سید محمد زاہد11 مارچ 2025افسانہ1166
(اس افسانہ میں شہزادہ آزاد بخت اور مکھی کے کردار انتظار حسین کے افسانہ "کایا کلپ" سے لیے گئے ہیں۔ The Frog Prince ایک جرمن کہانی ہے)۔
برسات کو کس نے سہانا موسم
مزید »سید محمد زاہد23 فروری 2025افسانہ12192
گڈ مارننگ!
اس نئی کلاس میں آپ کو خوش آمدید کہتا ہوں۔ میرے پڑھانے کا طریقہ روایتی ہے اور نہ ہی آپ سکول کے بچے کہ آپ کو قلم پکڑنا سکھایا جائے یا رٹے لگوائے جائیں
مزید »سید محمد زاہد06 فروری 2025افسانہ2155
موجوں کی روانی تھی یا کسی کمسن الہڑ حسینہ کی چال، بہتے پانی کی ہلکی ہلکی آواز تھی یا دوشیزاؤں کی پائل کی جھنکار جو مجھے مست کیے اپنی طرف کھینچ رہی تھی۔ سردیوں
مزید »سید محمد زاہد17 جنوری 2025افسانہ4161
"یہ کیسے ممکن ہے؟" کرسٹینا نے سوال کیا۔
نیلما سوچ میں پڑ گئی۔ کچھ دیر بعد بولی۔
"تحریک عوام میں مقبولیت حاصل کر چکی ہے لیکن ملک کے کرتا دھرتا ٹس سے مس نہیں ہو
مزید »سید محمد زاہد09 جنوری 2025افسانہ1147
"میرا دل اس کی طرف کھنچا چلا جا رہا تھا۔ وہ کتابوں میں کھویا تھا اور میں اس کے کتابی چہرے میں۔ گھبرو جوان پنجابی مرد، دراز قد، مضبوط ہاتھ پاؤں اور بڑی بڑی خمار
مزید »سید محمد زاہد30 دسمبر 2024افسانہ0157
بے انت اداسی و مایوسی اس انجام سے پہلے کی کہانی ہے۔ یہ تباہی ایک نئی آبادکاری لائے گی، یہ خرابی ایک نئی بحالی کی بنیاد بنے گی۔ موت ایک نئی زندگی کی ابتدا ہے: یہ
مزید »سید محمد زاہد22 دسمبر 2024کالمز13175
ایک وقت تھا سلطنت روم کی فوجیں فرانس سے آگے بڑھتے ہوئے برطانیہ میں گھس چکی تھیں۔ ان کے بچے افریقی ملک تیونس کی انجیر، الجیریا کی کھجور اور مصر کا گیہوں کھاتے تھ
مزید »سید محمد زاہد08 دسمبر 2024افسانہ1147
میں نے اسے پروپوز کیا تو وہ یوں سمٹ گئی جیسے چھوئی موئی کملا گئی ہو۔
تیز طرار زہرہ پہلی بار اپنی چوکڑی بھولی تھی۔ میں نے اسے بازوؤں میں سمیٹ لیا۔
اندھیری رات
مزید »سید محمد زاہد29 نومبر 2024افسانہ7178
میں بات بات کی آہٹ لیتے اونچے مکانوں سے گھری تنگ گلیوں میں اسے ڈھونڈ رہی تھی۔ وہ گلیاں جہاں روشن دن میں بھی سورج کی کرنیں پہنچ نہیں پاتیں۔ جہاں بھوک اور مفلوک ا
مزید »سید محمد زاہد05 نومبر 2024افسانہ0136
اسوج کا مہینہ شروع ہوتے ہی گرمیاں رخصت مانگتی ہیں اور جاڑا دستک دینے لگتا ہے۔ اس مہینے میں بارش ہو جائے تو کسان بھی نہال ہو جاتا ہے"برسے اسوج تو ناج کی موج"۔ ہل
مزید »