1. ہوم
  2. کالمز
  3. فرحت عباس شاہ
  4. جنابِ مجید نظامی، سالگرہ مبارک ہو

جنابِ مجید نظامی، سالگرہ مبارک ہو

وقت ایسا آگیا ہے کہ آج ہمیں بار بار یہ یاد دلانے کی ضرورت ہے، صحافت محض اطلاعات کی ترسیل کا نام نہیں بلکہ سچائی کی حفاظت، اجتماعی شعور کی تربیت اور قوم کی فکری رہنمائی کا فریضہ ہے۔ آج جب ہم مجید نظامی صاحب کی سالگرہ کے حوالے سے انھیں یاد کرتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ ہم کسی ایک شخصیت کو نہیں بلکہ ایک پورے نظریاتی زمانے کو خراجِ عقیدت پیش کر رہے ہیں۔

وہ صرف ایک مدیر نہیں تھے بلکہ ایک ایسی فکری روایت کے امین تھے جس میں قلم ضمیر کا ترجمان ہوتا تھا، مفاد کا نہیں اور اخبار ایک ادارہ نہیں بلکہ ایک مقصد ہوا کرتا تھا۔ ، نوائے وقت نے ہمیشہ ایک نظریاتی صحافت کی نمائندگی کی اور اس روایت کو استقامت کے ساتھ آگے بڑھانے والوں میں مجید نظامی کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ انھوں نے اپنی زندگی اس تصور کے لیے وقف کر دی جس کی بنیاد برصغیر کے مسلمانوں نے اپنے خون اور قربانیوں سے رکھی تھی۔ وہ قائداعظم محمد علی جناح کے وژن، علامہ اقبال کے خواب اور تحریک پاکستان کے نصب العین کو محض حوالہ نہیں بلکہ عملی جدوجہد کا حصہ سمجھتے تھے۔

سانگلہ ہل میں 3 اپریل 1928ء کو پیدا ہونے والے مجید نظامی نے اپنی ابتدائی زندگی ہی میں یہ ثابت کر دیا تھا کہ وہ محض زندگی بسر کرنے والے نہیں بلکہ تاریخ کا حصہ بننے والے انسان ہیں۔ اسلامیہ کالج لاہور کے زمانۂ طالب علمی میں تحریک پاکستان میں ان کی سرگرم شرکت اور 1946ء کے انتخابات میں ان کا کردار اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ ان کی وابستگی پاکستان سے جذباتی نہیں بلکہ شعوری اور نظریاتی تھی۔

مجاہد پاکستان، کی حیثیت سے ان کا اعتراف دراصل اسی عزم کا اظہار تھا۔ جب انھوں نے اپنے بڑے بھائی حمید نظامی کے بعد نوائے وقت کی ذمہ داری سنبھالی تو یہ صرف ایک اخبار کی ادارت نہیں تھی بلکہ ایک نظریاتی امانت اور صف صحافت کی امامت کی حفاظت تھی۔ انھوں نے اس ذمہ داری کو نبھاتے ہوئے، نوائے وقت کو ایک ایسی آواز بنا دیا جو قوم کے جذبات، احساسات، خدشات، اس کے مسائل اور اس کے نظریاتی تشخص کی بھرپور ترجمانی کرتی تھی۔ مجید نظامی کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو ان کی حق صداقت کی خو اور جرأتِ اظہار تھی۔ وہ بلند آہنگ مقرر نہیں تھے مگر ان کے الفاظ میں ایسی کاٹ ہوتی تھی جو بڑے سے بڑے مخالف کو سوچنے پر مجبور کر دیتی تھی۔

وہ دباؤ کو خاطر میں نہیں لاتے تھے اور نہ ہی کسی مصلحت کو اپنے اصولوں کے درمیان آنے دیتے تھے۔ ان کے نزدیک صحافت کا پہلا اور آخری تقاضا دیانت و سچائی تھا اور وہ اس اصول پر ہمیشہ قائم رہے اور کبھی متزلزل نہیں ہوئے۔ ان کی سالگرہ ہمیں اس بات کی یاد دہانی کراتی ہے کہ انھوں نے ہر دور میں حکمرانوں کو آئینہ دکھایا۔ وہ اقتدار کے ایوانوں کے سامنے جھکنے کی بجائے انھیں ان کی ذمہ داریوں کا احساس دلاتے رہے۔ ان کے نزدیک پاکستان محض ایک جغرافیائی اکائی نہیں بلکہ ایک نظریاتی ریاست تھی، جسے اس کی اصل روح کے مطابق چلانا ناگزیر تھا۔

مجید نظامی کی صحافت کا ایک اہم پہلو یہ تھا کہ وہ ہمیشہ پاکستان کی فکری بنیادوں کو اجاگر کرتے رہے۔ وہ قائداعظم، علامہ اقبال اور مادرِ ملت کے افکار کو زندہ رکھنے کے لیے کوشاں رہے اور یہی پیغام دیتے رہے کہ اگر پاکستان کو مضبوط بنانا ہے تو اسے اپنی نظریاتی جڑوں سے جڑا رہنا ہوگا۔ قومی یکجہتی کے حوالے سے بھی ان کا کردار قابلِ ذکر ہے۔ انہوں نے ہمیشہ اتحاد اور ہم آہنگی کو فروغ دیا اور ہر اس رجحان کی مخالفت کی جو قوم کو تقسیم کی طرف لے جاتا تھا۔

1971ء کے مشکل دور میں بھی انھوں نے حق گوئی کا راستہ اختیار کیا اور اس بات پر زور دیا کہ ناانصافی کسی بھی ریاست کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ ان کی صحافت میں اسلامی اقدار کا عنصر بھی نمایاں تھا۔ انھوں نے، نوائے وقت کو ایک ایسا پلیٹ فارم بنایا جہاں مذہبی، اخلاقی اور روحانی موضوعات کو اہمیت دی جاتی تھی۔ ان کا یقین تھا کہ پاکستان کی اصل پہچان اس کی اسلامی اساس ہے اور اسے اسی بنیاد پر آگے بڑھنا چاہیے۔

آج ان کی سالگرہ کے موقع پر یہ سوال خود بخود ذہن میں ابھرتا ہے کہ کیا ہم نے ان کی قائم کردہ روایات کو برقرار رکھا ہے؟ کیا آج کی صحافت میں وہی جرأت، وہی دیانت اور وہی نظریاتی وابستگی موجود ہے؟ یا ہم نے اس عظیم پیشے کو محض ایک کاروبار میں بدل دیا ہے؟ ان کی سالگرہ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ قومیں محض ترقیاتی منصوبوں سے نہیں بلکہ کردار، نظریہ اور سچائی سے زندہ رہتی ہیں اور جب تک اس ملک میں کوئی ایک بھی آواز ایسی موجود ہے جو حق کہنے کا حوصلہ رکھتی ہے، تب تک مجید نظامی کا نام اور کام زندہ رہے گا۔ ایک چراغ کی طرح، جو اندھیروں میں بھی راستہ دکھاتا ہے۔