1. ہوم
  2. کالمز
  3. ناصر عباس نیّر
  4. ڈھاکہ میں منٹو پر کانفرنس
Nasir Abbas Nayyar

ڈھاکہ میں منٹو پر کانفرنس

کل ڈھاکہ میں ڈیفوڈلز انٹرنیشنل یونیورسٹی کے شعبہ انگریزی نے منٹو پر ایک کانفرنس منعقد کی۔ میرے لیے بنگلہ دیش کے لوگوں سے بات کرنا ایک جذباتی لمحہ تھا۔ میزبانوں نے بھی مسلسل خلوص کا اظہار کیے رکھا۔

مقررین بنگلہ دیش اور ہندوستان سے تھے۔ پاکستان سے میں (آن لائن) شریک تھا۔ کافی اہم باتیں ہوئیں، مگر سب سے اہم بات یہ تھی کہ منٹو، جنوبی ایشیا کے تین اہم ملکوں میں، جن کے ثقافتی اشتراکات، نظریاتی وسیاسی مفادات کی بھینٹ چڑھتے رہتے ہیں، قدر مشترک کے طور پر تسلیم کیا گیا۔

منٹو، اردو اور انگریزی ہی میں نہیں، جنوبی ایشیا کی اکثر زبانوں میں سب سے زیادہ ترجمہ ہونے والا اور پڑھا جانے والا ادیب ہے۔ منٹو کو یہ مقام خود اس کی اپنی تحریروں کے سبب ملا ہے۔

ربی شنکر بل کا ناول دوزخ نامہ، بنگالی ہی میں لکھا گیا، جس کا انگریزی سے اردو ترجمہ انعام ندیم نے کیا۔ کل کی کانفرنس میں بھی منٹو کے بنگالی تراجم کی دو تازہ کتابوں کا ذکر ہوا۔

کانفرنس کا عنوان، Dhaka Dialogics تھا۔ ڈائیالاجزم، روسی باختن کی اصطلاح ہے، جس کے مطابق: زبان، خیالات اور تجربات کسی ایک مقتدر منبع سے نہیں، متنوع اشیا میں باہمی، مستقل، فعال نوعیت کے مکالمے سے پیدا ہوتے ہیں۔

منٹو کی تحریریں خود اسی طرح کے تنوع اور اسی طرح کی گفت وشنید اور سوالات کی حامل ہیں۔

منٹو بنگال نہیں گیا، مگر اس نے دو افسانوں: "پانچ دن" اور "موج دین" میں بنگال اور مشرقی پاکستان کا ذکر کیا ہے۔ پہلا افسانہ جو نیکی و پارسائی کو بوجھ سمجھنے والے تپ دق کے شکار پروفیسر سے متعلق ہے، اکثر نے پڑھا ہے۔

اس افسانے کی سکینہ، قحط بنگال میں چچا کے ہاتھوں بیچی جاتی اور لاہور پہنچتی ہے۔ وہ بوڑھے بیمار پروفیسر کی زندگی میں، محبت کے پانچ دن لاتی ہےاور خود تپ دق کا شکار ہوتی ہے۔ افسانہ "موج دین" کم لوگوں کی نظروں سے گزرا ہے۔ موج دین، لاہور کے خیراتی ادارے کا بنگالی طالب علم ہے۔ اسے پڑھانے کی بجائے چندہ اگاہنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

وہ کشمیر اس کام کے سلسلے میں جاتا ہے۔ کشمیر کے جہاد میں پاکستان کی طرف سے شریک ہونا چاہتا ہے۔ اسی سلسلے میں بنگالی میں خط، والدین کو لکھتا ہے۔ خفیہ ایجنسی کا اہل کار، بنگالی سمجھ نہیں سکتا۔ اسے ہندوستان کا جاسوس قرار دیتا ہے۔ موج دین قید ہوتا ہے اور قید ہی کی حالت میں خودکشی کر لیتا ہے۔

یہ منٹو کے آخری افسانوں میں سے ہے، مگر منٹو یہ بھانپ گیا تھا کہ زبان، آدمی کی موت کا باعث بن سکتی ہے اور ہم نے دیکھا کہ کئی اموات اور بالآخر علیحدگی کا باعث بھی بنی۔ تو منٹو جنوبی ایشیا میں کیوں نہ پڑھا جائے؟

میں نے منٹو کے مضامین میں موجود سوالات پر گفتگو کی۔ مرکزی نکتہ یہ تھا کہ منٹو، سوال کو ادارہ جاتی کہتا ہے، نہ علمی اشرافیہ سے مخصوص۔ ہر شخص، خواہ اس کا کوئی سماجی، تعلیمی، سیاسی، معاشی، صنفی مرتبہ ہو، سوال اٹھاتا ہے۔ کیوں کہ معرکہ وجود ہر ایک کو درپیش ہے۔ دکھ ہے، تشویش ہےتو سوالات بھی ہیں۔

سوالوں کا کوئی برتھ کنٹرول نہیں ہے۔ البتہ عام لوگوں کے سوالات کو "غیر علمی" کہہ کر رسوا کرنے، انھیں دبانے اور محکوموں کے سادہ سوالات کے مقابل، حاکموں کے تحکمانہ سوالات کو لانے کی تدبیریں بہت کی جاتی ہیں۔

منٹو نے عام اور درماندہ لوگوں کی زبانی سماج، سیاست، مذہب، جنس، شناخت، تقسیم، فسادات، سرد جنگ پر کڑے سوالات قائم کیے۔ ان میں سے اکثر آج بھی برقرار ہیں۔

مضمون انگریزی میں ہے۔ جلد شائع ہوگا۔