1. ہوم
  2. کالمز
  3. سعدیہ بشیر
  4. چندے کے صندوق سے نکلتی پرچیاں

چندے کے صندوق سے نکلتی پرچیاں

اس بار مولوی صاحب نے مسجد میں چندہ کا باکس کھولا تو اس میں سے بجلی کے بل، سکول کی فیس اور دوائی کی پرچیاں نکل آئیں۔ پہلے پہل یہ ایک طنزیہ جملہ لگتا ہے۔ مگر درحقیقت یہ آج کے عام آدمی کی پوری زندگی کا خلاصہ ہے۔ مہنگائی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ تنخواہ دار طبقہ مہینے کے پہلے ہفتے ہی حساب کتاب میں اُلجھ جاتا ہے۔ آج حالات یہاں تک پہنچ چکے ہیں کہ عبادت گاہ کے چندے میں بھی لوگوں کی پریشانیاں جمع ہو رہی ہیں۔ بجلی کے بل، بچوں کی فیسیں، دوائیوں کے اخراجات اور روزمرہ ضروریات کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں، مگر ملازمین کی تنخواہیں وہیں کھڑی ہیں۔ لیوانکیشمنٹ جیسی جائز مراعات بھی سوالیہ نشان بنی ہوئی ہیں لیکن ان مسائل پر بات کرنے کے بجائے توجہ کہیں اور موڑ دی جاتی ہے جبکہ مہنگائی کے اعدادوشمار ہر روز ترقی کی نئی کہانیاں سناتے ہیں۔

تعلیم کے شعبے میں تو گویا ہر خرابی کا ذمہ دار صرف استاد ہے۔ کبھی کہا جاتا ہے کہ استاد قابل نہیں۔ کبھی کہا جاتا ہے کہ تعلیمی معیار اساتذہ کی وجہ سے گرا ہے اور کبھی پوری نسل کی ناکامی کا بوجھ استاد کے کندھوں پر ڈال دیا جاتا ہے، مگر کیا کبھی کسی نے یہ سوال کیا کہ آخر وہ مشیر کس قابل ہیں جو برسوں سے تعلیم پر مشورے دے رہے ہیں۔ وہ کوآرڈینیٹر کس بنیاد پر نظامِ تعلیم کی باگ ڈور سنبھالے ہوئے ہیں۔ ان کا ویژن کیا ہے۔ ان کی کامیابیوں کا پیمانہ کیا ہے اور وہ کون سی انقلابی تبدیلی ہے جو ان کی پالیسیوں کے نتیجے میں تعلیمی اداروں میں نظر آ رہی ہے۔

کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ سرکاری تعلیمی ادارے زبوں حالی کا شکار کیوں ہیں۔ کہیں بجٹ نہیں، کہیں بنیادی سہولیات نہیں، کہیں عمارتیں ناکافی ہیں اور کہیں اساتذہ ہی موجود نہیں۔ کئی کالج ایسے ہیں جہاں ایک ایک مضمون کے لئے استاد دستیاب نہیں جبکہ دوسری طرف اساتذہ کو سرپلس قرار دے کر ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جا رہا ہے۔ ایک ادارے میں ضرورت سے زیادہ عملہ ہے اور دوسرا ادارہ ایک استاد کے انتظار میں بیٹھا ہے۔ پھر حیرانی کا اظہار کیا جاتا ہے کہ نتائج بہتر کیوں نہیں آ رہے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ جس ضلع یا علاقے کا امیدوار ہے۔ کم از کم ایک طویل مدت تک اس کی تعیناتی اسی علاقے میں رکھی جائے تاکہ دور دراز علاقوں کے طلبہ بھی معیاری تعلیم سے محروم نہ رہیں لیکن ہمارے ہاں صورتحال یہ ہے کہ پورے پنجاب کی نوکریاں چند بڑے شہروں خصوصاً لاہور کے گرد گھومتی نظر آتی ہیں اگر سب نے لاہور ہی میں نوکری کرنی ہے تو باقی اضلاع اور وہاں کے طلبہ کا قصور کیا ہے۔

