جب شیریں گل نے بڑھیا خوری جان، کے ہاتھ میں تہہ کیا ہوا کپڑا دیکھا تو اس کے اعصاب تن گئے۔ بڑھیا نے نظر اٹھائے بغیر لباس کمرے کے کونے میں پڑی کرسی پر رکھ دیا۔ شیریں گل نے یہ لباس اس سے پہلے بھی کچھ عورتوں کو پہنے دیکھا تھا، وہ جانتی تھی کہ اس کی آستینیں لمبی اور گلا اونچا تھا۔ اسے یاد تھا کہ یہ لباس اُن کے ٹخنوں تک آتا تھا۔
"بعد نمازِ پیشین کالیپڑے بدل لینا"۔ خوری جان نے لباس پر نظریں ٹکائے ہوئے کہا۔
خوری جان کے پیچھے دو عورتیں کھڑی تھیں۔ ایک چائے کی ٹرے تھامے اور دوسری کے ہاتھ میں تازہ پانی کا مٹکا تھا۔
"گر غسل کول غواړی، نو پانی کا ایک اور متکی بھی درلیږم!"
وہ اس کی شادی کا دن تھا، جب ہر کوئی ایسے ہی کام ہی کر رہا تھا۔
کُنجِ اِنزوا ایک پُر رونق کمرے میں بدل گیا تھا۔ بہنیں واری واری جا رہی تھیں۔ ہیئر پن اور کانوں کی بالیوں کے میل ملاپ کی باتیں تھیں۔ لپ اسٹک کے رنگوں پر بحث تھی۔ اس کے بالوں کو ایک مدور پن تھامے تھا۔ صراحی دار گردن سے بھاری سینے تک لٹکتا موتیوں کا ہار دل کے ساتھ دھک دھک کر رہا تھا۔ سہرے کے پھول دل کی قربان گاہ پر نچھاور کیے جانے کے لیے تیار تھے۔ سب اس پر پیار نچھاور کر رہی تھیں۔ اس دن بھی دروازے پر کڑا پہرا تھا، چچازاد بہن مریم کا، تاکہ چھوٹے بچوں کو اندر گھس کر دلہن کی ایک جھلک دیکھنے سے روکا جا سکے۔
"تم پہلے واش روم سے ہو آؤ، لباس پہننے کے بعد یہ مشکل ہوگا"۔
"کیا؟"
ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ خوری جان کے چہرے پر رحم کے جذبات امڈ آئے تھے۔
"اچھا ہوگا، تم ابھی غسل خانے سے ہو آؤ"۔
قدرت کا بلاوا ٹھکرایا نہیں جا سکتا۔ اس کا مشورہ ٹھیک تھا۔
جب وہ واش روم کی سیٹ پر بیٹھی تو مریم نے زمین پر گھسٹتے فراک کو اپنی بانہوں سے سہارا دیا ہوا تھا۔ شیریں گل کے دونوں ہاتھ اوپر اٹھے ہوئے، انگلیاں پھیلی اور ناخنوں پر سرخ نیل پالش سوکھنے کا انتظار کر رہی تھی۔
"دیکھو مت!" مریم ذرا جھکی تو عارضِ گلفام شرم سے سرخ ہو گئے، وہ چیخ اٹھی۔
فارغ ہوئی تو ساتھ موجود دونوں عورتیں اسے سہارا دینے کے لیے آگے بڑھیں۔ اس نے منع نہ کیا۔ کمرے میں واپس آئی تو خوری جان نے چائے والی عورت کو اشارہ کیا۔
کچھ دیر بعد وہ جڑی بوٹیوں والی گرم چائے کی چسکیاں لے رہی تھی۔ دوسرے کمروں میں شاید توڑ پھوڑ یا مرمت کا کام ہو رہا تھا۔ ہتھوڑا چلنے کی آوازیں صبح سے آ رہی تھیں۔
