1. ہوم
  2. افسانہ
  3. ظفر سید
  4. انڈا
Zafar Syed

انڈا

تم گھر جاتے ہوئے راستے میں فوت ہو گئے۔

یہ کار کا حادثہ تھا۔ کوئی اتنا قابلِ ذکر نہیں، مگر پھر بھی جان لیوا۔ تم نے ایک بیوی اور دو بچے سوگوار چھوڑے۔ تمھاری موت تکلیف دہ نہیں تھی۔ ڈاکٹروں نے تمھیں بچانے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن بےسود۔ یقین رکھو کہ تمھارا جسم اس قدر ٹوٹ پھوٹ گیا تھا کہ موت ہی تمھارے لیے بہتر تھی۔

اور تب تم مجھ سے ملے۔

کیا۔۔ کیا ہوا؟ تم نے پوچھا۔ میں کہاں ہوں؟

تم مر گئے ہو، میں نے حقیقت پسندانہ انداز میں کہا۔ گھما پھرا کر بات کرنے کا کیا فائدہ۔

سڑک پر ایک ٹرک جا رہا تھا۔۔ پھر وہ پھسل گیا۔۔

بالکل، میں نے کہا۔

میں۔۔ میں مر گیا ہوں؟

یقیناً۔ لیکن دل برا کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہر کسی کو ایک نہ ایک دن تو مرنا ہے، میں نے کہا۔

تم نے اپنے آس پاس دیکھا۔ ادھر کچھ نہیں تھا۔ صرف تم اور میں۔ یہ کون سی جگہ ہے؟ ، تم نے پوچھا۔ کیا یہ موت کے بعد کی زندگی ہے؟

کم و بیش، میں نے کہا۔

کیا تم خدا ہو؟ تم نے پوچھا۔

ہاں، میں کہا۔ میں خدا ہوں۔۔

میرے بچے۔۔ میرے بیوی، تم نے کہا۔

کیا ہوا انھیں؟

ان کا کیا بنے گا؟

یہ بات مجھے پسند آئی، میں نے کہا۔ تم ابھی ابھی مرے ہو اور تمھیں سب سے زیادہ فکر اپنے خاندان کی ہے۔ یہ ابھی سے اچھی بات ہے۔۔

تم نے میرے طرف دلچسپی سے دیکھا۔ تمھیں میں خدا کی طرح نہیں لگا۔ میں کسی عام مرد کی طرح دکھائی دیا۔ یا شاید کسی عورت کی طرح۔ یا شاید کسی مبہم طاقتور شخصیت کی مانند۔ بزرگ و برتر خدا کی بجائے کسی سکول کا استاد وغیرہ۔

فکر نہ کرو، میں نے کہا۔ انھیں کچھ نہیں ہوگا۔ تمھارے بچے تمھیں ہر لحاظ سے بےعیب باپ کی حیثیت سے یاد رکھیں گے۔ ابھی انھیں تم سے حقارت پالنے کا موقع نہیں ملا۔ تمھاری بیوی باہر سے روئے گی، لیکن اندر اندر سے اسے محسوس ہوگا جیسے سر سے بوجھ سے اتر گیا ہو۔ دراصل تمھاری شادی ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھی۔ اگر تمھیں اس بات سے کوئی سکون ملتا ہو تو بتا دوں کہ وہ تمھاری موت کے بعد اپنے اطمینان پر خود کو ملامت بھی کرے گی۔۔

