1. ہوم
  2. افسانہ
  3. تابندہ جبین
  4. خود غرض
Tabinda Jabeen

خود غرض

سارہ نے سائیڈ ٹیبل پر اپنا موبائل فون رکھا اور گردن کو گھوما کر بیڈ کے سامنے والے کھڑکی جانب دیکھا۔۔

سوچا کیوں نا کھڑکی کی ایک پلا کھولا جائے۔۔

اتنے میں نمرہ سامنے سے دوڑتے ہوئے آئی سارہ باجی آج محلے کے بچوں کا کرکٹ میچ ہے آپ نے ابھی تک کھڑکی نہیں کھولی؟

ارے اچھا ہوا تم نے بتادیا نمرہ مجھے تو بالکل بھی دلچسپی نہیں ہے۔۔

اوہو سارہ باجی آپ کیوں اتنی خودغرض خود پسند سی ہوگئی ہے اپنے آپ سے نکلتی نہیں ہے۔۔

کیا کیا کیا کہا خودغرض؟

اور وہ بھی میں سارے دن آفس میں تم دونوں بہن بھائی کو پالنے کے لیے اپنے آپ کی بھی فکر نہیں کرتی اور تم مجھے ہی خود غرض کہہ رہی ہو مجھے تو اپنے بارے میں یہ بات بھی یاد نہیں رہتی کہ میں نے کل کیا رنگ پہنا تھا آفس جانے کے لیے اور مجھے تم خود غرض کہہ رہی ہو۔۔

اچھا سارہ باجی ایسا کیا کر دیا آپ نے ہمارے لیے؟

تم دونوں کی لیے میں نے اپنی جوانی غرق کردی میں 40 سال کی ہوگئی ہو میں نے اپنے جیون کے بارے میں اپنی زندگی کی پروہ تک نہیں کی۔۔ بچپن کی منگنی جو امی ابو نے کی تھی وہ بھی توڑ دی۔

اور کیا چاہتی ہو تم دونوں کون آج کے ماڈرن زمانے میں اپنے بارے میں سوچتا ہے؟

امی نے سلائی کرنا جب سے چھوڑا ہے اس وقت سے میں نے گھر کی ذمے داری سنبھال لی ہے۔

ابو تو کوئی کام کبھی کیا ہی نہیں تھا کبھی کام کیا کبھی نہیں کوئی لگی بندھی ملازمت نہیں کی۔۔

اچھا وقار کہا ہے وقار سے کہو مجھ سے آکر بات کرے اس کے اسکول سے فون آیا ہے دو پیپر میں ناکام ہوگیا ہے۔

آخر کب یہ پڑھائی میں دھیان لگائے گا لگائے گا بھی یا نہیں؟

دروازے پر دستک ہوتی ہے اور سامنے وقار کھڑا ہوتا ہے ہاتھ میں بلا اور بال پکڑا ہوتا ہے۔۔

اندر آنے سے پہلے سارہ باجی اس سے بہت سے سوالات کرنے لگتی ہے۔۔

وقار کا منہ بنے لگتا ہے گال غصے سے لال ہورہے ہوتے ہیں اور وہ بھی اندر آکر نمرہ کو یہی کہہ دیتا ہے سارہ باجی آپ تو نہایت خودغرض عورت ہے صرف اپنے بارے میں سوچتی ہے۔ ہمارا تو کوئی خیال ہی نہیں۔۔

سارہ باجی آنکھ میں آنسو لیے اندر اپنے کمرے میں چلی جاتی ہے اور ذہن میں خودغرض خودغرض دماغ میں اس کے چلنے لگتا ہے۔