مورتیوں کے حسن کی تپش سے
جنس عبادت کی لو میں گھلتی ہے
دیویوں کے تن بدن سے۔
معبد خال و خط ادھار لیتے ہیں
مردانہ وجاہت کے سوتے
دیوتاؤں کے حسن کے بیان سے پھوٹتے ہیں
انگلیاں کاٹنے والیاں
اوتاروں کو ورغلانے والیاں
داستانوں کو رمز عشق عطا کرتی ہیں
رادھا کی جدائی کا دکھ
گوپیوں کی لیلا میں ڈھل کر امر ہو جاتا ہے
حسن و عشق کی کہانیاں
بدن سے بدن کے ملاپ کی تحریر ہیں
تن پرستوں کی سوچ
ادب کے دامن میں رنگ بھرتی ہے
مجازی ہے دو دلوں کا وصال
جسم عور سے محبوب کا اتصال
عشقِ حقیقی کی منازل میں
روح کےساتھ
جسم کی تلاوت بھی کی جاتی ہے۔۔
ہیر رانجھا، مرزا صاحباں کے
بدنی عشق اگر زندہ ہیں، تو
بالغ اجسام کے بالرضا عشق کو
پاپ کے ترازو میں کیوں تولا جاتا ہے؟