کرن ہاشمی05 دسمبر 2025غزل1212
نہ رہی دل کی وہ دنیا، نہ وہ آباد رہی اک نظر تیری جو گزری، مری بنیاد رہی
میں نے دیکھا تری آنکھوں میں کئی موسم تھے ایک لمحہ بھی مگر ان میں نہ دلشاد رہی
کچھ فسوں
مزید »کرن ہاشمی28 نومبر 2025غزل1215
بدل بھی جائے زمانہ، وفا ضروری ہے ہر ایک رشتے میں لیکن دعا ضروری ہے
خلوص دل سے ہی قائم رہیں تعلق سب یہ رسمِ دید سے بڑھ کر وفا ضروری ہے
کبھی دعا میں کسی نام کا
مزید »کرن ہاشمی21 نومبر 2025غزل1278
جہاں کی حقیقت ہے خوابوں کا کھیل نظر کا فسوں ہے، سرابوں کا کھیل
یہ دنیا ہے سود و زیاں کی جگہ ہے ہر دن یہاں پر حسابوں کا کھیل
لکیریں ہیں قسمت کی الجھی ہوئیں لکی
مزید »کرن ہاشمی14 نومبر 2025غزل1257
کیسی الجھن یہ سلسلہ کیا ہے دل کے صحرا میں اب ہوا کیا ہے
خواب بکھرے ہیں، رنگ گم سا ہے آنکھ کہتی ہے، ماجرا کیا ہے
کب سے آنسو بہا رہی ہوں میں پر لبوں پر ہے یہ صد
مزید »کرن ہاشمی05 ستمبر 2025غزل1346
مانگ لائی تھی خدا سے میں ادھارے سپنے ٹوٹتے دیکھ لئے آنکھ کے تارے سپنے
قید آنکھوں میں جو پلکوں کی سلاخوں میں ہیں دیکھ کر تجھ کو رہا کر دوں گی سارے سپنے
اپنی تع
مزید »کرن ہاشمی27 اگست 2025غزل0278
وہ دمکتے ہوئے رخسار، مہکتا غازہ دلکشی اور بڑھی اور بڑھی اور بڑھی
اس کی نظروں کے جو پیمانے مقابل ٹھہرے بیخودی اور بڑھی اور بڑھی اور بڑھی
کیسی بے چینیاں بھڑکی ت
مزید »کرن ہاشمی24 جولائی 2025مختصر1595
مایوسی کا بادل، کوئی گھنا اور بوجھل سایہ تھا جو شہر کے ایک چھوٹے سے کونے میں، ایک بوسیدہ سے گھر کی چھت پر مستقل ڈیرے ڈالے ہوئے تھا۔ اس بادل کی اپنی کوئی شکل نہ
مزید »کرن ہاشمی21 جولائی 2025غزل0315
زخم دینا ہے اُس کی فطرت میں درد مہکے ہیں اس کی الفت میں
جانے والا بھی ایسا بچھڑا ہے چھوڑ آیا ہے خود کو عجلت میں
خود شناسی ہوئی ہے دوری سے میں تو کھوئی تھی تیر
مزید »کرن ہاشمی08 اپریل 2025غزل0371
بات نکلی ہے جو زباں سے اب تیر چُھوٹا ہے اک کماں سے اب
تیری نظروں میں عیب ہیں سارے کیا ہے پنہاں ترے گماں سے اب
جانے بھٹکیں گے وہ کہاں سب ہی پنچھی بچھڑے ہیں آشی
مزید »کرن ہاشمی19 دسمبر 2024غزل0370
تمہارے نام بولو تم زمین و آسماں لکھ دوں؟ سجاوٹ کو تمہاری اس جبیں پر کہکشاں لکھ دوں
محبت بھی تمہاری تو تجسس کے سوا کیا ہے میں اپنے واسطے کاغذ کے دل پر خوش گماں
مزید »