1. ہوم
  2. کالمز
  3. عابد ہاشمی
  4. ستم کی آندھیاں جنہیں بجھا نہیں سکتیں

ستم کی آندھیاں جنہیں بجھا نہیں سکتیں

تعلیم کسی بھی قوم کی تعمیر، کردار سازی اور تہذیبی ترقی کا بنیادی ستون سمجھی جاتی ہے۔ دنیا کی مہذب اقوام نے صرف کتابی علم نہیں بلکہ اخلاق، برداشت، دیانت اور انسان دوستی کو بھی تعلیم کا حصہ بنایا، اسی لیے ان کے معاشرے ترقی یافتہ اور منظم نظر آتے ہیں۔ ہمارے ہاں ڈگریاں بڑھ رہی ہیں، ادارے بڑھ رہے ہیں، نصاب وسیع ہو رہا ہے، لیکن رویّوں میں بہتری کم دکھائی دیتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر ہماری تعلیم ہمارے رویے کیوں نہیں سنوار رہی؟ اس کی پہلی بڑی وجہ یہ ہے کہ ہماری تعلیم صرف امتحان پاس کرنے اور نوکری حاصل کرنے تک محدود ہو چکی ہے۔

طلبہ کو نمبر لینے کی دوڑ میں شامل کر دیا گیا ہے جہاں کامیابی کا معیار کردار نہیں بلکہ مارکس بن گئے۔ جب تعلیم کا مقصد صرف ملازمت ہو تو اخلاقیات پس منظر میں چلی جاتی ہیں۔ دوسری اہم وجہ نصاب میں اخلاقی تربیت کی کمی ہے۔ ہمارے نصاب میں سائنسی، فنی اور نظری مضامین تو موجود ہیں، مگر برداشت، دیانت، سچائی، صفائی، وقت کی پابندی، اختلافِ رائے کا احترام اور معاشرتی ذمہ داری جیسے موضوعات کو عملی انداز میں شامل نہیں کیا جاتا۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ طالب علم پڑھا لکھا تو ہو جاتا ہے مگر باشعور شہری نہیں بنتا۔

تیسری وجہ گھریلو تربیت کا کمزور ہونا ہے۔ تعلیم صرف اسکول یا کالج کی ذمہ داری نہیں بلکہ گھر پہلی درسگاہ ہے۔ اگر گھر میں جھوٹ، بدتمیزی، عدم برداشت اور دوسروں کی حق تلفی عام ہو تو ادارے اکیلے رویّے نہیں بدل سکتے۔ بچے وہی سیکھتے ہیں جو وہ دیکھتے ہیں۔ چوتھی وجہ اساتذہ پر بڑھتا ہوا دباؤ اور کردار سازی کے لیے وقت کی کمی ہے۔ بہت سے اساتذہ نصاب مکمل کرنے، نتائج بہتر بنانے اور انتظامی امور میں اس قدر مصروف رہتے ہیں کہ طلبہ کی اخلاقی رہنمائی کے لیے مناسب وقت نہیں دے پاتے۔ حالانکہ استاد صرف مضمون نہیں بلکہ شخصیت بھی بناتا ہے۔

پانچویں وجہ معاشرے میں غلط مثالوں کا عام ہونا ہے۔ جب نوجوان یہ دیکھتے ہیں کہ جھوٹ بولنے والے کامیاب ہیں، سفارش سے کام ہوتے ہیں، بدتمیز لوگ طاقتور سمجھے جاتے ہیں اور ایماندار شخص مشکلات میں ہے، تو ان کے ذہن میں یہ پیغام جاتا ہے کہ اچھا رویہ کامیابی کی ضمانت نہیں۔ انسانی زندگی کی تعمیر میں دو عناصر بنیادی حیثیت رکھتے ہیں: تعلیم اور تربیت۔ یہ دونوں ایسے ستون ہیں جن پر ایک مہذب، باشعور اور متوازن معاشرہ قائم ہوتا ہے۔ اگر تعلیم روشنی ہے تو تربیت اس روشنی کا صحیح رخ متعین کرتی ہے۔ اگر علم ذہن کو جِلا بخشتا ہے تو تربیت دل و کردار کو سنوارتی ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ تعلیم و تربیت لازم و ملزوم ہیں، ایک کے بغیر دوسرا ادھورا ہے۔

تعلیم انسان کو پڑھنا، لکھنا، سمجھنا اور دنیا کے معاملات سے آگاہ ہونا سکھاتی ہے۔ یہ انسان کو سائنس، ادب، تاریخ، معیشت اور دیگر علوم سے روشناس کراتی ہے۔ مگر صرف تعلیم یافتہ ہونا اس بات کی ضمانت نہیں کہ انسان اچھا بھی ہوگا۔ اگر علم کے ساتھ اخلاق، برداشت، دیانت، احترامِ انسانیت اور احساسِ ذمہ داری نہ ہو تو تعلیم اپنی اصل روح کھو دیتی ہے۔ تربیت انسان کے کردار کو نکھارتی ہے۔ یہ سکھاتی ہے کہ بڑوں کا احترام کیسے کرنا ہے، چھوٹوں سے شفقت کیسے برتنی ہے، سچائی اور امانت داری کی راہ کیسے اپنانی ہے، اختلافِ رائے کو برداشت کیسے کرنا ہے اور معاشرے میں مثبت کردار کیسے ادا کرنا ہے۔ تربیت انسان کو صرف کامیاب نہیں بلکہ باوقار بھی بناتی ہے۔