اوہ، تم نے کہا۔ تو اب کیا ہوگا؟ کیا میں جنت یا دوزخ وغیرہ میں جاؤں گا؟

دونوں میں سے کہیں نہیں، میں نے کہا۔ تم دوسرا جنم لو گے۔۔

آہ، تم نے کہا۔ اس کا مطلب ہے ہندو صحیح کہتے تھے۔۔

تمام مذہب کسی نہ کسی لحاظ سے صحیح ہیں، میں نے کہا۔ میرے ساتھ چلو۔۔

ہم خلا میں چلنے لگے۔ تم میرے پیچھے پیچھے تھے۔ ہم کہاں جا رہے ہیں؟

کسی خاص جگہ نہیں، میں نے کہا۔ بس چلتے چلتے باتیں کرتے جانا اچھا لگتا ہے۔۔

تو پھر اس کا مقصد کیا ہے؟ تم نے پوچھا۔ جب میں دوبارہ پیدا ہوں گا تو پھر سادہ تختی بن جاؤں گا، ٹھیک؟ ننھا بچہ۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ میرے سارے تجربات اور جو کچھ میں نے اس زندگی میں کیا ہے اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔۔

ایسی بات نہیں ہے، میں نے کہا۔ تمھارے اندر تمھاری گذشتہ تمام زندگیوں کے سارے تجربات اور علم موجود ہے۔ بس صرف اتنی بات ہے کہ وہ تمھیں اس وقت یاد نہیں ہیں۔۔

میں رک گیا اور تمھیں کندھوں سے پکڑ لیا۔ تمھاری روح تمھارے تصور سے کہیں زیادہ اہم، خوب صورت اور بڑی ہے۔ کسی بھی انسان کا ذہن اپنے وجود کے صرف ایک معمولی سے حصے تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے تم پانی کے گلاس میں انگلی ڈبو کر دیکھتے ہو کہ پانی گرم ہے یا ٹھنڈا۔ تم برتن میں اپنے وجود کا ایک چھوٹا سا حصہ ڈالتے ہو اور جب اسے باہر نکالتے ہو تم وہ تمام تجربات حاصل کر لیتے ہو جو اس کے اندر موجود تھے۔

تم گذشتہ 48 برسوں سے ایک انسان کے اندر تھے، اس لیے تم ابھی تک پھیل کر اپنے بقیہ بےپایاں شعور کو محسوس نہیں کر سکے ہو۔ اگر ہم یہاں لمبے عرصے تک ٹھہرے رہے تو تمھیں ہر چیز یاد آتی چلی جائے گی۔ لیکن زندگیوں کے درمیان میں اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔۔

تو پھر میں نے کتنی بار جنم لیا ہے؟

بہت دفعہ۔ بہت زیادہ دفعہ۔ بہت زیادہ اور بہت مختلف زندگیوں میں، میں نے کہا۔ اب تم سنہ 540 میں ایک چینی دیہاتی لڑکی کے روپ میں جنم لو گے۔۔

رکو، کیا؟ تم نے ہکلاتے ہوئے کہا۔ آپ مجھے ماضی میں بھیج رہے ہیں؟

ہاں، شاید تکنیکی طور پر۔ وقت کا تصور تمھارا صرف تمھاری کائنات میں پایا جاتا ہے۔ جہاں سے میں آیا ہوں وہاں چیزیں تھوڑی مختلف ہیں۔۔

جہاں سے آپ آئے ہیں؟ تم نے پوچھا۔

بالکل، میں نے سمجھایا۔ میں کہیں سے آیا ہوں۔ کہیں اور سے اور وہاں میری طرح دوسرے بھی ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ تم اس بارے میں مزید جاننا چاہو گے، لیکن بات یہ ہے کہ تمھیں اس کی سمجھ نہیں آئے گی۔۔

اوہ، تم نے کسی قدر مایوسی سے کہا۔ لیکن ایک منٹ۔ اگر میں نے مختلف جگہوں پر مختلف اوقات میں جنم لیا تو ممکن ہے کہیں نہ کہیں میرا خود اپنے آپ ہی سے آمنا سامنا ہو جائے۔۔

بالکل۔ ایسا ہوتا رہتا ہے۔ لیکن دونوں صرف اپنی اپنی زندگیوں سے آگاہ ہوتے ہیں، اس لیے تمھیں اس کا احساس نہیں ہوتا۔۔