کنجِ اِنزوا کے باہر ڈھول کی تھاپ گونج رہی تھی، اس کی چھوٹی بہن نے پاؤں کو لگت دی، پاس کھڑی ماموں زاد کی سفید کلائیوں میں سجی رنگ برنگی چوڑیوں کی چھن چھن نے نازک سی لہر فضائے لطیف سے بلند کر دی۔ خالہ زاد نے پاؤں کو نہایت نرمی سے اٹھایا پھر بھی جھانجر چھم چھم بول اٹھی، بڑی بھابھی کے یاقوتی ہونٹ بنا آواز کے ہلنا شروع ہوئے تو منجھلی نے اسے چٹکی کاٹ لی۔ ہونٹ کِھل اٹھے اور کمرے میں گیت گونجنے لگا۔
"شپہ دہ دَ نکریزو جینکئی تمبل و ہینھ" (یہ مہندی کی رات ہے، لڑکیاں طبلہ بجا رہی ہیں۔)
کچی کلیوں جیسی نوخیز بہنوں نے تھرکتے ہوئے فن نازک کا مظاہرہ شروع کیا، تو فضا میں موسیقی بکھر گئی۔
"نن پہ دے نکریزو کښ دہ مینے شمے بلے دئی" (آج ان مہندیوں میں محبت کے دیے جل رہے ہیں۔)
چائے ختم ہونے تک دوسرے کمروں سے ابھرنے والا ٹھک ٹھک کا شور بند ہو چکا تھا۔ مگ واپس رکھتے ہوئے اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔
"زیب حسن دیکھے گا تو ماہ منیر کا یہ جلوہ اس کے ہوش کافور کی طرح اڑا دے گا"۔
دوست اس کے چہرے کے پاس اپنا منہ لا کر اسے چھیڑنے لگیں۔
"جب تم اس کے پاس چل کر جاؤ تو بہت آہستہ چلنا"۔
"ٹھہرو ٹھہرو! ایک سیکنڈ، تمہارا ہار سیدھا نہیں"۔
خوشی کے ماحول میں جب لڑکیاں ڈھول کی تھاپ پر سہرے کے گیت گا رہی ہوں، مہندی کے گیتوں کی لے پر ناچ رہی ہوں تو زندگی کیسے جان سکتی ہے کہ وہ اس سے کیا چاہتی ہیں۔
شیریں گل اچانک کھڑی ہوئی تو خواتین گھبراہٹ کا شکار نظر آئیں۔ وہ چل پڑی۔ اس کا دل بے ترتیبی سے دھڑک رہا تھا، ہربل چائے سے اس میں کوئی کمی نہیں آئی تھی۔
ایک رات پہلے اس نے خوب چہل قدمی کی تھی۔
گانے گائے تھے، بہت دیر بعد اپنی بہنوں کے ساتھ باتیں اور قہقہے لگاتے ہوئے اعصاب کی گھبراہٹ کو دور کرنے کی کوشش کی تھی۔ اسے حیرت ہوئی کہ وہ بہت خوش آواز لگ رہی تھی۔
باہر ہتھوڑے کی آواز بند ہوگئی، جس سے شیریں کے قدم رک گئے، حالانکہ اس کا دل اسی تال پر دھڑک رہا تھا۔ آہستہ سے خوری جان کی طرف مڑی، جس کے ہونٹ ایک باریک لکیر کی طرح بھینچ چکے تھے۔
کافی وقت گزر چکا تھا۔
خوری جان کرسی کی طرف بڑھی اور لباس اٹھا لائی۔ اس نے لباس کا اوپری حصہ کھول کر شیریں کے قدم رکھنے کے لیے پکڑا۔ کپڑا چھونے پر اس کے اندر ایک ہلکی سی لہر دوڑ گئی۔ پچھلے کافی عرصہ سے اسے شاید ہی کسی نے چھوا ہو۔ بڑی عمر کے ہاتھوں کا اس کے جسم کو چھونا، لباس بدلنے میں مدد دینا، اسے اچھا لگا۔
