سید محمد زاہد05 اپریل 2026افسانہ0195
رونا تو خود بخود آتا ہے لیکن جب کوئی عزیز فوت ہوتا ہے تو جنازہ اٹھنے تک اتنے آنسو بہہ جاتے ہیں کہ آنکھوں کا پانی خشک ہو جاتا ہے۔ یہی وقت ہوتا ہے کہ ماتم اور نوح
مزید »سید محمد زاہد02 اپریل 2026غزل0198
نکہت سحر شبنم کی ہے، نہ صبا کی ہے شب وصل میں بکھری تیری قبا کی ہے
چال کا اتھلا ڈھنگ، پاؤں کا لال رنگ اک اک ادا پہ ہم نے زندگی فنا کی ہے
برق کوندھی رگ رگ میں،
مزید »سید محمد زاہد22 مارچ 2026افسانہ0196
"لاؤ، معاہدہ دکھاؤ تم کوئی الٹی چال تو نہیں چل رہے؟"
گندھک کے غبار میں لپٹا چیلا سوچ میں پڑ گیا۔ اس نے پر سمیٹتے ہوئے سنہری چمکدار کاغذات پر سرخ سیاہی سے لکھ
مزید »سید محمد زاہد08 مارچ 2026افسانہ0196
میری پیاری نبیلہ
آدھی رات بیت چکی ہے اور ساری باقی ہے۔ کئی مرتبہ لکھنے کی کوشش کی پھر مٹا دیتا ہوں۔
جانتا ہوں کہ کیا لکھنا ہے لیکن جو بھی لکھتا ہوں سچ سے بہت
مزید »سید محمد زاہد27 جنوری 2026نظم17234
مورتیوں کے حسن کی تپش سے جنس عبادت کی لو میں گھلتی ہے
دیویوں کے تن بدن سے۔ معبد خال و خط ادھار لیتے ہیں
مردانہ وجاہت کے سوتے دیوتاؤں کے حسن کے بیان سے پھوٹتے
مزید »سید محمد زاہد16 جنوری 2026افسانہ1217
وہ برکانی شیشے اور آتش فشانی انگاروں سے بنے تخت پر بیٹھا خنجر کی نوک سے ناخنوں میں الجھی راکھ صاف کر رہا تھا۔ پھر ادھر ادھر دیکھنے لگا۔ کچھ نہ سوجھا تو اسی خنجر
مزید »سید محمد زاہد14 جنوری 2026افسانہ1237
آج عرس مبارک کا آغاز تھا اور آج ہی ڈاکٹر نے پلاسٹر اتار کر کہا تھا کہ ہڈی جڑ چکی ہے، اب وہ چلنے پھرنے میں آزاد ہے۔ سینے کا درد بھی ٹھیک ہو چکا تھا۔
مهک کو پچپن
مزید »سید محمد زاہد15 دسمبر 2025افسانہ2230
"اس ملک میں لوگ ایک دوسرے کو ہمیشہ رشتوں سے پکارتے ہیں۔ کسی کو بھائی بنا لیا، کسی کو بہن کہہ دیا۔ جگری دوست کو بھی بلانا ہے تو اس کا نام لینے کی بجائے بہن بھائی
مزید »سید محمد زاہد09 دسمبر 2025غزل1227
نظم حیات میں انتشار مچا آتی ہے اوڑھ کر جب وہ سموری قبا آتی ہے
موج ناب سے رخسار پہ سرخی دوڑی گرمی مے اس کے ہونٹوں کو سجا آتی ہے
عیش و طرب کا ساز و ساماں لے کر
مزید »سید محمد زاہد29 نومبر 2025افسانہ18294
اشاروں کنائیوں کی زبان وہ بہت اچھی طرح سمجھتی تھی کیونکہ وہ طوائف تھی اور گاہک کی رگ رگ سے واقف۔ طوائفوں سے عشق نہیں، سودا ہوتا ہے۔ لوگ کھلونوں سے دل بہلانے آتے
مزید »