آج عمران خان کو جیل میں ایک ہزار دن پورے ہو گئے ہیں۔ ایک لیڈر کو اکسا کر، غلط مشورے دے کر، اکیلا چھوڑ کر مفرور مشیران آج کل کیا کر رہے ہیں؟
شہباز گل، جو عمران خان کے نام کے صدقے پر یوٹیوب کے باہر گلہ رکھ کر چندہ کما رہا ہے، وہی گل، جو دو چھتر کھا کر عمران خان کے سارے راز باجوہ کو دے آیا، اس کے بعد بزدلوں کی طرح پاکستان سے بھاگ گیا، اس نے حال ہی میں شکاگو میں دو گیس اسٹیشن، یعنی پٹرول پمپ، خرید لیے ہیں، لیکن عمران کے لیے مشورہ ہے کہ "ڈٹا رہے"۔
دوسرے نمبر پر عمران ریاض خان ہے، جو اس فوج کو، جس نے انڈیا کے رافیل طیاروں کو سرحد میں نہیں گھسنے دیا، "دھوکا دے کر" سرحد عبور کر گیا۔ اب لندن میں پاؤنڈز میں مال بنا رہا ہے اور عمران خان کو تلقین کر رہا ہے کہ میں بھاگ آیا ہوں، تم نہ بھاگنا، زبان بھی ماشاءاللہ دوبارہ ایک دم کراری ہوگئی ہے۔
صابر شاکر لندن میں بیٹھ کر یوٹیوب کی کمائی کھا رہا ہے۔
جوان طوفان، وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی، حکومت کے مزے لے رہا ہے۔ کے پی کے میں عمران خان کی وجہ سے کام بند ہے، لیکن کرپشن بند نہیں ہوئی۔
وسیم اکرم پلس، ع سے عثمان بزدار، جس نے پنجاب کا بیڑہ غرق کیا، عمران کی حکومت کا بیڑہ غرق کیا اور اب وہ یوسف رضا گیلانی کی گاڑی چلا رہا ہے۔
عمران خان کے نام پر پیسے اکٹھے کرکے ٹرمپ کو جتوانے والوں نے کیا کمال کیا ہے کہ خود رچرڈ گرینل سے کاروباری فائدے لے لیے ہیں، جبکہ ٹرمپ کے منہ پر ہر وقت فیلڈ مارشل عاصم منیر کا نام تسبیح کی طرح رہتا ہے۔ کیا کسی کو زیرو پوائنٹ زیرو فیصد بھی امید ہے کہ جب تک ٹرمپ اگلے ڈھائی سال تک رہے گا، عمران خان کا نام بھی امریکہ کے طاقت کے ایوانوں میں لیا جائے گا؟
کتنی لمبی فہرست ہے، کس کس کا نام لیں؟
کیا ہی کمال کا بندہ تھا عمران خان اور کیا ہی لیچڑ جونکیں اسے پڑ گئیں۔ آج بھی وہ جونکیں اسے کھا رہی ہیں۔ یہ جونکیں اس کی حکومت میں اسے کھاتی رہیں اور وہ کہتا رہا کہ مجھے نکمی ٹیم ملی ہے۔ آج ہمیں اس کی بات کا یقین ہوگیا ہے کہ واقعی نکمے لوگ تھے اور اب اس کے جیل جانے کے بعد یہ اس کا خون نوچ رہے ہیں۔ جونکیں تو انسان کا خون تب ہی چوس سکتی ہیں جب اس کے جسم سے لپٹی ہوئی ہوں، لیکن یہ ڈیجیٹل جونکیں ہیں، یہ دور بیٹھ کر اس بندے کا خون نوچ رہی ہیں۔