1. ہوم
  2. کالمز
  3. محمد نسیم رنزوریار
  4. پاکستان میں معاشی بحران اور سرحدی سیاست

پاکستان میں معاشی بحران اور سرحدی سیاست

پاکستان اس وقت اپنی تاریخ کے ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں معاشی استحکام کی جدوجہد، سرحدی کشیدگی اور بڑھتی ہوئے سماجی عدم مساوات نے ملک کے ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ معیشت کی نبض اس وقت سست روی کا شکار ہے جس کی بڑی وجہ پالیسیوں میں تسلسل کا فقدان اور عالمی مالیاتی اداروں کی کڑی شرائط ہیں۔ جب ہم عالمی معیار کے مطابق پاکستانی معیشت کا موازنہ کرتے ہیں تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ افراطِ زر کی شرح خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہو چکی ہے، جس نے عام آدمی کی قوتِ خرید کو مکمل طور پر مفلوج کر دیا ہے۔

مہنگائی کا یہ طوفان محض عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا نتیجہ نہیں بلکہ اس میں روپے کی قدر میں مسلسل گراوٹ اور داخلی پیداواری صلاحیتوں میں کمی کا بھی بڑا ہاتھ ہے۔ پاکستان کی معاشی بدحالی میں ایک اہم عنصر سرحدات کی بندش اور پڑوسی ممالک کے ساتھ تجارتی تعطل ہے۔ افغانستان اور ایران کے ساتھ لگنے والی سرحدیں نہ صرف سیکیورٹی کے لحاظ سے حساس ہیں بلکہ یہ معاشی سرگرمیوں کی شہ رگ بھی تصور کی جاتی ہیں۔

سیکیورٹی خدشات کی بنا پر جب سرحدیں بند کی جاتی ہیں یا تجارتی پابندیاں عائد ہوتی ہیں تو اس کا براہِ راست اثر مقامی تاجروں اور روزانہ کی بنیاد پر کمانے والے طبقے پر پڑتا ہے۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے سرحدی اضلاع میں معیشت کا بڑا حصہ سرحد پار تجارت سے جڑا ہے، لہٰذا سرحدوں کی بندش سے وہاں بے روزگاری کی لہر پیدا ہوتی ہے جو بالآخر سماجی بے چینی اور جرائم کی شرح میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔

عالمی سطح پر یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ علاقائی تجارت کے بغیر کوئی بھی ملک پائیدار ترقی حاصل نہیں کر سکتا، مگر پاکستان کے لیے سیکیورٹی اور معیشت کے درمیان توازن برقرار رکھنا ایک بہت بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ بے روزگاری کا مسئلہ پاکستان کے نوجوانوں کے لیے ایک ڈراؤنا خواب بن چکا ہے۔ پاکستان کی آبادی کا ایک بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے، جسے "ڈیموگرافک ڈیویڈنڈ" کہا جاتا ہے، لیکن مناسب روزگار کے مواقع نہ ہونے کی وجہ سے یہی اثاثہ اب ایک بوجھ کی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ صنعتی شعبے کی تنزلی، بجلی کے نرخوں میں بے پناہ اضافہ اور ٹیکسوں کی بھرمار نے کارخانوں کو تالے لگانے پر مجبور کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں لاکھوں ہنرمند افراد سڑکوں پر آ گئے ہیں۔ بے روزگاری کے ساتھ جب مہنگائی کا امتزاج ملتا ہے تو یہ "سٹگفلیشن" کی وہ بدترین شکل اختیار کر لیتا ہے جہاں معاشی نمو رک جاتی ہے اور قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگتی ہیں۔

اس صورتحال نے ملک میں "برین ڈرین" یعنی قابل افراد کے ملک چھوڑ کر جانے کے رجحان کو مہمیز دی ہے، جو طویل مدت میں قومی ترقی کے لیے زہرِ قاتل ہے۔ مہنگائی کی لہر نے معاشرے کے سفید پوش طبقے کو خطِ غربت سے نیچے دھکیل دیا ہے۔ بنیادی اشیائے خوردونوش، ادویات اور تعلیمی اخراجات اب ایک عام شہری کی پہنچ سے باہر ہوتے جا رہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے سبسڈی کے خاتمے اور بالواسطہ ٹیکسوں کے نفاذ نے غریب پر بوجھ مزید بڑھا دیا ہے۔

معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ جب تک پاکستان اپنی برآمدات میں اضافہ نہیں کرتا اور زراعت و ٹیکنالوجی کے شعبوں میں جدید اصلاحات نہیں لاتا، تب تک یہ بحران ختم ہونا مشکل ہے۔ زراعت، جو کہ ہماری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، موسمیاتی تبدیلیوں اور پانی کی قلت کی وجہ سے شدید متاثر ہوئی ہے، جس سے ملک میں غذائی قلت کے خدشات پیدا ہو رہے ہیں۔

مختصراً یہ کہ پاکستان کو اس وقت کثیر الجہتی چیلنجز کا سامنا ہے۔ معیشت کو سہارا دینے کے لیے محض قرضوں پر انحصار کرنے کے بجائے ڈھانچہ جاتی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ سرحدوں پر امن اور تجارت کا فروغ، سیاسی استحکام اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی وہ کلیدی عوامل ہیں جو ملک کو اس دلدل سے نکال سکتے ہیں۔ عوام کی فلاح و بہبود کے لیے ضروری ہے کہ پالیسی ساز قلیل مدتی سیاسی مفادات کے بجائے طویل مدتی معاشی روڈ میپ تشکیل دیں تاکہ بے روزگاری اور مہنگائی کے جن کو بوتل میں بند کیا جا سکے اور پاکستان ایک بار پھر عالمی سطح پر ایک مستحکم معیشت کے طور پر ابھر سکے۔