1. ہوم
  2. کالمز
  3. عابد ہاشمی
  4. یہ جبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے

یہ جبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے

جنگ کسی بھی مسئلہ کا حل نہیں ہوتی بلکہ یہ لحموں کی خطاء ہوتی ہے اور پھر انسان اس کی سزا صیوں کاٹتے ہیں۔ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی جب بھی عروج پر پہنچی ہے، خطے کے دیگر ممالک خصوصاً پاکستان کے لیے ایک نازک امتحان بن جاتی ہے۔ مہنگائی کی لہر عام آدمی کا جینا دوبھر کر دیتی ہے۔ معاشرہ بے چینی کا شکار ہوتا ہے۔ حالیہ جنگ بندی یا کشیدگی میں کمی کے تناظر میں اگر پاکستان کے کردار کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اسلام آباد نے ہمیشہ ایک ذمہ دار اور متوازن سفارتی پالیسی اپنانے کی کوشش کی ہے۔

پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی اصول یہ رہا ہے کہ وہ نہ صرف اپنے قومی مفادات کا تحفظ کرے بلکہ خطے میں امن و استحکام کے لیے بھی کردار ادا کرے۔ ایران کے ساتھ پاکستان کے گہرے تاریخی، ثقافتی اور سرحدی تعلقات ہیں، جبکہ امریکہ کے ساتھ اس کے اسٹریٹجک اور اقتصادی روابط بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان اکثر ان دونوں کے درمیان کشیدگی میں ایک"بیلنسنگ ایکٹ"کرتا نظر آتا ہے۔ دُنیا میں جب پاکستان کی امن پالیسی کو سراہا جارہا ہے وہاں ہی بھارت جو ازل سے امن کا دشمن ہے۔ اس کی پریشانی میں اضافہ ہوتا ہے۔ مودی کی امن دشمن پالیسی خطے کے امن کے لئے بڑا خطرہ ہے۔

جنگیں ہمیشہ تباہی لاتی ہیں۔ آج کا انسان ترقی کی بلند ترین منزلوں کو چھو رہا ہے۔ سائنس، ٹیکنالوجی اور معیشت کے میدان میں بے مثال کامیابیاں حاصل کی جا چکی ہیں، مگر اس سب کے باوجود ایک بنیادی سوال اپنی جگہ قائم ہے: کیا ہم واقعی ایک پُرامن دنیا میں جی رہے ہیں؟ بدقسمتی سے اس کا جواب نفی میں ہے۔ دُنیا کے مختلف خطوں میں جاری جنگیں، تنازعات اور طاقت کی کشمکش اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ انسان ابھی تک امن کے حقیقی راستے کو اختیار نہیں کر سکا۔ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ نئے مسائل کو جنم دیتی ہے۔ یہ نہ صرف انسانی جانوں کا ضیاع کرتی ہے بلکہ معیشتوں کو تباہ، معاشروں کو تقسیم اور آنے والی نسلوں کو خوف اور عدم تحفظ کے اندھیروں میں دھکیل دیتی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ ہر جنگ کے بعد نقصان ہی زیادہ ہوا ہے، فائدہ نہیں۔ چاہے وہ عالمی جنگیں ہوں یا علاقائی تنازعات، انسانیت کو صرف دکھ اور تباہی ہی نصیب ہوئی ہے۔ انسانی تاریخ جنگوں سے بھری پڑی ہے۔ قدیم زمانوں سے لے کر جدید دور تک، قوموں اور ریاستوں نے اپنے مفادات کے حصول، طاقت کے اظہار اور نظریاتی اختلافات کی بنیاد پر جنگیں لڑی ہیں۔ بظاہر جنگ کا اختتام کسی معاہدے یا فتح و شکست پر ہو جاتا ہے، لیکن اس کے اثرات طویل عرصے تک معاشروں، معیشتوں اور انسانی ذہنوں پر قائم رہتے ہیں۔ یہی اثرات "تادیر اثرات"کہلاتے ہیں، جو نسلوں تک منتقل ہوتے رہتے ہیں۔

سب سے پہلے اگر انسانی پہلو کا جائزہ لیا جائے تو جنگیں بے شمار قیمتی جانوں کے ضیاع کا سبب بنتی ہیں۔ ہزاروں لوگ مارے جاتے ہیں، جبکہ لاکھوں زخمی اور معذور ہو جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ، جنگ سے متاثرہ افراد ذہنی دباؤ، خوف اور عدم تحفظ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہ نفسیاتی اثرات نہ صرف متاثرہ افراد بلکہ ان کی آنے والی نسلوں تک منتقل ہوتے ہیں، جس سے معاشرتی توازن بگڑ جاتا ہے۔

