1. ہوم
  2. نظم
  3. سید محمد زاہد
  4. عشق بالرضا
Syed Mohammad Zahid

عشق بالرضا

مورتیوں کے حسن کی تپش سے
جنس عبادت کی لو میں گھلتی ہے

دیویوں کے تن بدن سے۔
معبد خال و خط ادھار لیتے ہیں

مردانہ وجاہت کے سوتے
دیوتاؤں کے حسن کے بیان سے پھوٹتے ہیں

انگلیاں کاٹنے والیاں
اوتاروں کو ورغلانے والیاں

داستانوں کو رمز عشق عطا کرتی ہیں
رادھا کی جدائی کا دکھ

گوپیوں کی لیلا میں ڈھل کر امر ہو جاتا ہے
حسن و عشق کی کہانیاں

بدن سے بدن کے ملاپ کی تحریر ہیں
تن پرستوں کی سوچ

ادب کے دامن میں رنگ بھرتی ہے
مجازی ہے دو دلوں کا وصال

جسم عور سے محبوب کا اتصال
عشقِ حقیقی کی منازل میں

روح کےساتھ
جسم کی تلاوت بھی کی جاتی ہے۔۔

ہیر رانجھا، مرزا صاحباں کے
بدنی عشق اگر زندہ ہیں، تو

بالغ اجسام کے بالرضا عشق کو
پاپ کے ترازو میں کیوں تولا جاتا ہے؟