1. ہوم
  2. کالمز
  3. محمد نسیم رنزوریار
  4. ظالم کی چیخ اور مظلوم کا جشن

ظالم کی چیخ اور مظلوم کا جشن

انسانی تاریخ کے اوراق جب اول دن سے آج تک پلٹے جاتے ہیں تو ایک ہی سچائی بار بار اپنی بازگشت چھوڑتی ہے کہ زمین ہمیشہ دو متضاد آوازوں کی گواہ رہی ہے، ایک مظلوم کی چیخ اور دوسری ظالم کا جشن۔ یہ دونوں آوازیں صرف کسی ایک عہد یا خطے تک محدود نہیں رہیں بلکہ تہذیبوں کے عروج و زوال، سلطنتوں کے قیام و انہدام اور انسان کے اجتماعی شعور کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتی رہی ہیں۔

ابتداے آفرینش سے جب انسان نے اجتماعی زندگی کا آغاز کیا تو طاقت اور کمزوری کا فرق بھی ساتھ ہی جنم لے چکا تھا اور یہی فرق آگے چل کر ظلم و عدل کی بنیاد بنا۔ قدیم تہذیبوں میں مثلاً میسوپوٹیمیا، مصر اور وادی سندھ میں طاقتور طبقے نے وسائل اور اقتدار پر قبضہ جما لیا جبکہ عام انسان محنت اور مشقت کے باوجود محرومی کی زندگی گزارتا رہا، اس محرومی کے پس منظر میں جو چیخ ابھری وہ وقت کے دریا میں دب تو گئی مگر ختم نہ ہوئی۔ یونانی و رومی سلطنتوں میں غلامی کا نظام اس بات کی واضح مثال ہے جہاں انسان کو انسان نہ سمجھا گیا بلکہ محض ایک آلہ کار کے طور پر استعمال کیا گیا، غلام کی خاموش چیخیں ایوانوں کی سنگ مرمر دیواروں سے ٹکرا کر واپس آتی رہیں مگر جشنِ اقتدار میں انہیں سننے والا کوئی نہ تھا۔

قرون وسطیٰ میں جاگیرداری نظام نے ظلم کی ایک نئی شکل اختیار کی جہاں زمین چند ہاتھوں میں قید ہوگئی اور کسان اپنی ہی محنت کی پیداوار سے محروم ہو کر غربت کی چکی میں پستا رہا، اس دور میں ظالم کے محلوں میں جشن چراغاں کی صورت میں روشن رہتا جبکہ کھیتوں میں محنت کش کے چہرے پر پسینہ اور آنکھوں میں سوال رہتا تھا۔ جب صنعتی انقلاب آیا تو بظاہر ترقی کی نئی راہیں کھلیں مگر اس کے پس پردہ مزدور کی چیخ اور بھی بلند ہوگئی، کارخانوں کی مشینوں کے شور میں انسان کی فریاد دبنے لگی، بچوں اور عورتوں کی مشقت نے تہذیب کے چہرے پر سوالیہ نشان چھوڑ دیا اور سرمایہ دار طبقے کی دولت میں اضافہ ایک نئے جشن کی صورت میں ظاہر ہوا۔

نوآبادیاتی دور میں یہ ظلم اپنی انتہاء کو پہنچا جب ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے خطے سامراجی طاقتوں کے زیر نگیں آ گئے، وسائل کی لوٹ مار نے مقامی آبادی کو اپنی ہی زمین پر بے اختیار بنا دیا اور آزادی کی ہر کوشش کو طاقت کے ذریعے دبایا گیا، یہاں مظلوم کی چیخ صرف فرد کی نہیں بلکہ پوری قوم کی آواز بن گئی۔ بیسویں صدی کی عالمی جنگوں نے اس المیے کو مزید گہرا کیا جہاں کروڑوں انسان طاقت کی ہوس کی نذر ہو گئے اور ایٹمی تباہی نے یہ ثابت کیا کہ ظالم کا جشن وقتی ہوتا ہے مگر اس کے اثرات نسلوں تک چیخ کی صورت میں باقی رہتے ہیں۔

جدید دور میں اگرچہ انسانی حقوق، قانون اور عالمی اداروں کا نظام قائم ہوا مگر ظلم کی نئی شکلیں اب بھی موجود ہیں، کہیں غربت کی صورت میں، کہیں نسلی امتیاز کی شکل میں اور کہیں سیاسی جبر کے پردے میں، جبکہ دوسری طرف طاقتور ریاستیں اور مفاد پرست طبقات اپنی کامیابیوں کے جشن مناتے نظر آتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ تاریخ صرف واقعات کا مجموعہ نہیں بلکہ اخلاقی سبق کا ایک مسلسل دھارا ہے جو یہ بتاتا ہے کہ جب بھی طاقت نے عدل پر غلبہ حاصل کیا تو چیخیں بلند ہوئیں اور جب بھی عدل نے جگہ بنائی تو انسانی معاشرہ سکون کی طرف بڑھا۔

مظلوم کی چیخ دراصل ضمیرِ انسانیت کی آواز ہے جو وقت کے ساتھ دب تو سکتی ہے مگر ختم نہیں ہو سکتی اور ظالم کا جشن ایک ایسا عارضی منظر ہے جو اپنی ہی شدت میں زوال کا پیش خیمہ بن جاتا ہے۔ لہٰذا انسانی تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اصل کامیابی طاقت کے جشن میں نہیں بلکہ انصاف کے قیام میں ہے، کیونکہ جس معاشرے میں چیخیں کم اور سکون زیادہ ہو وہی حقیقی تہذیب کہلانے کا مستحق ہوتا ہے۔