1. ہوم
  2. غزل
  3. سید علی قاسم
  4. پھر وہی کانٹوں بھری دنیا گوارا کرکے
Syed Ali Qasim

پھر وہی کانٹوں بھری دنیا گوارا کرکے

پھر وہی کانٹوں بھری دنیا گوارا کرکے
ہم نے دیکھا ہے محبت کو دوبارہ کرکے

تو کبھی پلکوں کی جنبش کا تکلف کرتا
ہم کہ چپ چاپ چلے جاتے کنارا کرکے

مستقل کچھ بھی کبھی مجھ سے نہیں ہو پایا
عشق بھی چھوڑ دیا میں نے ادھورا کرکے

تم نے تو خیر بچھڑنا ہی تھا اک روز مگر
خود کو یونہی کیا برباد تمہارا کرکے

رات تھی آنسو چھپانے میں مدد کرتی تھی
کیا ملا ہے تجھے مالک یوں سویرا کرکے

میرے جیسوں کا کیا ہم نے تو بس رونا ہے
تم تو خوش ہو نا مری جان کنارا کرکے

اس کے ہونے سے چمکتی تھیں ہماری آنکھیں
پھر وہ اک رات یونہی چل دی اندھیرا کرکے

بھر ہی دیتا ہے یہاں وقت سبھی زخموں کو
جی ہی لیتے ہیں یہاں لوگ گزارا کرکے