جیسے ہی لباس کی زپ اوپر کھینچی گئی، اس کے دھاتی دانتوں کی سردی نے شیریں گل کے جسم کو جکڑ لیا۔
بڑھیا کے ہاتھ شیریں کے کندھوں سے ٹکرائے اور ایک لمحے کے لیے وہیں رکے رہے۔ شیریں گل نے لمبی سانس لی۔
بڑھیا نے لباس کو اس کے جسم پر لٹکا ہوا دیکھ کر کہا، "ستا وزن کم شوی دی"۔ (تمہارا وزن کم ہوگیا ہے۔)
"بہت تنگ ہے میرا سانس بند ہو رہا ہے!" جب سب سے بڑی بہن نے لباس کے ہک لگائے تو شیریں چلائی۔ ایک لمحہ بھی ایسا نہیں گزرا تھا جب کسی نے اسے نہ چھوا ہو۔ ایک ہاتھ اس کی گردن پر پاؤڈر لگا رہا تھا، انگلیاں اس کی کلائی پر کڑا کس رہی تھیں، کوئی لہنگے کا گھیرا سیدھا کر رہا تھا۔
کسی نے ہنس کر جواب دیا، "اچھا بھلا سانس لے رہی ہو، خاموش بیٹھو، دلہنیں نہیں بولتیں"۔
مریم نے اس کی بہن کے کندھے کے اوپر سے دیکھتے ہوئے خبردار کیا، "آرام سے ہک لگاؤ زیادہ کھینچا تانی کی تو یہ پھٹ جائے گا"۔
شیریں گل نے سر ہلاتے ہوئے کہا، "میں نے تم سے کہا تھا، یہ بہت تنگ ہے"۔
"تمہیں مٹھائیاں کھانے سے پہلے یہ سوچنا چاہیے تھا"۔
شیریں نے پیچھے کی طرف ٹانگ ہلا کر بہن کو ٹھوکر مارنے کی ناکام کوشش کی۔ وہ تیزی سے گھوم گئی۔
دروازے پر دستک ہوئی۔ والدہ کی گیت جیسی آواز گونجی، "لڑکیو بسوئ! بارات راغلی دی"۔
بارات کا سن کر تمام لڑکیاں چھت کی طرف بھاگ گئیں۔ مریم نے کھڑکی سے پردہ ہٹا دیا۔ سامنے موجود پنڈال خالی ہو چکا تھا سب بارات کے استقبال کے لیے جا چکے تھے۔
مریم نے اس کی طرف دیکھ کر کہا، "آؤ دیکھو! پورے گھر کو څومرہ پہ ښکلا سرہ سجایا گیا ہے"۔
بڑے بڑے سائبان لگائے گئے تھے۔ جہاں نکاح کی رسم کی ادائیگی کے لیے جگہ مخصوص کی گئی تھی وہاں مخمل، اطلس، ریشم اور زربفت کے کپڑوں سے ایک وسیع و عالیشان شامیانہ مزین کیا گیا تھا۔ نیچے ایک ممبر بنایا گیا تھا۔ جس کے اطراف و جوانب زربفت اور کمخواب کے ریشمی پردے آویزاں تھے۔
مریم نے اس کے کان میں سرگوشی کی۔ "پشتونوں کا ذکر الہامی کتابوں میں بھی ہے۔ وہ تجارت پیشہ انبیا کی اولاد ہیں، بنی اسرائیل کے ان قبائل میں سے ایک، جو غائب ہو گئے تھے۔ انہی کی طرح خوبصورت، تجارت پیشہ امیر۔ خپلواکہ او نوموړی قوم، دولت ان کے گھر کی لونڈی ہے"۔
شیریں گل نے جو صبح سے تقریباً خاموش بیٹھی تھی، آہِ سرد بھری اور کہنے لگی، "ان کے مردوں کے بارے میں یہ سچ ہوگا لیکن ہم بے حیثیت، بے نام عورتیں ان میں سے نہیں۔ ہم آدم کی وہ اولاد ہیں جسے ان بیویوں نے جنا جو حوا سے پہلے اس کی آغوش میں آئیں اور الہامی کتابوں نے ان کا ذکر بھی درخورِ اعتنا نہ سمجھا"۔