پھر "سکول آف ایمیننس"، "کالج آف ایمیننس" اور "سکول آف فیوچر"جیسے خوش نما عنوانات سامنے آتے ہیں۔ نام سن کر یوں لگتا ہے جیسے تعلیمی انقلاب دروازے پر دستک دے رہا ہو مگر سوال یہ ہے کہ جو لوگ اپنے موجودہ اسکول اور کالج بہتر انداز میں نہیں چلا سکے جو ادارے وسائل کی کمی، ناقص منصوبہ بندی اور انتظامی کمزوریوں کا شکار ہیں۔ وہ اچانک ایمیننس اور فیوچر کے خواب کیسے پورے کریں گے جو سکول سنبھالے نہیں جا سکے اور آؤٹ سورس کیے گئے۔ زیادہ تر سکولوں کی عمارات مخدوش حالت میں ہیں۔ چار دیواری غائب۔ بجلی غائب۔ فرش بیٹھے ہوئے۔ رہی سہی کسر سیلاب نے پوری کر دی تھی۔ اب وہی نظام نئی تختیاں لگا کر کامیاب کیسے ہو جائے گا۔ بقول وزیر صاحب وہ تنخواہیں کم کرکے اچھے نتائج حاصل کریں گے اور اگر "سکول آف فیوچر" بھی نجی مافیا کے حوالے کرکے ہی چلانے ہیں۔ تو پھر ویژن کہاں ہے۔

اگر سرکاری تعلیم کا مستقبل بھی پرائیویٹائزیشن ہے تو پھر سوال یہ بنتا ہے کہ حکومت کا اصل مقصد سرکاری نظام کو مضبوط کرنا ہے یا اسے ناکام ثابت کرنا۔ اصل کامیابی کسی اچھے ادارے کو نجی شعبے کے حوالے کرنا نہیں، بلکہ کمزور سرکاری ادارے کو وسائل، اساتذہ اور مؤثر پالیسی کے ذریعے ایک مثالی ادارہ بنانا ہے۔ عوام کو عمارتوں کے نئے نام نہیں چاہئے۔ انہیں معیاری تعلیم چاہئے۔ طلبہ کو اشتہارات نہیں۔ کلاس روم میں استاد چاہئے۔ اساتذہ کو الزامات نہیں۔ اعتماد اور سہولیات چاہئیں اور ملازمین کو تقریریں نہیں۔ ان کی محنت کا جائز صلہ چاہئے۔

مسجد کے چندے کے صندوق سے نکلنے والی پرچیاں دراصل اسی معاشرے کی اجتماعی فریاد ہیں۔ ان پرچیوں میں بجلی کے بل بھی ہیں۔ دوائیوں کے اخراجات بھی، بچوں کی فیسیں بھی اور ان سرکاری ملازمین کی خاموش آہیں بھی جن کی تنخواہیں مہنگائی کے سامنے بے بس ہو چکی ہیں۔ ان پرچیوں میں ان طلبہ کی محرومیاں بھی درج ہیں جو استاد کے انتظار میں ہیں اور ان اساتذہ کے سوال بھی جو برسوں سے کٹہرے میں کھڑے ہیں۔ شاید اب وقت آ گیا ہے کہ استاد سے یہ پوچھنے کے بجائے کہ وہ کس قابل ہے۔ ان لوگوں سے پوچھا جائے جو برسوں سے نظام چلا رہے ہیں کہ آخر وہ کس قابل ہیں۔ کیونکہ چندے کے صندوق سے نکلنے والی پرچیاں ہمیں یہی بتا رہی ہیں کہ مسئلہ کلاس روم میں کھڑے استاد کا نہیں بلکہ ان پالیسیوں کا ہے جنہوں نے عام آدمی کی زندگی اور سرکاری اداروں دونوں کو ایک ایسی چکی میں ڈال دیا ہے جہاں سے روز نئی پرچیاں نکلتی ہیں مگر مسائل کا حل صرف دوسروں کے کاندھوں پہ رکھنا فرض ٹھہرا ہے۔