تو پھر اس کی کیا تُک بنتی ہے؟

واقعی؟ میں نے کہا۔ تم مجھ سے سچ مچ میں زندگی کے معنی پوچھ رہے ہو؟ یہ سوال کچھ گھسا پٹا سا نہیں ہے؟

لیکن سوال تو بنتا ہے، تم نے اپنی بات پر اصرار کیا۔

میں نے تمھاری آنکھوں میں دیکھا۔ زندگی کے معنی، میں نے یہ کائنات کیوں بنائی، اس کا مقصد یہ ہے کہ تم بالغ نظر ہو جاؤ۔۔

آپ کا مطلب ہے انسانیت؟ آپ چاہتے ہیں کہ انسانیت بالغ نظر ہو جائے؟

نہیں، صرف تم۔ میں نے ساری کائنات صرف تمھارے لیے بنائی ہے۔ ہر نئی زندگی کے ساتھ تم نمو پاتے ہو اور بالغ تر ہوتے چلے جاتے ہو اور تمھاری عقل آگے اور آگے بڑھتی چلی جاتی ہے۔۔

صرف میں؟ لیکن پھر یہ سب دوسرے لوگ؟

دوسرا کوئی نہیں ہے، میں نے کہا۔ اس کائنات میں صرف تم ہو اور میں ہوں۔۔

تم نے خالی خالی نظروں سے مجھے دیکھا۔ لیکن زمین پر باقی سب لوگ؟

سب تم ہو۔ تمھارے مختلف جنم۔۔

ایک منٹ۔ میں ہر کوئی ہوں؟

اب بات تمھاری سمجھ میں آ رہی ہے، میں نے اس کی کمر پر دھپ مار کر اسے شاباش دی۔

دنیا میں جو انسان بھی جیا ہے، وہ میں ہوں؟

اور وہ بھی جو جیے گا۔۔

میں ابراہم لنکن ہوں؟

اور تمھی اس کے قاتل جان ولکس بوتھ ہو، میں نے اضافہ کیا۔

میں ہٹلر ہوں؟ تم نے دہشت زدگی سے پوچھا۔

اور تمھی وہ کروڑوں ہو جنھیں اس نے موت کے گھاٹ اتارا تھا۔۔

میں عیسیٰ ہوں؟

اور تمھی ہر عیسائی ہو۔۔

تم خاموش ہو گئے۔

جب بھی تم کسی پر ستم ڈھاتے ہو، میں نے کہا، تم اپنے آپ پر ظلم کرتے ہو۔ ہر مہربانی جو تم نے کی، وہ تم نے اپنے آپ سے کی۔ ہر انسان نے جو اچھا یا برا لمحہ بِتایا، یا بتائے گا، وہ تم پر بیتے گا۔۔

تم ایک لمحے کے لیے سوچ میں پڑ گئے۔

کیوں؟ تم نے پوچھا۔ آخر یہ سب کس لیے؟

تاکہ ایک دن تم میری طرح بن جاؤ۔ کیوں کہ اصل میں تم میں ہو۔ تم میری نسل سے ہو۔ تم میرے بچے ہو۔۔

آہ، تم نے بےیقینی سے کہا۔ آپ کا مطلب ہے میں خدا ہوں؟

نہیں۔ ابھی نہیں۔ تم ابھی ماں کے پیٹ میں ہو۔ تم ابھی بڑے ہو رہے ہو۔ جب تم ہر وقت میں ہر انسانی زندگی جی چکو گے، تب اتنے بڑے ہو جاؤ گے کہ پیدا ہو سکو۔۔

تو پھر یہ ساری کائنات، تم نے کہا، یہ صرف۔۔

ایک انڈا ہے، میں نے کہا اور اب وقت آ گیا ہے کہ تم اپنی اگلی زندگی شروع کرو۔۔

اور میں نے تمھیں اگلے سفر پر روانہ کر دیا۔

نوٹ: اینڈی ویئر کے افسانے کا بارہ برس پرانا ترجمہ۔