ہمارے معاشرے کا ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے تعلیم کو محض ڈگری، نوکری اور معاشی ترقی تک محدود کر دیا ہے، جبکہ تربیت کو نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ڈگری یافتہ افراد تو بڑھ رہے ہیں مگر اخلاقی بحران بھی ساتھ ساتھ بڑھ رہا ہے۔ زبان میں سختی، رویّوں میں تلخی، معاملات میں بے ایمانی اور برداشت کی کمی اس بات کا ثبوت ہے کہ تعلیم کے ساتھ تربیت کا پہلو کمزور پڑ گیا ہے۔ گھر، اسکول اور معاشرہ تربیت کے تین بڑے مراکز ہیں۔ گھر پہلی درسگاہ ہے جہاں بچے آداب، محبت اور اخلاق سیکھتے ہیں۔ اسکول علم کے ساتھ نظم و ضبط اور اجتماعی زندگی کا شعور دیتا ہے، جبکہ معاشرہ عملی زندگی کے نمونے پیش کرتا ہے۔ اگر یہ تینوں ادارے اپنی ذمہ داری ادا کریں تو نسلیں سنور سکتی ہیں۔ اساتذہ کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ استاد صرف کتابی اسباق نہیں پڑھاتا بلکہ اپنے کردار، اندازِ گفتگو اور طرزِ عمل سے بھی تربیت کرتا ہے۔ اسی طرح والدین کی گفتگو، رویّے اور عادات بچوں کی شخصیت پر گہرا اثر ڈالتی ہیں۔

وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے نظامِ تعلیم میں تربیت کو بنیادی مقام دیں۔ نصاب میں اخلاقیات، برداشت، خدمتِ خلق، دیانت اور کردار سازی کے مضامین کو مؤثر انداز میں شامل کیا جائے۔ طلبہ کو صرف امتحان کے لیے نہیں بلکہ زندگی کے لیے تیار کیا جائے۔ تعلیم بغیر تربیت ایک بے سمت طاقت ہے، جبکہ تربیت بغیر تعلیم محدود اثر رکھتی ہے۔ جب دونوں ساتھ چلتے ہیں تو انسان علم والا بھی بنتا ہے اور باکردار بھی۔ یہی وہ امتزاج ہے جو فرد کو عظمت اور قوم کو ترقی عطا کرتا ہے۔ اس مسئلے کا حل صرف نصاب بدلنے میں نہیں بلکہ نظامِ تعلیم کی روح بدلنے میں ہے۔ ہمیں تعلیم کو انسان سازی سے جوڑنا ہوگا۔ اسکولوں میں اخلاقی تربیت، مباحثہ، سماجی خدمت، برداشت اور عملی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہوگا۔

تعلیم اگر انسان کو عاجزی، احترام، دیانت اور خدمت نہ سکھائے تو وہ صرف معلومات رہ جاتی ہے، تربیت نہیں بنتی۔ قومیں صرف پڑھے لکھے افراد سے نہیں بلکہ بااخلاق انسانوں سے بنتی ہیں۔ جب ہماری تعلیم کتاب سے نکل کر کردار تک پہنچے گی، تبھی ہمارے رویّے بہتر ہوں گے۔ تعلیم کے ساتھ اخلاقی تربیت بھی بہت ضروری ہے۔ آج ہمارے پاس جتنی بڑی ڈگریاں ہیں ہمارے رویے اتنے ہی خراب ہوتے جا رہے ہیں، اخلاقیات، برداشت، اختلافِ رائے کا احترام رخصت ہوتے جا رہے ہیں۔ معاشرہ پھول نہیں انگار بنتا جارہاہے۔ صرف پڑھا نہیں، باکردار انسان بھی بنیں۔ کیوں کہ تعلیم بغیر تربیت، ادھوار انسان بناتی ہے۔ جب کہ یہ بات اظہرمن الشمس ہے کہ اگر تعلیم کے ساتھ اسلامی تربیت بھی ہو تو پھر وہ قوم تیار ہوتی ہے جنہیں ستم کی آندھیاں بجھانہیں سکتیں۔

عابد ہاشمی

Abid Hashmi

عابد ہاشمی کے کالم دُنیا نیوز، سماء نیوز اور دیگر اخبارات میں شائع ہوتے ہیں۔ ان دِنوں آل جموں و کشمیر ادبی کونسل میں بطور آفس پریس سیکرٹری اور ان کے رسالہ صدائے ادب، میں بطور ایڈیٹر کام کر رہے ہیں۔