک دار نظروں سے دیکھا۔ ناشتے اور کام کا پوچھا۔ میں نے انہیں اپنی نئی جاب کے بارے میں بتایا۔ انہوں نے مجھے صوفے کی طرف بیٹھنے کا اشارہ کیا اور کچن میں چلی گئیں۔

چھوٹا بھائی کمرے سے نکل کر آیا اور میرے سامنے ہی بیٹھ گیا۔ میں نے اس سے پوچھا۔

"امی مجھے یاد کرتی ہیں"؟

"کیوں آپ کو فون نہیں کرتیں کیا"

"ہاں فون تو کرتی ہیں"۔

"تو! بس یہ ہی یاد کرنا ہوتا ہے، آپ کو پتہ تو ہے امی کی عادت، وہ اظہار کہاں کرتی ہیں"۔

میں سوچ رہا تھا وہ کہے گا کہ امی کہتی ہیں کہ شیراز کے جانے کے بعد گھر کیسا سونا ہوگیا ہے۔ یا یہ کہ میرے بغیر ان کا دل نہیں لگتا، لیکن انہوں نے ایسا کچھ تو کبھی مجھ سے فون پر بھی نہیں کہا تھا۔

مجھے غصہ آگیا۔ امی مجھے پیار ہی نہیں کرتیں۔ میں نے سر جھٹکا اور کھڑا ہوگیا۔

امی کچن سے ٹرے ہاتھ میں لیے نکلیں۔

"ارے! کھڑے کیوں ہو گئے۔ بیٹھو ناشتہ کرو"۔

"امی مجھے بھوک نہیں"۔

"اچھا، دو نوالے کھالو"۔

"ٹھیک ہے امی، ہاتھ دھولوں ذرا"

یہ کہتا ہوا میں امی کے کمرے کے اٹیچ باتھ روم میں جانےکے لیے مڑا۔ ہاتھ دھو کر باہر نکلا تو میری نظر وال کلاک پر پڑی یہ امی شاید میرے کمرے سے لے آئی تھیں۔

میں نے ٹائم دیکھا۔

گھڑی چار بج کر نو منٹ بجا رہی تھی۔