مریم کی بھوری آنکھیں شیریں گل کے چہرے میں گڑ گئیں۔ "میں نے تمہیں بہت پہلے سمجھایا تھا"۔
"سب مجھے ہی سمجھاتے ہیں۔ کوئی انہیں بھی بتائے"۔
"نکاح تمہاری ہاں کے بعد ہی مکمل ہوگا"۔
وہ خاموش کھڑی تھی۔
سامنے گواہ موجود تھے۔
دستاویزات موجود تھیں۔
ایک شادی موجود تھی۔
"شیریں گل اور زیب حسن"۔
سفید کپڑوں میں ملبوس ویسٹ کوٹ پہنے شخص کی آواز مجمعے میں گونج رہی تھی۔ اس نے قرآن پاک کی آیات کی تلاوت شروع کی تو سر پر موجود پگڑی سے لے کر لمبی داڑھی تک سب اس کے ہونٹوں کے ساتھ حرکت کر رہا تھا۔
"زیب حسن"۔
وہ جلدی میں لگتا تھا، تیزی سے بولتا جا رہا تھا۔ اس نے ہاتھ میں موجود کاغذ سے جو کچھ پڑھا شیریں گل نے اس کا باقی حصہ بمشکل سنا۔
بہت سے جملے ایسے تھے جو اسے زبانی یاد تھے۔
اس نے پوچھا، "قبول دی؟"
"وہ خاموش رہی"۔
"آیا تا تہ قبول دی"۔
خاموشی برقرار رہی۔
کچھ بولو، ہوں یا نہ"۔
جواب مکمل خاموشی تھا۔
"میری ہاں یا نہ سے کیا فرق پڑے گا؟" الفاظ زبان پر نہیں آئے۔
"اگر میں نہ، کہہ دوں؟"
"دا ستا مرضی دہ"۔
"میری مرضی؟"
ایک خوبصورت لفظ ایسی چیز کے لیے جو وجود ہی نہیں رکھتی۔
کیا آپ چائے لینا پسند کریں گی؟
کیا آپ لباس بدلنا چاہیں گی؟
کیا آپ ریشمی گھونگھٹ یا کلیوں کا سہرا پسند کریں گی؟
ہم آپ کو زیب حسن کی زوجیت میں دے رہے ہیں کیا آپ کو قبول ہے؟
ہاں۔
ہاں۔
ہاں۔
ہاں۔
وہ لڑکیاں خوش قسمت ہوتی ہیں جن کی ماؤں نے انہیں انسانوں کی بستیوں سے دور ویرانے میں جنا۔ چراگاہوں میں پلے آوارہ جانوروں کا دودھ پلایا۔ جنگلوں میں اوس سے دھلی خوراک کھلائی۔ ان کے ماتھوں پر آسمان کے ستاروں سے جڑا سہرا بھی باندھ دیا اور جنہیں اپنے جسم کا خراج سرخ گلابوں کے کانٹوں میں الجھ کر نہ دینا پڑا۔
خوش الحانی سے قرآن پاک کی آیات تلاوت کرنے والے شخص کی آواز میں بھاری پن آ گیا تھا۔
یَا اَیُّھَا الَّذِینَ آمَنُوا کُتِبَ عَلَیُکُمُ الُقِصَاصُ فِی الُقَتُلَی ۖ الُحُرُّ بِالُحُرِّ و َالُعَبُدُ بِالُعَبُدِ و َالُاُنثَیٰ بِالُاُنثَیٰ ۚ
صدق اللہ العظیم۔
الحمد و للہ
وہ شخص چلایا، "جس رات زیب حسن کی موت ہوئی، اس رات بھی اس کے پاس انتخاب تھا۔ ایک بار چھرا گھونپنا شاید خوف کی وجہ سے تھا۔ لیکن اس کے بعد سولہ بار چھرا گھونپنا ایک انتخاب تھا"۔
انتخاب! مرضی! تلخ الفاظ۔