معاشی طور پر بھی جنگیں تباہ کن ثابت ہوتی ہیں۔ انفراسٹرکچر کی تباہی، صنعتوں کا زوال اور تجارتی سرگرمیوں میں رکاوٹ ایک ملک کی معیشت کو کئی دہائیوں پیچھے دھکیل دیتی ہے۔ جنگ کے بعد بحالی کا عمل نہایت سست اور مہنگا ہوتا ہے، جس کے لیے بھاری وسائل درکار ہوتے ہیں۔ اس دوران مہنگائی، بے روزگاری اور غربت میں اضافہ ہوتا ہے، جو عوام کی زندگی کو مزید مشکل بنا دیتا ہے۔

سماجی سطح پر جنگیں عدم استحکام اور انتشار کو جنم دیتی ہیں۔ لوگ اپنے گھروں سے بے گھر ہو کر پناہ گزین بن جاتے ہیں، جس سے نہ صرف ان کی شناخت متاثر ہوتی ہے بلکہ میزبان معاشروں پر بھی بوجھ بڑھتا ہے۔ ثقافتی ورثہ، تعلیمی نظام اور معاشرتی اقدار بھی جنگ کی نذر ہو جاتے ہیں، جس سے ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔

سیاسی اعتبار سے جنگیں اکثر نئے تنازعات کو جنم دیتی ہیں۔ اگرچہ کسی جنگ کا اختتام ایک معاہدے پر ہوتا ہے، لیکن دلوں میں موجود نفرت اور بداعتمادی مستقبل میں مزید کشیدگی کا باعث بنتی ہے۔ اس طرح امن قائم ہونے کے باوجود ایک غیر یقینی کیفیت برقرار رہتی ہے۔ امن صرف جنگ کی غیر موجودگی کا نام نہیں، بلکہ یہ انصاف، برداشت، مکالمے اور باہمی احترام کا تقاضا کرتا ہے۔ جب تک دُنیا کے طاقتور ممالک اپنی بالادستی کی خواہش کو ترک کرکے برابری اور انصاف کی بنیاد پر فیصلے نہیں کریں گے، تب تک پائیدار امن کا خواب ادھورا رہے گا۔ اسی طرح کمزور اور ترقی پذیر ممالک کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے اندرونی اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کریں، نہ کہ تشدد اور طاقت کے استعمال سے۔ تشدد اور طاقت کے استعمال سے امن نہیں بلکہ نفرتیں، تباہی ہوتی ہے۔

میڈیا اور تعلیمی اداروں کا بھی اس حوالے سے اہم کردار ہے۔ اگر ہم نئی نسل کو برداشت، رواداری اور انسانیت کا درس دیں، تو وہ ایک بہتر اور پُرامن دنیا کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔ نفرت اور تعصب کے بیج بو کر ہم کبھی امن کی فصل نہیں کاٹ سکتے۔ حالات کا تقاضا ہے کہ عالمی برادری متحد ہو کر امن کے قیام کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے۔ ہتھیاروں کی دوڑ کو روکنا، مذاکرات کو فروغ دینا اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ہر فرد کو بھی اپنی سطح پر امن کے فروغ میں کردار ادا کرنا ہوگا، کیونکہ بڑی تبدیلی ہمیشہ چھوٹے اقدامات سے شروع ہوتی ہے۔

آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ جنگیں کسی بھی مسئلے کا مستقل حل نہیں ہوتیں۔ ان کے تادیر اثرات انسانیت کے لیے ایک مستقل چیلنج بنے رہتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی سطح پر تنازعات کو پرامن طریقوں سے حل کیا جائے اور مذاکرات کو ترجیح دی جائے تاکہ آنے والی نسلیں ایک محفوظ اور خوشحال دنیا میں زندگی گزار سکیں۔ دُنیا کو جنگ نہیں، امن چاہیے۔ جنگ لمحوں کی خطا اور صدیوں کی سزا مانی جاتیں ہیں۔

عابد ہاشمی

Abid Hashmi

عابد ہاشمی کے کالم دُنیا نیوز، سماء نیوز اور دیگر اخبارات میں شائع ہوتے ہیں۔ ان دِنوں آل جموں و کشمیر ادبی کونسل میں بطور آفس پریس سیکرٹری اور ان کے رسالہ صدائے ادب، میں بطور ایڈیٹر کام کر رہے ہیں۔