محمد نسیم رنزوریار13 جولائی 2026کالمز0191
انسانی تاریخ گواہ ہے کہ جب کسی بھی معاشرے، ریاست یا بین الاقوامی نظام میں انصاف گونگا اور قانون اندھا ہو جائے، تو مظلوم کی فریاد محض ایک بے اثر آواز بن کر رہ جا
مزید »محمد نسیم رنزوریار09 جولائی 2026کالمز0150
انسان نے جب غاروں کی زندگی سے نکل کر تہذیب کی بستیوں میں قدم رکھا، تو اسی دن سے عمارتوں کی بناوٹ انسانوں کے مابین طبقاتی تقسیم کی سب سے بڑی علامت بن گئی۔ محل او
مزید »محمد نسیم رنزوریار07 جولائی 2026کالمز0194
سائبر جاسوسی اکیسویں صدی کا وہ خاموش مگر انتہائی خطرناک ہتھیار ہے جس نے دنیا کی سیاسی، عسکری، معاشی اور سائنسی قوتوں کے درمیان مقابلے کی نوعیت کو یکسر تبدیل کر
مزید »محمد نسیم رنزوریار03 جولائی 2026کالمز0126
انیسویں صدی میں برطانوی اور روسی سلطنتوں کے درمیان شروع ہونے والی جس جغرافیائی و سیاسی کشمکش کو "گریٹ گیم" کہا گیا، اس نے ایشیاء کو طاقتور ممالک کے مفادات کا می
مزید »محمد نسیم رنزوریار01 جولائی 2026کالمز070
جب تاریخ کے صفحات پر جبر، تکبر اور مضحکہ خیز حد تک پھیلی ہوئی انسانی خواہشات کا تذکرہ آتا ہے، تو ذہنِ انسانی میں سرفہرست یہی ضرب المثل ابھرتی ہے: "سوئی کے ناکے
مزید »محمد نسیم رنزوریار27 جون 2026کالمز0270
انسانی تاریخ کے اوراق جب اول دن سے آج تک پلٹے جاتے ہیں تو ایک ہی سچائی بار بار اپنی بازگشت چھوڑتی ہے کہ زمین ہمیشہ دو متضاد آوازوں کی گواہ رہی ہے، ایک مظلوم کی
مزید »محمد نسیم رنزوریار25 جون 2026کالمز0244
انسانی تہذیبوں کا عروج و زوال مادی ترقی اور اخلاقی پسماندگی کی کشمکش کا دوسرا نام ہے جسے ہم "ترقی کا رقص اور تہذیب کا زوال" کہہ سکتے ہیں۔ مادی ترقی جب اپنے عروج
مزید »محمد نسیم رنزوریار23 جون 2026کالمز0178
گزشتہ روز 20 جون کا سورج گلستان کی تاریخی سرزمین پر محض ایک نئے دن کا آغاز نہیں تھا بلکہ یہ خطے کی فکری، تعلیمی اور سماجی تاریخ کا وہ تاریخی مثالی ترین موڑ ثابت
مزید »محمد نسیم رنزوریار18 جون 2026کالمز0273
ہنس رہے ہیں آج جو شیشے کے محلوں میں مقیم
کل انہیں پتھر کی بستی میں گزارا دیکھنا
سرمایہ داری کے زرق برق جھولوں میں جھولتے یہ فلک بوس ایوان اور ان کے اندر مقیم
مزید »محمد نسیم رنزوریار15 جون 2026کالمز0184
سیاست اپنی اصل روح میں عوامی خدمت، اجتماعی فلاح اور قومی مفادات کے تحفظ کا نام ہے، مگر جب اقتدار ذاتی فائدے، مالی مفاد اور خاندانی اثرورسوخ کا ذریعہ بن جائے تو
مزید »