وہ خاموش کھڑی رہی۔ نکاح کے دوران بھی اس کے منہ سے ایک لفظ نہیں نکلا تھا۔
خوری جان نے دونوں عورتوں کو اشارہ کیا۔ انہوں نے آگے بڑھ کر اسے سہارا دیا۔ مریم اور دوسری لڑکیاں اسے پکڑ کر کنجِ انزوا سے باہر لائیں۔ لڑکیاں مسکراتی گنگناتی اس کے ساتھ چل رہی تھیں۔ اس کا سر ایسے جھکا ہوا تھا کہ گھونگھٹ خراب نہ ہو اور کسی کو اس کی ایک جھلک بھی دکھائی نہ دے۔
ساتھ والے کمرے سے کسی نے دعا کرنا شروع کر دی۔ یہ ایک دھیمی آواز تھی۔ پھر دوسری عورتیں شامل ہوگئیں۔ یا رحمان و یا رحیم، اے خدا رحم فرما۔ اسے بخش دیے۔ اسے اپنا دیدار نصیب فرمانا۔ شیریں گل نے آنکھیں بند کر لیں۔
"نہیں!" انتہائی کمزور آواز کہ ساتھ والیاں بھی نہ سن سکیں۔
الجبار و الجبار! یا جبار و یا جبار! ۔
جبر ہمارا خدا ہے۔ زندگی بھر اس کی اطاعت کی۔ موت کے بعد ہم اس کو ڈھونڈیں گے، وہ ہم سے نگاہیں چرائے گا۔۔
وہ صحن میں منتظر لوگوں کی بھن بھن کے مدھم شور کے ساتھ اپنی ہڈیوں میں موسیقی کا ڈھول بجتا سن سکتی تھی۔
"روان و سہ"۔ (چلتے رہو) نرم آواز نے حکم دیا۔
ان لمحات میں دیکھنے والوں کو اس کے کانپنے، رونے یا شاید التجا کرنے کی توقع تھی لیکن اسے بالکل ویسا ہی محسوس ہو رہا تھا جیسا کہ رخصتی کے وقت اس نے اپنے گھر کی راہدریوں سے گزر کر پنڈال میں داخل ہوتے وقت محسوس کیا تھا۔
عورتیں پیچھے رہ گئیں۔
اور مردوں نے اسے گھیرے میں لے لیا۔
"کیا آپ آخری بیان دینا چاہیں گی؟ کوئی آخری خواہش یا تمنا"۔ شلوار قمیض اور ویسٹ کوٹ میں ملبوس اونچے شملے والے باشرع شخص نے ایک بار پھر پوچھا۔ اب گھونگھٹ کے اندر آنے والی آواز دھیمی ہو چکی تھی۔
ہاں، ہاں، ہاں۔
شیریں گل کہنا چاہتی تھی پھر اس نے اپنے بارے میں سوچا۔ چائے کی ٹرے اور لپ سٹک کے بارے میں، گھونگھٹ اور اس میں چھپے ارمانوں کے بارے میں، زیب حسن کے سہرے کی لڑیوں میں پوشیدہ چہرے کے بارے میں، جس پر اس نے پہلا وار کیا تھا اور اس کے بعد آنے والے سولہ زخموں کے بارے میں۔
"نہیں"۔
جن لڑکیوں کی شرمگاہیں خاندان کے بڑوں کی مرضی سے روند دی جائیں وہ بیان نہیں دیتیں، مر جاتی ہیں۔
آج شام کے مجمع میں گواہ موجود ہوں گے، حکام ہوں گے۔
سسرالی رشتہ دار
مقتول کے وارث
ہوں گے اور پھر قصاص کی تڑ تڑ چلتی گولیوں کے سامنے ایک
لاوارث لاش۔
حکم ہوگا۔
اسے ویرانے میں پہاڑی کیکرکے نیچے دفنایا جائے۔ اس کی روح بھی وہاں سے نکلنا چاہے تو لمبے لمبے کانٹوں میں الجھ کر، زخموں سے چور ہو کر، قبر پر ہی گر پڑے۔