1. ہوم
  2. کالمز
  3. محمد نسیم رنزوریار
  4. عالمی جبر، سازش اور منافقت کا مکروہ رقص

عالمی جبر، سازش اور منافقت کا مکروہ رقص

عالمی سیاست کے اُفق پر جب ہم امریکہ، اسرائیل اور ہندوستان کے گٹھ جوڑ کا جائزہ لیتے ہیں تو ایک ایسی خوفناک اور لرزہ خیز تصویر سامنے آتی ہے جس کی بنیادیں انسانی خون، ریاستی دہشت گردی اور تزویراتی مفادات کی بھینٹ چڑھے معصوم شہریوں کی آہوں پر رکھی گئی ہیں۔ یہ محض تین ممالک کا اتحاد نہیں بلکہ ایک ایسی "خونی مثلث" ہے جس نے عالمی امن کو یرغمال بنا رکھا ہے اور بین الاقوامی قوانین کو اپنے بوٹوں تلے روندنا اپنا وطیرہ بنا لیا ہے۔

اس تکون کا سب سے بڑا مہرہ امریکہ ہے جو بظاہر انسانی حقوق اور جمہوریت کا راگ الاپتا ہے لیکن پسِ پردہ وہ اسرائیل کے صیہونی عزائم اور ہندوستان کے ہندوتوا نظریے کی پشت پناہی کرکے دنیا کو تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر دھکیل رہا ہے۔ اسرائیل نے مشرقِ وسطیٰ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کو اپنا حق سمجھ لیا ہے اور امریکی ویٹو کی طاقت اسے ہر عالمی جوابدہی سے آزاد رکھتی ہے، جبکہ دوسری طرف ہندوستان نے کشمیر کو ایک کھلی جیل میں تبدیل کر دیا ہے جہاں جبر و استبداد کی داستانیں سن کر انسانیت کا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔

ان تینوں طاقتوں کے درمیان ایک ایسا غیر اعلانیہ معاہدہ طے پا چکا ہے جس کے تحت ایک دوسرے کے مظالم پر خاموشی اختیار کرنا اور عالمی فورمز پر ایک دوسرے کے مفادات کا تحفظ کرنا اولین ترجیح ہے۔ امریکہ کی جدید ٹیکنالوجی، اسرائیل کی جاسوسی کی مہارت (جیسے پیگاسس سافٹ ویئر) اور ہندوستان کی وسیع منڈی اور انسانی قوت مل کر ایک ایسا شکنجہ تیار کر چکے ہیں جس کا مقصد مسلم امہ اور ابھرتی ہوئی دیگر عالمی طاقتوں کو زیرِ نگیں رکھنا ہے۔

غزہ کی گلیوں میں گرنے والے بم ہوں یا سری نگر کے چوراہوں پر بہنے والا لہو، ان سب کے پیچھے ایک ہی سوچ کارفرما ہے کہ طاقت کے زور پر جغرافیائی اور نظریاتی حدود کو تبدیل کیا جائے۔ یہ سازش اتنی گہری ہے کہ اس نے اقوامِ متحدہ جیسے اداروں کو مفلوج کرکے رکھ دیا ہے جہاں قراردادیں تو منظور ہوتی ہیں لیکن ان پر عملدرآمد صرف کمزور ممالک کے خلاف ہوتا ہے، جبکہ اس تثلیث کے لیے کوئی قانون نہیں ہے۔

ہندوستان میں اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت اور مودی سرکار کے فاشسٹ اقدامات کو مغربی دنیا اس لیے نظر انداز کرتی ہے کیونکہ اسے چین کے خلاف ہندوستان کو ایک پیادے کے طور پر استعمال کرنا ہے۔ اسی طرح اسرائیل کو مشرقِ وسطیٰ میں ایک ایسا فوجی اڈہ بنا دیا گیا ہے جو پورے خطے کے وسائل پر قبضے اور عدم استحکام کا ذریعہ ہے۔ یہ عجیب و غریب لیکن حقیقت پر مبنی ترتیب دکھاتی ہے کہ کس طرح اخلاقیات کو مفادات کی بھینٹ چڑھا کر ایک نیا عالمی نظام مسلط کیا جا رہا ہے جس میں عدل و انصاف نام کی کوئی شے موجود نہیں۔

ان ممالک کے خفیہ اداروں کا گٹھ جوڑ سائبر وارفیئر سے لے کر زمینی بغاوتوں تک پھیلا ہوا ہے، جہاں "دہشت گردی کے خلاف جنگ" کے خوبصورت عنوان تلے دراصل آزادی کی تحریکوں کو کچلا جاتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی ظلم حد سے بڑھتا ہے تو وہ مٹ جاتا ہے، لیکن موجودہ دور میں ان تینوں طاقتوں کی عیاری نے حق اور باطل کے درمیان لکیر کو اس قدر دھندلا کر دیا ہے کہ عام انسان پروپیگنڈے کے جال میں پھنس کر رہ گیا ہے۔ میڈیاء کی طاقت کو استعمال کرتے ہوئے مظلوم کو ظالم اور غاصب کو محافظ بنا کر پیش کیا جاتا ہے، جو کہ دورِ حاضر کا سب سے بڑا المیہ ہے۔

میرے مطابق یہ تحریر اس جبر کے خلاف ایک ایسی دستاویزی آواز ہے جو بین الاقوامی معیار کے مطابق ان حقائق کو بے نقاب کرتی ہے جنہیں سفارتی مصلحتوں کی چادر میں چھپانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ آخر کار، یہ عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس تزویراتی ظلم کے خلاف کھڑی ہو، ورنہ تاریخ ان کے سکوت کو بھی اسی جرم کا حصہ شمار کرے گی جو آج فلسطین اور کشمیر کی وادیوں میں دہرایا جا رہا ہے۔ اس عالمی سازش کا مقابلہ صرف اسی صورت ممکن ہے جب دنیا بھر کے مظلوم طبقات متحد ہو کر اس منافقانہ نظام کو چیلنج کریں اور ایک ایسے توازنِ قوت کی بنیاد رکھیں جہاں انسانی زندگی کی قیمت اس کے پاسپورٹ یا مذہب سے طے نہ ہو۔