1. ہوم
  2. سید محمد زاہد
  3. صفحہ 2

دکھ بَدھی

سید محمد زاہد

رونا تو خود بخود آتا ہے لیکن جب کوئی عزیز فوت ہوتا ہے تو جنازہ اٹھنے تک اتنے آنسو بہہ جاتے ہیں کہ آنکھوں کا پانی خشک ہو جاتا ہے۔ یہی وقت ہوتا ہے کہ ماتم اور نوح

مزید »

روح کا سودا، آخری شرط

سید محمد زاہد

"لاؤ، معاہدہ دکھاؤ تم کوئی الٹی چال تو نہیں چل رہے؟" گندھک کے غبار میں لپٹا چیلا سوچ میں پڑ گیا۔ اس نے پر سمیٹتے ہوئے سنہری چمکدار کاغذات پر سرخ سیاہی سے لکھ

مزید »

آخری خط

سید محمد زاہد

میری پیاری نبیلہ آدھی رات بیت چکی ہے اور ساری باقی ہے۔ کئی مرتبہ لکھنے کی کوشش کی پھر مٹا دیتا ہوں۔ جانتا ہوں کہ کیا لکھنا ہے لیکن جو بھی لکھتا ہوں سچ سے بہت

مزید »

عشق بالرضا

سید محمد زاہد

مورتیوں کے حسن کی تپش سے جنس عبادت کی لو میں گھلتی ہے دیویوں کے تن بدن سے۔ معبد خال و خط ادھار لیتے ہیں مردانہ وجاہت کے سوتے دیوتاؤں کے حسن کے بیان سے پھوٹتے

مزید »

موت کا کنواں

سید محمد زاہد

آج عرس مبارک کا آغاز تھا اور آج ہی ڈاکٹر نے پلاسٹر اتار کر کہا تھا کہ ہڈی جڑ چکی ہے، اب وہ چلنے پھرنے میں آزاد ہے۔ سینے کا درد بھی ٹھیک ہو چکا تھا۔ مهک کو پچپن

مزید »

لمس ایک دھوکا ہے

سید محمد زاہد

"اس ملک میں لوگ ایک دوسرے کو ہمیشہ رشتوں سے پکارتے ہیں۔ کسی کو بھائی بنا لیا، کسی کو بہن کہہ دیا۔ جگری دوست کو بھی بلانا ہے تو اس کا نام لینے کی بجائے بہن بھائی

مزید »

سر برہنہ لاشے کا ماتم

سید محمد زاہد

اشاروں کنائیوں کی زبان وہ بہت اچھی طرح سمجھتی تھی کیونکہ وہ طوائف تھی اور گاہک کی رگ رگ سے واقف۔ طوائفوں سے عشق نہیں، سودا ہوتا ہے۔ لوگ کھلونوں سے دل بہلانے آتے

مزید »