سید محمد زاہد14 مئی 2025افسانہ28300
شبانہ تیوری پر بل ڈالے اس کی طرف دیکھ رہی تھی۔ بھوری آنکھیں خوف کو اجاگر کر رہی تھیں۔
"ذرا مسکراؤ! "
فوٹوگرافر نے مسکرانے کی اداکاری کرتے ہوئے اسے سمجھایا۔
مزید »سید محمد زاہد01 مئی 2025افسانہ1319
"ورجل یہاں کیا ہو رہا ہے؟ مجھے تو بتایا گیا تھا کہ دوزخ کے نو گڑھے ہیں"۔
"ہاں! بیسویں صدی تک نو ہی تھے لیکن اب دوزخ کو بڑا کیا جا رہا ہے"۔
"وہ کیوں؟"
"یہاں ا
مزید »سید محمد زاہد07 اپریل 2025غزل0349
ساعت وصل میں بس، یہی نیکو کاری ہے کار محبت اور بڑھاؤ، بہت بے قراری ہے
اک لمحہ ہجر کبھی، نصیب ہی نہیں ہوا بدن سے مکالمہ میں، زندگی گذاری ہے
کمر کی یہ وادیاں، س
مزید »سید محمد زاہد21 مارچ 2025افسانہ17260
وہ سات برس کا ہو چکا تھا۔ اس کے بعد میرے تین بچے پیدا ہوئے۔ جب بھی بچہ میری کوکھ میں اپنی ٹانگیں پسارنے کی کوشش کرتا تو اس کی محبت کی قندیل اور روشن ہو جاتی۔ بہ
مزید »سید محمد زاہد14 مارچ 2025افسانہ8263
دھوئیں اور گرد و غبار کے بادل روزانہ ابھرتے آفتاب کی نقاب پوشی کرتے۔ دن بھر فضائے آسمانی پر یہی چھائے رہتے۔ شام کو دبیز دھویں کی سحابی فوج تحت الثریٰ کی طرف جات
مزید »سید محمد زاہد11 مارچ 2025افسانہ1335
(اس افسانہ میں شہزادہ آزاد بخت اور مکھی کے کردار انتظار حسین کے افسانہ "کایا کلپ" سے لیے گئے ہیں۔ The Frog Prince ایک جرمن کہانی ہے)۔
برسات کو کس نے سہانا موسم
مزید »سید محمد زاہد23 فروری 2025افسانہ3328
گڈ مارننگ!
اس نئی کلاس میں آپ کو خوش آمدید کہتا ہوں۔ میرے پڑھانے کا طریقہ روایتی ہے اور نہ ہی آپ سکول کے بچے کہ آپ کو قلم پکڑنا سکھایا جائے یا رٹے لگوائے جائیں
مزید »سید محمد زاہد06 فروری 2025افسانہ1255
موجوں کی روانی تھی یا کسی کمسن الہڑ حسینہ کی چال، بہتے پانی کی ہلکی ہلکی آواز تھی یا دوشیزاؤں کی پائل کی جھنکار جو مجھے مست کیے اپنی طرف کھینچ رہی تھی۔ سردیوں
مزید »سید محمد زاہد17 جنوری 2025افسانہ6265
"یہ کیسے ممکن ہے؟" کرسٹینا نے سوال کیا۔
نیلما سوچ میں پڑ گئی۔ کچھ دیر بعد بولی۔
"تحریک عوام میں مقبولیت حاصل کر چکی ہے لیکن ملک کے کرتا دھرتا ٹس سے مس نہیں ہو
مزید »سید محمد زاہد09 جنوری 2025افسانہ1264
"میرا دل اس کی طرف کھنچا چلا جا رہا تھا۔ وہ کتابوں میں کھویا تھا اور میں اس کے کتابی چہرے میں۔ گھبرو جوان پنجابی مرد، دراز قد، مضبوط ہاتھ پاؤں اور بڑی بڑی خمار
مزید »