1. ہوم
  2. کالمز
  3. محمد نسیم رنزوریار
  4. ترقی کا رقص اور تہذیب کا زوال

ترقی کا رقص اور تہذیب کا زوال

انسانی تہذیبوں کا عروج و زوال مادی ترقی اور اخلاقی پسماندگی کی کشمکش کا دوسرا نام ہے جسے ہم "ترقی کا رقص اور تہذیب کا زوال" کہہ سکتے ہیں۔ مادی ترقی جب اپنے عروج پر پہنچ کر رقص کرنے لگتی ہے تو اکثر اخلاقی قدریں، خاندانی نظام اور انسانی ہمدردی کے جذبات پسِ پشت چلے جاتے ہیں جو بالآخر کسی بھی عظیم تہذیب کے زوال کا پیش خیمہ ثابت ہوتے ہیں۔ رومن سلطنت سے لیکر عباسی دورِ حکومت تک تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی انسان نے مادی آسائشوں، فلک بوس عمارتوں اور معاشی غلبے کو ہی کل کائنات سمجھ لیا ہے، اسی لمحے سے اس کی اخلاقی گرواٹ کا آغاز ہوگیا ہے۔

ابنِ خلدون نے اپنے نظریہِ عمرانیات میں اسی نکتے کی وضاحت کی ہے کہ جب معاشرے عیش و عشرت اور حد سے بڑھی ہوئی مادی آسودگی میں مبتلا ہو جاتے ہیں تو ان کی اندرونی قوتِ مدافعت اور عصبیت ختم ہو جاتی ہے جس کے بعد زوال ان کا مقدر بن جاتا ہے۔ آج کا دور تکنیکی اور سائنسی لحاظ سے انسانی تاریخ کا سب سے ترقی یافتہ دور کہلا سکتا ہے جہاں آرٹیفیشل انٹیلیجنس، خلائی فتوحات اور ڈیجیٹلائزیشن نے زندگی کی رفتار کو غیر معمولی حد تک بڑھا دیا ہے۔ لیکن اس تیز رفتار مادی رقص کے پسِ پردہ اگر ہم عالمی تہذیب کا جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ انسانیت سنگین ترین فکری اور اخلاقی بحران سے گزر رہی ہے۔ جدید کارپوریٹ کلچر اور صارفیت نے انسان کو ایک مشین میں تبدیل کر دیا ہے جہاں رشتوں کی اہمیت، ذہنی سکون اور روحانی اقدار دم توڑ رہی ہیں۔

مغربی دنیا مادی طور پر جتنی مستحکم دکھائی دیتی ہے، وہاں خاندانی تنہائی، ڈپریشن اور خودکشیوں کی شرح اتنی ہی بلند ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ محض مادی ترقی روح کا خلا پر نہیں کر سکتی۔ اگر اس تناظر کو موجودہ پاکستان کے حالات کے ساتھ جوڑ کر دیکھا جائے تو یہ حقیقت مزید واضح ہو کر سامنے آتی ہے۔ پاکستان اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں مادی جدیدیت کی اندھی تقلید اور اپنی اصل تہذیبی بنیادوں سے دوری نے معاشرے کو فکری انتشار میں مبتلا کر دیا ہے۔

ہماری اشرافیہ اور نوجوان نسل مغربی طرزِ زندگی اور مادی چمک دمک کے سحر میں مبتلا ہو کر اپنی پانچ ہزار سالہ قدیم تہذیبی و اخلاقی اقدار، جڑت اور رواداری کو فراموش کر رہی ہے۔ شہروں میں بڑی بڑی ہاؤسنگ سوسائٹیاں، شاپنگ مالز اور مہنگی گاڑیوں کا بڑھتا ہوا رجحان مادی ترقی کے رقص کو تو ظاہر کرتا ہے لیکن دوسری طرف بڑھتی ہوئی سماجی تفریق، عدم برداشت، کرپشن اور قانون شکنی یہ بتاتی ہے کہ ہمارا سماجی اور تہذیبی ڈھانچہ تیزی سے بکھر رہا ہے۔ عالمی سطح پر معاشی طاقت کا توازن بدل رہا ہے اور پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک قرضوں کے بوجھ، سیاسی عدم استحکام اور فکری بحران کی وجہ سے اس ترقی کے رقص میں شامل ہونے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔

ہم نے مغرب سے ٹیکنالوجی تو ادھار لے لی لیکن وہ قانون کی حکمرانی، سماجی انصاف اور ڈسپلن نہ اپنا سکے جو کسی تہذیب کو زندہ رکھتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ہم نہ تو پوری طرح مادی طور پر ترقی یافتہ بن سکے اور نہ ہی اپنی اخلاقی اور ثقافتی شناخت کو برقرار رکھ پائے۔ پبلک ٹرانسپورٹ، ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں کی بدحالی اس بات کا مظہر ہے کہ عمارتیں تو جدید ہو رہی ہیں مگر انسانی رویے اور شہری شعور زوال پذیر ہیں۔ تہذیب کا زوال اس وقت یقینی ہو جاتا ہے جب معاشرے میں سچائی، دیانت داری اور انصاف جیسے ستون کمزور پڑ جائیں۔ موجودہ دور کا سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ ہم مادی ترقی کی رفتار کو روکے بغیر اپنی اخلاقی اور تہذیبی اقدار کو کیسے بچائیں۔

دنیا اور پاکستان دونوں کو اس وقت ایک ایسے معاہدے کی ضرورت ہے جہاں ترقی کا مقصد صرف سرمایہ بنانا نہ ہو بلکہ انسان سازی ہو۔ اگر ہم نے اب بھی اپنے تعلیمی نظام، خاندانی نظام اور فکری رویوں کی اصلاح نہ کی تو مادی ترقی کا یہ رقص بالآخر ایک ایسے عالمی اور قومی زوال پر ختم ہوگا جس کے ملبے سے دوبارہ اٹھنا تاریخ کے کسی بھی معاشرے کیلئے ممکن نہیں رہا ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم مادی عروج اور اخلاقی اقدار کے درمیان ایک متوازن راستہ تلاش کریں تاکہ تہذیب زندہ رہ سکے۔